ٹرمپ ایران، یوکرین اور غزہ میں بیک وقت بحرانوں کا شکار، امریکی خارجہ پالیسی تعطل کا شکار: نیویارک ٹائمز

تنازعات

?️

سچ خبریں:نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران، یوکرین اور غزہ کے تنازعات میں بیک وقت ڈیڈلاک کا سامنا کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں امریکی خارجہ پالیسی کی ناکامی اور عالمی سطح پر بڑھتی پیچیدگیوں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو انتخابی مہم کے دوران جنگوں کے خاتمے اور عالمی بحرانوں کے فوری حل کے وعدوں کے ساتھ دوبارہ اقتدار میں آئے تھے، اب ایران، یوکرین اور غزہ جیسے تین بڑے محاذوں پر پیچیدہ سفارتی اور سلامتی بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت کی خارجہ پالیسی ان تینوں تنازعات میں کسی واضح پیش رفت کے بغیر تعطل کا شکار ہے، جس سے واشنگٹن کی عالمی سطح پر مؤثر مداخلت کی صلاحیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے معاملے میں ٹرمپ انتظامیہ نے ابتدا میں سخت گیر اور جارحانہ پالیسی اختیار کی، جس کے نتیجے میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ تاہم طویل کشیدگی، سیاسی دباؤ اور معاشی اخراجات کے بعد اب واشنگٹن ایک محدود نوعیت کے معاہدے کی تلاش میں ہے۔ اس کے باوجود فریقین اپنے بنیادی مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، جس کے باعث صورتحال نہ مکمل جنگ ہے اور نہ ہی پائیدار امن۔

ایران کے بارے میں ایک حالیہ انٹرویو میں ٹرمپ نے متضاد مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایران میں نہیں ہونا چاہیے تھا، جو ان کے سابقہ دعوؤں کے برعکس ہے جن میں وہ ایران کے خلاف سخت اقدامات کا دفاع کرتے رہے تھے۔

یوکرین کے محاذ پر بھی صورتحال مختلف نہیں۔ ٹرمپ نے انتخابی مہم میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کو فوری طور پر ختم کر سکتے ہیں، لیکن اقتدار میں واپسی کے بعد یہ تنازع مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔

ماسکو اور کیف کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار ہیں جبکہ یورپ اور نیٹو کی سلامتی تشویشات نے بھی سفارتی حل کو مشکل بنا دیا ہے۔ ساتھ ہی امریکی توجہ کا بڑا حصہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کی طرف منتقل ہونے سے یوکرین بحران پر پیش رفت مزید سست ہو گئی ہے۔

غزہ کے معاملے میں بھی امریکی کوششیں بار بار ناکام ہوئی ہیں۔ اگرچہ واشنگٹن نے مختلف جنگ بندی منصوبوں کی حمایت کی ہے، لیکن اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات کئی بار تعطل کا شکار ہوئے ہیں۔ قیدیوں کی رہائی، غزہ کے انتظامی ڈھانچے اور صیہونی افواج کے انخلا جیسے بنیادی مسائل اب تک حل نہیں ہو سکے، جس کے باعث مستقل امن کا امکان غیر یقینی ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ وہ اکثر زیادہ بڑے اور بلند و بانگ اہداف مقرر کرتی ہے، لیکن عملی سطح پر ان کا حصول مشکل ثابت ہوتا ہے۔ ایران، یوکرین اور غزہ تینوں محاذوں پر فریقین کے درمیان گہرے اختلافات موجود ہیں، جو کسی بھی فوری حل کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تعطل اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ کی عالمی اثر و رسوخ کی صلاحیت محدود ہو چکی ہے، اور اب دنیا کے مختلف خطوں میں موجود طاقتیں واشنگٹن کے فیصلوں پر پہلے کی نسبت کم انحصار کرتی ہیں۔

اس وقت امریکی خارجہ پالیسی ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں ایران سے مذاکرات، یوکرین جنگ کا انجام اور غزہ کا مستقبل نہ صرف خطے کی سیاست بلکہ خود امریکہ کی عالمی حیثیت اور ٹرمپ کی سیاسی میراث کے لیے بھی فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

شہید ابو علی کی زندگی اور قیادت؛ اپنے فیلڈ رول سے لے کر رضوان یونٹ کے قیام میں مدد تک

?️ 24 نومبر 2025سچ خبریں: شہید ابو علی نے ایک مدت کے لیے اسلامی مزاحمتی

ٹرمپ مردوں کے یو ایس اوپن ٹینس میچ دیکھتے ہوئے شائقین کی شدید تنقید کا نشانہ بن گئے

?️ 8 ستمبر 2025ٹرمپ مردوں کے یو ایس اوپن ٹینس میچ دیکھتے ہوئے شائقین کی

پاک برطانیہ علاقائی استحکام کانفرنس، دو طرفہ دفاعی تعلقات کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال

?️ 1 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) نیشنل ڈیفینس یونورسٹی میں پاک برطانیہ علاقائی استحکام

مادورو کا ردِعمل نہ جنگ، نہ سی آئی اے کی بغاوت

?️ 16 اکتوبر 2025 مادورو کا ردِعمل نہ جنگ، نہ سی آئی اے کی بغاوت

اختر مینگل ریڈ زون میں دھرنا دینے پر بضد ہیں لیکن ان کو اجازت نہیں دیں گے، ترجمان بلوچستان حکومت

?️ 5 اپریل 2025کوئٹہ: (سچ خبریں) بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی

نیٹو کی دھمکیوں نے روس کو یوکرین پر حملہ کرنے پر اکسایا: چین

?️ 30 مئی 2022سچ خبریں:ایک چینی سفارت کار نے کہا کہ بیجنگ کے نقطہ نظر

پاکستان کا بھارتی جاسوس کے بارے میں اہم فیصلہ، اہلخانہ نے پاکستان کے اقدام کو خوش آئند قرار دے دیا

?️ 13 جون 2021نئی دہلی (سچ خبریں) پاکستان نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے بارے

انسانی ہاتھوں کے ’فنگر پرنٹس‘ مختلف نہیں ہیں، مصنوعی ذہانت کا دعویٰ

?️ 14 جنوری 2024سچ خبریں: سائنسدان، محققین اور عام انسان برسوں سے یہی مانتے آئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے