?️
کابل (سچ خبریں) یورپی یونین نے بڑا دعویٰ کرتے ہوے کہا ہے کہ طالبان آئے دن افغانستان کے بڑے بڑے علاقوں پر قبضہ کررہے ہیں اور اب انہوں نے ملک کے 65 فیصد حصے پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے علاقائی طاقتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کی حکومت کا ساتھ دیں جبکہ اقوام متحدہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ 20 سالوں میں انسانی حقوق کے سلسلے میں جو پیش رفت ہوئی تھی وہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
دارالحکومت کابل میں اشرف غنی کے ساتھیوں نے کہا کہ وہ علاقائی ملیشیاؤں سے مدد مانگ رہے ہیں جن کی مدد سے وہ کئی برسوں سے اپنی حکومت قائم رکھنے کی جدوجہد کررہے ہیں جبکہ عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ افغانستان کے جمہوری تشخص کا دفاع کریں۔
مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ شمالی قصبے مزار شریف اور کابل کے درمیان مرکزی سڑک پر صوبہ سمنگان کے دارالحکومت ایبک کے قصبے میں طالبان اپنا کنٹرول مضبوط تر کر رہے ہیں اور سرکاری عمارتوں میں منتقل ہو رہے ہیں، اس دوران زیادہ تر حکومتی سیکیورٹی فورسز پیچھے ہٹتی دکھائی دے رہی ہیں۔
ایبک میں رہائش کے لیے حالات کے بارے میں پوچھے جانے پر صوبائی ٹیکس آفیسر شیر محمد عباس نے کہا واحد راستہ خود ساختہ نظربندی یا کابل کی راہ لینا ہے، نو افراد کے خاندان کے واحد کفیل شیر محمد عباس نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ اب کابل میں بھی کوئی محفوظ آپشن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ طالبان ان کے دفتر پہنچے اور کارکنوں کو گھر جانے کو کہا لیکن منگل کو کسی قسم کی لڑائی دیکھی نہ سنی۔
برسوں سے شمالی علاقہ جات ملک کا سب سے پرامن حصہ تصور کیے جاتے تھے لیکن طالبان کی حکمت عملی سے ایسا محسس ہوتا ہے کہ وہ وہ شمال کے ساتھ ساتھ شمال، مغرب اور جنوب میں اہم سرحدی گزرگاہوں پر بھی قبضہ کر کے کابل پر دباؤ بنانا چاہتے ہیں۔
امریکا کی حمایت یافتہ حکومت کو شکست دینے لیے لڑنے والے طالبان کو ایبک میں معمولی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
یورپی یونین کے ایک سینئر عہدیدار نے منگل کو بتایا کہ طالبان اب 65 فیصد افغان سرزمین پر قابض ہیں، 11 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کرنے کی دھمکی دے رہی ہیں اور کابل کو شمال میں موجو قومی افواج کی روایتی حمایت سے محروم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حکومت نے ان دیہی آبادیوں سے اپنی فوج واپس بلالی ہے جن کا دفاع ممکن نہیں اور اس کے بجائے زیادہ آبادی والے علاقوں کے دفاع پر توجہ دی جا رہی ہے۔
امریکا سرکاری فوج کی حمایت میں فضائی حملے کرتا رہا ہے لیکن پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے پیر کو کہا ہے کہ اپنے ملک کی حفاظت کرنا افغان فوج کا کام ہے، یہ ان کی جدوجہد ہے۔
واضح رہے کہ طالبان اور سرکاری حکام نے تصدیق کی ہے کہ طلابان نے حالیہ دنوں میں شمال، مغرب اور جنوب میں چھ صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا ہے۔


مشہور خبریں۔
اقوام متحدہ پاکستان کے سیلاب متاثرین کیلئے 16کروڑ ڈالر امداد کی اپیل کرے گی
?️ 27 اگست 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)اقوام متحدہ منگل کو پاکستان میں مون سون کی
اگست
اردوغان نے ترک انتخابات کے انعقاد کے حکم نامے پر دستخط کئے
?️ 16 مارچ 2023سچ خبریں:ترکی میں گزشتہ ماہ آنے والے تباہ کن زلزلے کے باوجود
مارچ
جی ایچ کیو میں یوم دفاع اور شہدا کی پُروقار تقریب
?️ 23 نومبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کچھ دیر بعد
نومبر
نایاب الیکشن میں پاکستان اور بھارت کا ایک دوسرے کے حق میں ووٹ
?️ 20 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان 6 جون کو 8ویں مرتبہ سلامتی کونسل
مئی
یورپ 10 ہزار دہشت گردوں کو واپس لے
?️ 24 فروری 2022سچ خبریں: عراق کے قومی سلامتی کے مشیر قاسم العراجی نے بدھ
فروری
ہم امریکی منصوبے کے تمام پہلوؤں سے متفق نہیں ہیں: زلنسکی
?️ 19 دسمبر 2025سچ خبریں: یوکرین کے صدر وولودیمیر زلنسکی نے جمعرات کے روز یورپی یونین
دسمبر
نوازشریف حکومت سازش سے ختم کی گئی، پی ٹی آئی مکافاتِ عمل کا شکار ہے۔ ایاز صادق
?️ 13 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا ہے
جولائی
صہیونیوں کا ڈراؤنا خواب جاری/ بیت المقدس میں صیہونی مخالف کارروائی
?️ 28 جنوری 2023سچ خبریں:فلسطینی میڈیا نے مقبوضہ بیت المقدس میں واقع سیلوان قصبے میں
جنوری