?️
نئی دہلی (سچ خبریں) افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کو لے کر بھارت میں شدید کھلبلی مچ گئی ہے اور بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف نے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد خطے کے حالات میں کشیدگی آئے گی۔
تفصیلات کے مطابق بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف بیپن راوت نے کہا ہے کہ بھارت کو امریکا اور نیٹو افواج کے افغانستان سے مجوزہ انخلا کے بعد پیدا ہونے والے خلا کے حوالے سے تحفظات ہیں۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق جنرل بیپن راوت نے ایک سیکیورٹی کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پریشان کن بات یہ ہے کہ افغانستان سے امریکا اور غیر ملکی افواج کے بعد پیدا ہونے والے خلا کی جگہ شرپسند عناصر لے سکتے ہیں البتہ انہوں نے ایسے کسی ملک کا نام لینے سے گریز کیا جو ان کے خیال میں صورتحال کا فائدہ اٹھا کر ماحول کو بگاڑ سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے بدھ کے روز طویل ترین امریکی جنگ کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یکم مئی سے امریکی فوجیوں کے افغانستان سے انخلا کا عمل شروع ہو جائے گا۔
امریکی صدر نے امریکی فوج کی مزید موجودگی کے مطالبے کو مسترد کیا، جہاں مقامی افغان حکومت سمیت چند ماہرین کا ماننا ہے کہ غیرملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں امن و امان کی صورتحال پر سوالیہ نشان لگ جائے گا اور قیام امن کے لیے غیرملکی افواج کی موجودگی ضروری ہے۔
بپن راوت نے کہا کہ ہمیں خدشہ یہ ہے کہ امریکا اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں جو خلا پیدا ہو گا تو شرپسند عناصر اس کا فائدہ نہ اٹھائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو سب سے بڑا خدشہ غیرملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں عدم استحکام کا ہے جو مقبوضہ کشمیر تک پھیل سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ پاکستان، طالبان کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کی بدولت افغانستان میں بڑا فائدہ حاصل کر سکتا ہے اور توقع ہے کہ امریکی انخلا کے بعد وہ اہم کردار ادا کرے۔
بپن راوت نے مزید کہا کہ بہت سارے لوگ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کے لیے کوشاں ہیں، بیپن راوت نے کہا کہ ہندوستان امن کے قیام کے لیے افغانستان کو مزید مدد فراہم کرنے پر خوش ہو گا۔
قابل ذکر ہے کہ 2001 میں طالبان کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد بھارت نے افغانستان میں سڑکوں کا جال بچھانے، بجلی گھروں اور یہاں تک کہ اس کی پارلیمنٹ پر 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔
واضح رہے کہ افغانستان سے انخلا کا اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ پچھلی ایک دہائی کے دوران افغانستان میں امریکی مقاصد انتہائی غیر واضح ہو گئے تھے۔


مشہور خبریں۔
امریکہ کو OPEC+ کے متبادل ذرائع کی تلاش
?️ 9 اکتوبر 2022سچ خبریں:ریاستہائے متحدہ کے صدر نے اعلان کیا کہ ان کا ملک
اکتوبر
بلوچستان مارچ اور لاپتا افراد کا مسئلہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، ترجمان دفتر خارجہ
?️ 28 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) ترجمان دفترخارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا ہے
دسمبر
مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج کو بلٹ پروف گاڑیوں سے لیس کیاجائیگا
?️ 2 جنوری 2024جموں: (سچ خبریں) مودی کی زیر قیادت بھارتی حکومت مقبوضہ جموں و
جنوری
سینٹ کا الوداعی اجلاس 19 فروری کو طلب
?️ 18 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سینٹ کا اجلاس 19
فروری
برطانوی اسپیشل فورسز کی 11 اسلامی ممالک میں خفیہ مداخلت
?️ 24 مئی 2023سچ خبریں:دی گارڈین نے ایک خصوصی خبر میں بتایا ہے کہ برطانوی
مئی
مجھے 3 سال تک خاموش بیٹھنے کی ڈیل آفر ہوئی، عمران خان
?️ 3 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے کہا ہے
فروری
یورپ میں معاشی سست روی کی وجہ سے اقتصادی ترقی رک گئی
?️ 25 اگست 2025یورپ میں معاشی سست روی کی وجہ سے اقتصادی ترقی رک گئی
اگست
خان یونس میں پناہ گزین خیموں پر حملہ، 18 سالہ فلسطینی لڑکی شہید
?️ 5 جون 2026سچ خبریں:غزہ کے جنوبی شہر خان یونس میں اصیہونی ہیلی کاپٹروں کے
جون