افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا معاملہ، جو بائیڈن نے نیا بیان جاری کردیا

افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا معاملہ، جو بائیڈن نے نیا بیان جاری کردیا

?️

واشنگٹن (سچ خبریں) امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے معاملے کو لے کر ایک نیا بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ افغاستان سے اپنی افواج کے نکالنے کو لے کر کیئے گئے وعدے پر عمل نہیں کرسکتا، اس لیئے ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ امریکی افواج کب تک افغانستان سے نکلیں گی۔

تفصیلات کے مطابق بیس جنوری کو اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں جو بائیڈن نے کہا کہ حکمت عملی سے متعلق پیچیدگیوں کی وجہ سے یکم مئی کی آخری تاریخ کو پورا کرنا مشکل ہو گا، فوجیوں کا انخلا مشکل ہے۔

البتہ انہوں نے اس بات کا اعلان ضرور کیا کہ امریکہ اب زیادہ دیر تک افغانستان میں نہیں رہ سکتا اسے جانا ہوگا لیکن کب جانا ہے اس بارے میں انہوں نے کہا کہ ہم چلے جائیں گے، سوال یہ ہے کہ ہم کب روانہ ہوں گے۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کہ کیا وہ 2022 میں امریکی فوجیوں کو افغانستان میں دیکھتے ہیں تو امریکی صدر نے کہا کہ میں یہ نہیں دیکھا سکتا کہ ایسا کوئی معاملہ ہو۔

جو بائیڈن نے اپنے دفتر میں 100 روز کے دوران امریکا میں کووڈ 19 کے خلا 20 کروڑ ویکسینیشن کے انعقاد کا ایک نیا مقصد طے کیا اور عہدے سنبھالنے کے بعد انہوں نے اپنی پہلی اکیلے نیوز کانفرنس کے انعقاد کے بعد معاشی ترقی کا دعوٰی کیا۔

وائٹ ہاؤس کے مشرقی کمرے میں پیش ہوتے ہوئے جو بائیڈن نے کہا کہ انہوں نے دفتر سنبھالنے کے 100 روز میں 10 کروڑ ویکسینیشن کا ابتدائی ہدف گزشتہ ہفتے شیڈول سے 42 دن پہلے ہی حاصل کرلیا تھا۔

جو بائیڈن نے کہا کہ ‘میں جانتا ہوں کہ یہ مشکل ہے اور جو ہمارا اصلی ہدف تھا اس سے دو گنا زیادہ ہے تاہم دنیا کا کوئی دوسرا ملک اس کے قریب بھی نہیں آیا’۔

انہوں نے اس خبر کے ساتھ معاشی ترقی کا بھی دعوی کیا کہ بے روزگاری انشورنس کا دعویٰ کرنے والوں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھی بھی بہت سارے امریکی کام نہیں کر رہے ہیں، بہت سارے خاندانوں کو تکلیف پہنچ رہی ہے اور ابھی بہت کام کرنا باقی ہے تاہم میں امریکی عوام سے کہہ سکتا ہوں، آپ کی مدد کی جائے گی اور امید بھی نظر آرہی ہے۔

جو بائیڈن نے امریکی کانگریس میں ریپبلکنز سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ایجنڈے کے ساتھ آگے بڑھنے یا تقسیم کی سیاست کو جاری رکھنے میں مدد کریں کیونکہ وہ بندوقوں کے کنٹرول، ماحولیاتی تبدیلی اور امیگریشن اصلاحات جیسے امور پر غور کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ مجھے مسائل حل کرنے کے لیے رکھا گیا ہے، نہ کہ تفرقہ پیدا کرنے کے لیے۔

مشہور خبریں۔

سینیٹ میں اپوزیشن اراکین کا احتجاج، شور شرابہ، اجلاس ملتوی

?️ 7 جون 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سینیٹ اجلاس میں سینیٹر پلوشہ خان کے بطور

دہشت گردانہ حملوں میں افغانستان دنیا میں سرفہرست

?️ 9 مارچ 2022سچ خبریں:افغانستان مسلسل تیسرے سال گلوبل ٹیررازم انڈیکس میں سرفہرست ہے جبکہ

چین ، روس اور پاکستان کے نمائندوں کی طالبان حکام سے ملاقات

?️ 23 ستمبر 2021سچ خبریں:چین ، روس اور پاکستان کے نمائندوں نے طالبان کی عبوری

غزہ میں رہائشی بلند عمارتیں اسرائیلی فضائی حملوں کا ہدف پھر بھی لوگ شہر نہیں چھوڑ رہے

?️ 14 ستمبر 2025غزہ میں رہائشی بلند عمارتیں اسرائیلی فضائی حملوں کا ہدف پھر بھی

بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں جمہوری اقدار کا خون کیا ہے: بزدار

?️ 15 اگست 2021لاہور (سچ خبریں)وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ دنیا میں

حکومتی اور دفاعی اداروں پر بھارتی سائبر حملوں کا خدشہ، ایڈوائزری جاری

?️ 10 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومتی اور دفاعی اداروں پر بھارتی سائبر حملوں

دنیا کے ممالک اور عالمی اداروں سے ایران کی اپیل

?️ 15 مئی 2021سچ خبریں:ایران نے یوم النکبہ کی مناسبت سے ایک بیان جاری کرتے

ایک ماہ میں امریکی بحریہ کے 3 ملاحوں کی خودکشی

?️ 23 نومبر 2022سچ خبریں:پینٹاگون کے لیے ایک نئے چیلنج میں، ایک ماہ میں امریکی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے