?️
سچ خبریں:ثابت مرداوی، جو اپنی کم عمری میں ہی اسرائیلی قبضے کے خلاف مزاحمت میں شامل ہو گیا تھا، جہاد اسلامی تحریک کے عسکری کمانڈروں میں شامل تھا اور مغربی کنارے میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف سرگرم مرکزی مزاحمتی شخصیات میں سے ایک تھا، اسے 21 مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی، لیکن بالآخر غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت 25 جنوری 2025 کو رہا کر دیا گیا۔
ابتدائی زندگی اور مزاحمت کا آغاز
1976 میں جنین کے علاقے عرابہ میں پیدا ہونے والے ثابت مرداوی نے اپنی ابتدائی تعلیم مقامی اسکولوں میں مکمل کی، تاہم صیہونی ریاست کے مسلسل حملوں اور مزاحمتی سرگرمیوں میں شمولیت کے باعث اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکے،وہ انتفاضہ الاقصیٰ (2000) کے دوران جہاد اسلامی کی عسکری شاخ سرایا القدس کے اہم کمانڈروں میں شامل ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: جہاد اسلامی دہشت گردی کے چیلنج سے کیسے چھٹکارا پا سکتی ہے؟
زندگی بھر تعاقب اور اسرائیلی حملوں کی زد میں
ثابت مرداوی کی اسرائیل کے خلاف کارروائیوں کے باعث وہ مسلسل صیہونی ریاست کی ہٹ لسٹ پر رہے۔
– 1994 میں پہلی بار گرفتار کیا گیا اور 4 سال جیل میں گزارے، جہاں ان کی ملاقات جہاد اسلامی کے مرکزی رہنماؤں سے ہوئی۔
– 2000 میں رہائی کے بعد، وہ جہاد اسلامی کے مغربی کنارے میں عسکری آپریشنز کے نگران بن گئے۔
– 2001 اور 2002 میں اسرائیلی فوج کے خلاف کئی بڑی کارروائیاں کیں، جس کے بعد انہیں خطروں سے بھرپور مزاحمتی شخصیت کے طور پر دیکھا جانے لگا۔
جنین کی جنگ اور 21 مرتبہ عمر قید کی سزا
2002 میں جب جنین کی جنگ میں مزاحمت کاروں نے اسرائیلی فوج کے خلاف زبردست دفاع کیا، تو ثابت مرداوی دو بار زخمی ہوئے لیکن میدان نہیں چھوڑا۔
– اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں نے انہیں "جنین کا خطرناک ترین جنگجو” قرار دیا اور اسے اپریل 2002 میں گرفتار کر لیا گیا۔
– عدالت نے انہیں 21 مرتبہ عمر قید اور اضافی 40 سال قید کی سزا سنائی، جس کی وجہ اسرائیل کے خلاف ان کی شہادت پسندانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور قیادت تھی۔
– جیل میں بھی وہ جہاد اسلامی کے مرکزی نظریاتی رہنما کے طور پر نمایاں رہے اور فلسطینی قیدیوں کے مزاحمتی نظریے کو تقویت بخشتے رہے۔
انفرادی قید، اسرائیلی جیلوں میں اذیتیں اور فکری جدوجہد
ثابت مرداوی کو اسرائیلی حکام نے سالہا سال قیدِ تنہائی میں رکھا اور 2014 میں انہیں شطہ جیل میں ایک خفیہ سرنگ کھودنے کے الزام میں سخت ترین سزائیں دی گئیں۔
مزید پڑھیں:جہاد اسلامی کے کمانڈروں کی شہادت موبائل فون کی وجہ سے ہوئی:زیاد النخالہ
– انہوں نے قید کے دوران متعدد کتابیں لکھیں، جن میں جنین کی جنگ کی مستند دستاویزات شامل ہیں۔
– قرآن کریم مکمل طور پر حفظ کیا اور جیل میں فلسطینی قیدیوں کے لیے فکری رہنما کا کردار ادا کیا۔
حماس-اسرائیل قیدیوں کے تبادلے میں آخری لمحے پر رہائی
اسرائیلی حکومت نے ہمیشہ ان کی رہائی کی مخالفت کی، کیونکہ انہیں اسرائیل کے لیے "ناقابل معافی دشمن” سمجھا جاتا تھا۔ تاہم، 25 جنوری 2025 کو، غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت، وہ 22 سال کی قید کے بعد رہا ہوئے۔
نتیجہ:
فلسطینی مزاحمت کی ایک زندہ علامت
ثابت مرداوی کی زندگی فلسطینی مزاحمت کا ایک غیر متزلزل باب ہے۔
– انہیں نے ثابت کر دیا کہ اسرائیلی قید خانے مزاحمت کا جذبہ نہیں توڑ سکتے۔
– ان کی رہائی اسرائیلی ریاست کی کمزوری اور فلسطینیوں کی استقامت کا ثبوت ہے۔
– یہ واقعہ فلسطینی عوام کے لیے ایک نئی امید اور اسرائیل کے لیے ایک نئی شکست بن کر سامنے آیا۔


مشہور خبریں۔
قرض کی ری اسٹرکچرنگ ’انتہائی مشکل‘ ہوگی، سابق گورنر اسٹیٹ بینک
?️ 5 اپریل 2023کراچی: (سچ خبریں) اسٹیٹ بینک کے سابق گورنر ڈاکٹر رضا باقر نے
اپریل
یوکرینی فوج کو اسلحہ کے ساتھ ساتھ اور کیا فراہم کیا جا رہا ہے؟
?️ 12 جولائی 2023سچ خبریں: یوکرین سے رہا ہونے والے روسی قیدیوں میں سے ایک
جولائی
قطر گیٹ کیس کی نئی تفصیلات کا انکشاف
?️ 2 اپریل 2025سچ خبریں: کیلکالسٹ اخبار کی رپورٹ کے مطابق عدالت کی جانب سے یوناٹا
اپریل
کورونا ویکسین لگوانے پر عفت عمر کی معذرت
?️ 7 اپریل 2021کراچی(سچ خبریں)پاکستان کی سینئر اداکارہ عفت عمر نے اثر و رسوخ استعمال
اپریل
وزیراعظم کی منیجنگ ڈائریکٹر آئی ایم ایف سے ملاقات، فنڈ کے اجرا پر گفتگو
?️ 22 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) نئے عالمی مالیاتی معاہدے کے لیے فرانس میں منعقد
جون
مصری خفیہ ایجنسی کے سربراہ وزارت خارجہ سے بھی اوپر
?️ 25 جون 2021سچ خبریں:مصر کے انٹلی جنس چیف نے حال ہی میں مصر کی
جون
اگر میں ہوتا تو روس کے ساتھ کیا کرتا؟ ٹرمپ کا بیان
?️ 1 جون 2024سابق امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے حامیوں کے درمیان
جون
کتابیں علم کا خزانہ ہیں ، علم ہمیں برداشت اور بردباری کا سبق دیتا ہے، صدر مملکت
?️ 2 مارچ 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ کتابیں
مارچ