?️
سچ خبریں:غزہ سے صیہونی فوجی انخلا کے بعد غزہ میں ایسے گروہ فعال ہو گئے جنہیں صیہونی حکومت نے پہلے مسلح کیا تھا، تاہم مقامی سیکیورٹی فورسز نے انہیں کیفر کردار تک پہنچا دیا۔
جیسے ہی صیہونی قابض فوج غزہ پٹی کے کچھ علاقوں سے پیچھے ہٹی، ایک نیا بحران سامنے آیا، وہ جرائم پیشہ گروہ جو پہلے سے صیہونی انٹیلیجنس کے ذریعے منظم، تربیت یافتہ اور مسلح کیے گئے تھے، قابضوں کے جانے کے بعد سماجی بم کی طرح پھٹنے لگے۔
تاہم، غزہ کی سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کی، ان گروہوں کے ارکان کو تعاقب میں لے کر جاسوسی، بدامنی، شہریوں کے قتل اور انسانی امداد کی چوری کے الزامات میں گرفتار کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:جنگ بندی کے بعد غزہ کی پٹی میں جاسوسوں کو پھنسانے کے لیے وسیع مزاحمتی کارروائیاں
اس واقعے پر امریکہ کے صدر کے ابتدائی ردعمل اور بعد میں مؤقف کی تبدیلی کے علاوہ خود صہیونی حکومت کے اندر اس خدشے پر اختلافات سامنے آئے کہ کہیں صیہونی ہتھیار انہیں گروہوں کے ہاتھ سے مزاحمتی قوتوں تک نہ پہنچ جائیں۔
اس دوران بعض مغربی میڈیا اداروں نے حقیقت کو مسخ کر کے، مزاحمتی تحریک کی اس کاروائی کو خانہ جنگہ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا،مگر تجزیہ کاروں نے یاد دلایا کہ یہی میڈیا صیہونی قتلِ عام اور نسل کشی پر خاموش رہا اور اب ان کے بیانیے صرف اشغالگری کے مفاد میں ہیں۔
تاریخ بتاتی ہے کہ جب کوئی سامراجی طاقت کسی علاقے پر قبضہ کرتی ہے، تو وہ عوام ہی میں سے اپنے وفادار گروہ تیار کرتی ہے۔
ان گروہوں کو مالی، عسکری اور معلوماتی مدد دے کر سامراج اپنی فوجی لاگت کم کرتا ہے، تاکہ اس کے سپاہیوں کا براہِ راست عوام سے سامنا نہ ہو۔
یہ گروہ، قبائلی یا مذہبی وابستگیوں کی بنیاد پر معاشرے میں تفریق اور داخلی تنازعے کے بیج بوتے ہیں، تاکہ قابض کے جانے کے بعد بھی ملک میں بدامنی برقرار رہے۔
سامراج کے جدید ماڈل میں، فوجی قبضے سے پہلے نفسیاتی و سماجی نفوذ کا مرحلہ ہوتا ہے؛ حکومتوں کی ساکھ کمزور کی جاتی ہے، عوامی بےچینی بڑھائی جاتی ہے، اور خود کو عوام کے حامی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
قبضے کے بعد یہ قوتیں جعلی حکومتیں، پارٹیاں، پولیس، اور حتیٰ کہ مصنوعی اپوزیشن بنا کر قابض نظام کو قانونی شکل دیتی ہیں۔
تاریخ کے کسی باب میں، قابضین کے مقامی ایجنٹوں نے اپنے عوام کے انتقام سے نجات نہیں پائی۔
قبضہ ختم ہوتے ہی قابض فوج اپنے ہی بنائے ہوئے کارندوں کو تنہا چھوڑ دیتی ہے، جیسے پرانے ہتھیاروں کو جنگ کے میدان میں پھینک دیا جائے۔
آزادی کے بعد مقامی مزاحمتی تحریکیں ہمیشہ ان نیٹ ورکس کو تحلیل کر کے ان کے اراکین کا حساب کتاب لیتی آئی ہیں۔
مرکز اطلاعرسانی فلسطین کے مطابق، غزہ میں قابض فوج کے انخلا کے بعد مقامی حکومت نے لبنان کے جنوبی علاقے کے تجربے کی پیروی کی جہاں اسرائیل کے لیے لڑنے والے جنوبی لبنان آرمی کے کارندوں کا یہی انجام ہوا تھا۔
مزید پڑھیں:نیتن یاہو کا غزہ میں مسلح دہشتگردوں اور صہیونی ایجنٹوں کا سہارا
خانہ جنگی کے جھوٹے دعووں کے مقابلے میں، فلسطینی قبائل اور ممتاز خاندانوں نے مشترکہ بیانات میں ان عناصر سے براءت کا اعلان کیا اور سکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فتنہ کے بیج کو مکمل طور پر ختم کریں۔


مشہور خبریں۔
ایران کے اسرائیل پر حملے سے لے کر اسد حکومت کے اچانک خاتمے تک ۲۰۲۴ کے اہم واقعات
?️ 6 جنوری 2025سچ خبریں:دنیا نے 2024 میں خونریز اور ڈرامائی واقعات کا مشاہدہ کیا،
جنوری
مزاحمتی تحریک کے ہتھیار کیا کر رہے ہیں اور صیہونیوں کی حالت زار؛ سید حسن نصراللہ کی زبانی
?️ 3 جون 2024سچ خبریں:حزب اللہ کے سکریٹری جنرل، سید حسن نصر اللہ نے کہا
جون
مقبوضہ کشمیر جیل میں تبدیل ہو چکی ہے
?️ 21 جون 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ جب مقبوضہ
جون
امریکہ اور یورپ پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا: سعودی اخبار
?️ 27 فروری 2022سچ خبریں: سعودی اخبار الشرق الاوسط نے روس اور یوکرین کے درمیان
فروری
شمالی کوریا کا ایک اور بیلسٹک میزائل تجربہ
?️ 5 اکتوبر 2022سچ خبریں:جنوبی کوریا نے دعوی کیا ہے کہ شمالی کوریا نے درمیانی
اکتوبر
امریکہ کی برجام میں واپسی پابندیاں اٹھانا ہے، بائیڈن کے دستخط کی کوئی اہمیت نہیں
?️ 19 نومبر 2021سچ خبریں: وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے اقوام متحدہ کی
نومبر
لبنان کی سرحد پر صیہونی حکومت کی فوجی مشقوں کا آغاز
?️ 4 ستمبر 2022سچ خبریں: صہیونی فوج کے ترجمان اویخائی عدری نے آج اتوار
ستمبر
شہدا کو سلام پیش کرتا ہوں، کوئی بھی ملک کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ سرفراز بگٹی
?️ 31 جنوری 2026کوئٹہ (سچ خبریں) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وزیرداخلہ
جنوری