?️
سچ خبریں:واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ اور یمنی حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کو تیل کی برآمدات اور سکیورٹی کے حوالے سے دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ امریکہ کی فوجی مدد محدود دکھائی دیتی ہے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ یمنی حملوں نے سعودی عرب کے لیے امریکی حکومت کی حمایت کی حدود کو واضح کر دیا ہے، جبکہ ایران کے ساتھ جنگ میں شدت آ رہی ہے۔
واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ سعودی عرب کو بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔ تیل کی تنصیبات اور پائپ لائنوں کو نشانہ بنائے جانے کے علاوہ فوجی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے بعد یہ دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ دوسری جانب یمن کی انصار اللہ نے ملک کے مغربی ساحل پر میدانی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور آبنائے باب المندب کے قریب پہنچ گئی ہے، جو عالمی توانائی کی تجارت کے لیے اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔
واشنگٹن پوسٹ نے عدن میں یمن کی نام نہاد حکومت کے 2 عہدیداروں کے حوالے سے لکھا کہ عدن کی جانب سے واشنگٹن سے مدد کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
اخبار نے 2023 سے 2025 تک سعودی عرب میں امریکہ کے سفیر رہنے والے مائیکل راتنی کے حوالے سے لکھا کہ سعودی عرب نے کئی دہائیوں تک امریکہ کے ساتھ اپنی فوجی شراکت داری میں سرمایہ کاری کی، لیکن اب وہ وقت آ پہنچا ہے جس کے لیے ریاض نے تیاری کی تھی، تاہم واشنگٹن سعودی عرب کی توقعات کے مطابق اقدامات نہیں کر رہا۔
ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ امریکہ اپنی بنیادی قومی سلامتی کے مفادات کے تحفظ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جن میں بحیرہ احمر میں آزادانہ بحری آمدورفت بھی شامل ہے۔
ان کے مطابق واشنگٹن کی سعودی عرب اور عدن کی حکومت کے ساتھ مسلسل بات چیت جاری ہے، تاہم انہوں نے سعودی عرب کی جانب سے مدد کی درخواست یا ٹرمپ اور سعودی ولی عہد کے درمیان رابطے کی تفصیلات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
رپورٹ کے مطابق، ایران کے ساتھ جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہونے کے بعد سعودی عرب کو اپنے تیل کی برآمد کے لیے بحیرہ احمر کے راستوں پر بڑھتے ہوئے انحصار کے سبب مزید دباؤ کا سامنا ہے۔
سعودی عرب کی مشرق سے مغرب تک جانے والی تیل کی پائپ لائن، جو بحیرہ احمر تک تیل پہنچانے کا ایک اہم راستہ بن چکی ہے، گزشتہ ہفتے ہونے والے حملے کے بعد اب بھی بڑی حد تک بند ہے۔ یمن میں انصار اللہ نے مغربی ساحل پر اپنی پوزیشنیں مضبوط کر لی ہیں اور باب المندب کے قریب اہم تزویراتی علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہونے کے بعد سعودی عرب کے لیے باب المندب کی اہمیت دوگنی ہو گئی ہے، کیونکہ اب ریاض اپنے تیل کی ترسیل کے لیے مشرق سے مغرب تک پھیلی پائپ لائن کے ذریعے بحیرہ احمر کی بندرگاہوں تک پہنچانے اور پھر بحیرہ احمر کے جنوبی دہانے پر واقع بحری گزرگاہ سے برآمد کرنے پر زیادہ انحصار کر رہا ہے۔
اخبار نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں خلل اور باب المندب کو لاحق خطرات مل کر سعودی عرب کی تیل کی برآمدی راہداریوں پر بیک وقت دباؤ ڈال رہے ہیں۔
کارنیگی انڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے مشرق وسطیٰ امور کے محقق اینڈریو لیبر کا خیال ہے کہ ٹرمپ براہ راست فوجی تصادم سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس جنگ کو سعودی عرب اور انصار اللہ کے درمیان تنازع کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
حالانکہ سعودی عرب کو توقع تھی کہ امریکہ اس جنگ میں اس کی مدد کے لیے آگے آئے گا۔
لیبر کے مطابق، جنگ میں مداخلت سے گریز کرنے کے امریکہ کے فیصلے کے ممکنہ نتائج ہو سکتے ہیں، خصوصاً یمن کی تزویراتی اہمیت اور بین الاقوامی بحری راستوں پر اس کے محل وقوع کے پیش نظر۔
دوسری جانب انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے یمن امور کے سینئر تجزیہ کار احمد ناجی نے کہا کہ سعودی عرب کو درپیش چیلنجوں میں سے ایک یہ ہے کہ امریکہ انصار اللہ پر حملہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
ناجی نے مزید کہا کہ سعودی عرب کو اس بحران سے نمٹنے کے لیے شامل ممالک کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت ہے، جس میں امریکہ اور یورپی یونین کے ممالک بھی شامل ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ کے اختتام پر لکھا کہ سعودی عرب خود کو ایک زیادہ پیچیدہ سکیورٹی صورت حال سے دوچار دیکھ رہا ہے، جس میں توانائی کی تنصیبات کو براہ راست خطرات، تیل کی برآمدی راہداریوں میں خلل اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں انصار اللہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ جیسے عوامل شامل ہیں۔
دوسری جانب دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تزویراتی اور فوجی شراکت داری برقرار ہونے کے باوجود واشنگٹن وسیع پیمانے پر فوجی مداخلت کے لیے زیادہ آمادہ دکھائی نہیں دیتا۔


مشہور خبریں۔
شہباز گل نے مریم نواز کے بیان کو مضحکہ خیز قرار دے دیا
?️ 15 جولائی 2021اسلام آباد(سچ خبریں ) وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے
جولائی
یمن پر امریکی حملوں کا کیا نتیجہ ہوگا؟ امریکی تھنک ٹینک کی زبانی
?️ 16 جنوری 2024سچ خبریں: ایک امریکی تھنک ٹینک نے نشاندہی کی کہ جب تک
جنوری
کینیڈا کے مسلم گھرانے پر حملہ کے سلسلہ میں اس ملک کے وزیر اعظم کا رد عمل
?️ 9 جون 2021سچ خبریں:کینیڈا کے شہرلندن اونٹاریو میں ایک مسلمان کنبے پر وحشیانہ حملے
جون
اسرائیلی پولیس میں جنسی اسکینڈل کا پردہ فاش
?️ 7 جون 2026سچ خبریں: یدیعوت آحارانوت اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ صہیونی حکومت کے
جون
یورپی کمیشن ہیروشیما کے بارے میں کیوں نہیں کچھ بولتا؟
?️ 23 ستمبر 2023سچ خبریں: روسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ہیروشیما کے معاملے میں
ستمبر
صہیونیوں نے غزہ پر کتنے ہزار ٹن بم گرائے ہیں؟صیہونی فوج کی زبانی
?️ 13 اکتوبر 2023سچ خبریں: صیہونی فوج کے ترجمان نے کہا کہ جنگ کے آغاز
اکتوبر
اسرائیلی فوج کی غزہ میں کمبائنڈ حملے پر ابتدائی تحقیقات
?️ 9 جولائی 2025سچ خبریں: صیہونی ریجن کی فوجی ریڈیو نے اعلان کیا ہے کہ
جولائی
یورپی یونین کا روس کے خلاف تازہ ترین منصوبہ کیا ہے؟
?️ 20 جنوری 2024سچ خبریں: یورپی اور روسی میڈیا نے اعلان کیا کہ یوکرین میں
جنوری