?️
مظفرآباد (سچ خبریں) آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے بھارت اور پاکستان کے مابین مذاکرات کے بارے میں اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کرنے سے پہلے کشمیری قیادت سے بات چیت ہونی چاہیئے۔
تفصیلات کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت کی مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، اس نے 5 اگست 2019 اور اس کے بعد جتنے بھی اقدامات کیے وہ اس پر نہ صرف قائم ہے بلکہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لیے مزید مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔
ایسی صورت میں دہلی سے مذاکرات کرنے سے بھارت کے حوصلے مزید بلند ہوں گے اور وہ یہ پروپیگنڈا کرے گا کہ اس کے غیر قانونی اقدامات کو جائز اور درست تسلیم کر لیا گیا ہے۔
پاکستان کے نجی ٹیلی ویڑن نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹرز جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان بات چیت کے بعد فائربندی اس اعتبار سے درست اقدام ہے کہ اس معاہدے کے بعد دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان گولہ باری سے جو انسانی جانوں اور شہریوں کی املاک کا نقصان ہوتا ہے وہ رک جائے گا لیکن اس سے آگے بڑھ کر بھارت سے کسی قسم کے مذاکرات سے پہلے کشمیری قیادت سے مشاورت ہونی چاہیے اور حکومت پاکستان لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب کی قیادت خاص طور پر کل جماعتی حریت کانفرنس کی قیادت کو اعتماد میں لے تاکہ بھارت کے ماضی کے ریکارڈ کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی متفقہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔
انہوں نے کہا بھارت ایک طرف مذاکرات کی بات کرتا ہے اور دوسری طرف اپنی 9 لاکھ فوج کی مدد سے مقبوضہ کشمیر کی 80 لاکھ آبادی کو گزشتہ 600 دنوں سے محاصرے میں لیے ہوئے ہے اور ان کے تمام بنیادی اور شہری حقوق کو سلب کرنے کے علاوہ نوجوانوں کو ہر روز جعلی مقابلوں میں قتل کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں آزادی اور حق خود ارادیت کی جدوجہد کرنے والے کشمیری ہمارے اپنے شہری ہیں، وہ اپنے آپ کو پاکستانی کہتے ہیں اور ہمیں پوری امید اور اعتماد ہے کہ ریاست پاکستان انہیں اپنی جدوجہد میں کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی اور نہ ہی پاکستان کے 22 کروڑ عوام ان کی سیاسی اور اخلاقی حمایت سے کبھی دستبردار ہوں گے۔
سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کو مذاکرات کی دعوت دینے کے لیے جو خط لکھا ہے اس میں الزام تراشی نمایاں ہے جبکہ اس کے جواب میں وزیراعظم پاکستان کے خط میں کھل کر کشمیر کی بات کی گئی ہے۔
جب صدر آزاد کشمیر سے پوچھا گیا کہ لائن آف کنٹرول پر بھارت اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان فائربندی کب تک قائم رہے گی تو صدر نے کہا کہ یہ بھارت سے پوچھا جائے کیوں جارحیت ہمیشہ بھارت کی طرف سے ہوتی رہی، ہماری افواج اپنے دفاع میں بھارت کو جواب دیتی رہی ہیں اور وہ صرف بھارت کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بناتی رہی ہیں، پاک فوج نے مقبوضہ کشمیر کی شہری آبادی کو کبھی نشانہ نہیں بنایا کیوں کہ وہ ہمارے اپنے شہری اور بھائی بہنیں ہیں۔
سعودی عرب اور عرب امارات کی طرف سے مسئلہ کشمیر حل کروانے کی کوششوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں صدر نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ سعودی عرب اور اسلامی تعاون تنظیم کے ممبران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت سے اپنے اچھے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے کشمیر میں مظالم بند کرائیں، کشمیریوں کی نسل کشی رکوائیں اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کروائیں۔


مشہور خبریں۔
قومی اسمبلی میں شور شرابے کے بعد الیکشن کمیشن کا رد عمل سامنے آگیا
?️ 20 جون 2021اسلام آباد(سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے حزب
جون
متحدہ عرب امارات کا شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن بننے کے لیے پہلا قدم
?️ 7 مئی 2023سچ خبریں:آج متحدہ عرب امارات نے شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن بننے
مئی
اقتدار میں آیا تو جنرل (ر) قمر باجوہ کے خلاف کارروائی نہیں کروں گا، عمران خان
?️ 19 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین
دسمبر
نسلکشی کو یہودی شناخت کا حصہ بنا دیا گیا ہے: صیہونی انسانی حقوق کی تنظیم
?️ 22 اپریل 2026سچ خبریں:صیہونی انسانی حقوق کے مرکز نے کہا ہے کہ نسل کشی
اپریل
ٹیکنالوجی کمپنی ’’ایپل‘‘ کے خلاف مقدمہ دائر
?️ 25 مارچ 2024نیویارک:
مارچ
برطانوی جنرل نے روس اور یورپ کی جنگ سے کیا خبردار
?️ 23 مئی 2026 سچ خبریں:برطانوی اخبار تیلی گراف نے برطانیہ کے جنرل مائیک ایلوس
مئی
لندن میں بادشاہت مخالف مظاہرے + تصاویر
?️ 10 مئی 2026سچ خبریں: درجنوں افراد نے وسطی لندن میں جمع ہو کر برطانیہ
مئی
ایران اور ترکی کے وزرائے خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ اور علاقائی امور پر تبادلۂ خیال
?️ 30 جنوری 2026ایران اور ترکی کے وزرائے خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ اور علاقائی امور
جنوری