ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی پر سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل

ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی پر سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل

?️

سچ خبریں:ایکس (سابق ٹوئٹر) پر انگریزی زبان صارفین نے ایران-اسرائیل جنگ بندی کو ایران کی طاقت، حکمت و تدبیر اور اسرائیل کی واضح شکست سے تعبیر کیا۔ سوشل میڈیا پر جشن، تجزیے اور ردعمل نے بین الاقوامی فضاء کو متاثر کیا۔

ایکس (ٹوئٹر سابق) پر انگریزی زبان صارفین نے ایران اور صہیونی ریاست کے درمیان ہونے والے جنگ بندی کو ایران کی طاقت، حکمت و تدبیر اور تل ابیب کی واضح پسپائی کی علامت قرار دیا ہے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کی خبر کے ساتھ ہی، ایکس پلیٹ فارم پر انگریزی زبان میں لاکھوں صارفین نے بھرپور ردعمل ظاہر کیا۔ اکثریت نے نہ صرف ایران کے مؤقف کی حمایت کی بلکہ اس جنگ بندی کو اسلامی جمہوریہ ایران کی خودمختاری، دانشمندی اور اقتدار کی علامت بھی کہا۔
کئی صارفین نے اسے امریکہ اور اسرائیل کی سامراجی حکمت عملی کے خلاف عالمی مزاحمت کا حصہ قرار دیا، جبکہ بعض نے ایرانی عوام کی استقامت کو دشمن کی پسپائی کی بنیادی وجہ قرار دیا اور اسے قومی اتحاد اور ایران کی دفاعی صلاحیت کا نتیجہ بتایا۔
جنگ بندی کے اعلان کے بعد تہران میں ہونے والی رات کے جشن کی تصاویر اور ویڈیوز دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔ ایک صارف نے خبرگزاری مهر کی لائیو تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا
ایران ایک عظیم فتح کا جشن منا رہا ہے، ایرانی عوام خوشی سے لبریز ہیں اور اپنے رب کا شکر ادا کر رہے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو فتح عطا فرماتا ہے۔ اتحاد اور ایمان ہی کامیابی کی کنجی ہے۔
ایک اور صارف نے دو تصاویر ساتھ میں پوسٹ کیں، جن میں ایک ایران کے جشن کی اور دوسری ایران کے میزائل حملوں کی تھی، اور لکھا کہ
پورے ایران میں فتح کے عظیم جشن منائے جا رہے ہیں۔
ایک اور صارف نے ایرانی عوام کی خوشی کے ساتھ ٹرمپ کے اس جملے کو روندے جانے کی تصویر بھی شیئر کی جس میں اُس نے ایران سے غیر مشروط تسلیم کا مطالبہ کیا تھا، اور ساتھ لکھا
ایرانی عوام نے خودداری کا علم بلند رکھا۔
ایک افریقی صارف، جو خود کو افریقہ کا فخر کہتا ہے، نے کہا
ایران کی فتح، انسانیت کی فتح ہے۔
بیشتر صارفین نے جنرل اسماعیل قاآنی (کمانڈر قدس فورس) کی تہران میں جشن فتح میں شرکت پر بھی تبصرے کیے۔ ایک صارف نے لکھا
سپاہ قدس کے کمانڈر قاآنی زندہ سلامت ہیں، اسرائیل کے جھوٹے دعوے بے نقاب ہو چکے۔ وہ افسران جن کی ہلاکت کے اسرائیلی دعوے کیے گئے، سب محفوظ ہیں۔
ایک اور صارف نے ایرانی قوم کی ’’سرسختی اور ’’قربانی کو سراہتے ہوئے لکھا
ایرانی قوم جان کی قربانی سے نہیں ڈرتی۔ ممکن ہے امن مستقل نہ ہو، لیکن کچھ عرصے کے لیے خونریزی رُک گئی۔
ایک اور صارف نے وائٹ ہاؤس کے سابق مشیر اسٹیو بینن کا بیان شیئر کیا، جس میں وہ کہتا ہے
نیتن یاہو! تُو نے یہ جنگ شروع کیوں کی، جب تجھ میں نہ اسے ختم کرنے کی طاقت تھی، نہ اپنے شہریوں کو بچانے کی؟ یہ مکمل رسوائی ہے۔ ساری پروپیگنڈا مہمیں کہاں گئیں؟
امریکی میڈیا ایکٹیوسٹ جیکسن ہنکل نے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا
بینن نے اعتراف کیا کہ یہ جنگ بندی اسرائیل کو بچانے کے لیے تھی۔ یہی اصل کہانی ہے۔ وہ اپنی طاقت سے بڑھ کر جنگ میں کود پڑے۔ تل ابیب اور بئرالسبع میں حالات بدترین تھے۔
ایک صارف نے ایک کارٹون شیئر کیا، جس میں دکھایا گیا کہ نیتن یاہو اور ٹرمپ، رہبر انقلاب اسلامی کے آگے جنگ بندی کی بھیک مانگ رہے ہیں، اور لکھا
یہ ہے اصل جنگ بندی۔
برطانوی پارٹی ورکرز پارٹی کے سربراہ اور سات بار رکن پارلیمان رہنے والے جارج گیلوے نے پوسٹ میں کہا
اسرائیل نے اقوام متحدہ کی پانچ قراردادیں مسترد کیں جو غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کر رہی تھیں، لیکن ایران کے ساتھ فوری جنگ بندی پر راضی ہو گیا۔ کیوں؟
اس سوال کا جواب، تہران یونیورسٹی کے عالمی امور کے ماہر ڈاکٹر فؤاد ایزدی نے صحافی جرمی اسکاہل کے ساتھ گفتگو میں دیا
فرق بیلسٹک میزائلوں میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کے لوگ نہتے ہیں، ان کا قتل اسرائیل کے لیے سستا ہے۔ لیکن ایران پر حملہ مہنگا پڑتا ہے۔
ایزدی نے نیتن یاہو کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ جنگ بندی اسرائیل کے اہداف مکمل ہونے کے بعد طے ہوئی۔ اُن کے مطابق، اسرائیل نے تین سنگین غلطیاں کیں
1. امریکی دفاعی نظاموں پر حد سے زیادہ انحصار؛
2. ایران کی فوجی بحالی کی رفتار کو نظر انداز کرنا؛
3. رجیم چینج کی پالیسی جس نے الٹا ایرانی اتحاد کو مضبوط کر دیا۔
یہ تمام عوامل اسرائیلی قیادت کو کشمکش اور خوف کا شکار بنا گئے۔

مشہور خبریں۔

88 ممالک نے امریکہ کو ڈاک بھیجنے سے انکار کر دیا

?️ 8 ستمبر 202588 ممالک نے امریکہ کو ڈاک بھیجنے سے انکار کر دیا امریکہ

لندن اور یوکرین، برطانوی انتخابات سے قبل موسم بہار کی جنگ کے لیے تیار

?️ 30 اپریل 2024سچ خبریں: سیاستدانوں اور برطانوی معاشرے کے ایک حصے کا خیال ہے کہ

ملیحہ لودھی: ٹرمپ انتخابی جنگ کے دلدل میں پھنس گئے ہیں

?️ 23 مارچ 2026سچ خبریں: پاکستان کے سابق نمائندہ خصوصی اقوام متحدہ کا ماننا ہے

کیا امریکہ اپنا اثر و رسوخ کھو چکا ہے؟

?️ 4 اگست 2023سچ خبریں:امریکی ہل میگزین نے مغربی ایشیائی خطے میں نئی تبدیلیوں کے

مریم نواز کا ملتان میں قاسم بیلہ ریلیف کیمپ کا دورہ، بچوں میں تحائف تقسیم کیے

?️ 3 ستمبر 2025ملتان (سچ خبریں) وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب کے ضلع

روس کے خلاف امریکی سازشیں؛امریکی وزیر خارجہ کا انکشاف

?️ 3 مارچ 2024سچ خبریں: روسی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ یوکرین کی شکست

مودی، بائیڈن کا مشترکہ اعلامیہ، پاکستان کی خاموشی پر شاہ محمود قریشی حیران

?️ 25 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے روز امریکا

اکشے کمار کی والدہ انتقال کر گئیں

?️ 8 ستمبر 2021ممبئی (سچ خبریں)بالی ووڈ اداکار اکشے کمار کی والدہ انتقال کر گئیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے