صحافیوں کا خون، جرائم کی گواہی؛عالمی خاموشی پر الجزائری میڈیا کا سخت انتباہ

صحافیوں

?️

سچ خبریں:الجزائر کے صحافیوں کی یونین کے سربراہ نے غزہ میں اسرائیلی حملوں میں صحافیوں کی شہادت کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ صحافیوں کا خون سچ کو خاموش نہیں کر سکتا اور یہ قابض حکومت کے جرائم کی گواہی بنے گا۔

الجزائر کے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی یونین کے سربراہ نے غزہ میں صہیونی حکومت کی جانب سے صحافیوں کو منظم انداز میں نشانہ بنانے پر شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافیوں کا خون سچائی کو خاموش نہیں کر سکتا بلکہ یہ قابض قوت کے جرائم کی زندہ گواہی بنے گا۔

یہ بھی پڑھیں:2000 سے اب تک صیہونیوں کے ہاتھوں 46 فلسطینی صحافیوں کی شہادت

شہاب خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، الجزائر کے صحافیوں اور میڈیا کی یونین کے صدر مصباح اقدیری نے کہا کہ غزہ کی پٹی کے وسط میں ایک پناہ گزین کیمپ میں بے گھر خاندانوں کی حالت زار کی فلم بندی کے دوران تین فلسطینی صحافیوں کی شہادت ایک مکمل جنگی جرم ہے۔ ان کے مطابق یہ واقعہ غزہ کے خلاف جاری تباہ کن جنگ کے دوران صحافیوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی پالیسی کی واضح تصدیق کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تینوں صحافی اپنی پیشہ ورانہ اور انسانی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے بے گھر خاندانوں کی تکالیف کو دستاویزی شکل دے رہے تھے، مگر انہیں براہِ راست صہیونی قابض افواج نے نشانہ بنایا۔ یہ اقدام واضح طور پر گواہوں کو خاموش کرنے اور غیر ملکی دنیا کو عام شہریوں کے خلاف ہونے والے جرائم دیکھنے سے روکنے کی کوشش ہے۔

مصباح اقدیری نے بتایا کہ ان تین صحافیوں کی شہادت کے بعد، غزہ پر مسلط کی گئی جنگ کے آغاز سے اب تک شہید ہونے والے صحافیوں کی تعداد 260 ہو چکی ہے، جو جنگوں کی تاریخ میں ایک بے مثال اور بلند ترین تعداد ہے اور فلسطینی میڈیا کارکنوں کے خلاف منظم جرائم کے حجم کو ظاہر کرتی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ یہ خطرناک اضافہ اس جنگ کی نوعیت کو بے نقاب کرتا ہے جو قابض قوت نے مسلط کر رکھی ہے؛ ایک ایسی جنگ جو صرف زمین اور اس کے باسیوں کو ہی نہیں بلکہ بیانیے، تصویر اور سچائی کو بھی نشانہ بنا رہی ہے۔

اقدیری کے مطابق، صحافیوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ غیر ملکی میڈیا کو غزہ میں داخلے سے روکنا، مکمل میڈیا بلیک آؤٹ نافذ کرنے کی کوشش ہے، تاکہ نسل کشی کی دستاویز سازی روکی جا سکے اور بین الاقوامی احتساب سے بچا جا سکے۔

الجزائری صحافی یونین کے سربراہ نے کہا کہ عالمی برادری کی خاموشی نے قابض قوت کو صحافیوں کے خلاف اپنے جرائم جاری رکھنے میں مزید جری بنا دیا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ سزا سے استثنا نے صحافیوں کے قتل کو ایک عسکری اور سیاسی ہتھیار میں تبدیل کر دیا ہے، جس کے ذریعے جنگ کو منظم اور اطلاعات کے بہاؤ کو کنٹرول کیا جا رہا ہے۔

مصباح اقدیری نے عالمی برادری، اقوام متحدہ کے اداروں اور بین الاقوامی صحافتی یونینوں سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں صحافیوں کو نشانہ بنانے کے جرائم پر فوری اور مؤثر اقدامات کریں، آزاد بین الاقوامی تحقیقات کا آغاز کریں، قانونی احتساب کے میکانزم کو فعال کریں اور تنازعاتی علاقوں میں صحافیوں کے لیے بین الاقوامی تحفظ فراہم کریں۔

مزید پڑھیں:اسرائیل کی جانب سے فلسطینی صحافیوں پر ظلم و تشدد جاری، متعدد صحافیوں کو گرفتار کرلیا گیا

آخر میں انہوں نے زور دے کر کہاکہ صحافیوں کا خون حقیقت کو خاموش نہیں کرے گا، بلکہ یہ قابضوں کے جرائم کی گواہی بنے گا۔

مشہور خبریں۔

بشار اسد کے جانے کے ایک سال بعد شام کی صورتحال؛صیہونی میڈیا کی زبانی

?️ 15 دسمبر 2025سچ خبریں:صیہونی اخبار گلوبس کے تجزیہ کار کا ابو محمد الجولانی کے

برطانوی بادشاہ کے مجسمے پر حملہ کرنے پر چار شہریوں کی گرفتاری

?️ 25 اکتوبر 2022سچ خبریں:لندن کے ایک عجائب گھر میں انگلینڈ کے بادشاہ کے مجسمے

پاکستان: بھارت پر جوابی حملے ڈیٹرنس کے اصول پر مبنی تھ

?️ 11 مئی 2025سچ خبریں: پاکستانی وزارت خارجہ نے ہندوستان کے ساتھ جنگ ​​بندی کے

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں خدمات انجام دینے والی ریاستوں کے بارے میں اہم انکشاف ہوگیا

?️ 8 مئی 2021جنیوا (سچ خبریں) اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں خدمات انجام

فلسطینی دفاع مقدس کے میدان سے کبھی نہیں نکلیں گے: خطیب مسجد اقصیٰ

?️ 22 جنوری 2022سچ خبریں:  غزہ میں مسجد الاقصیٰ کے خطیب شیخ عکرمہ صبری نے

تائیوان کے تحفظ کے بارے میں چین کا امریکہ کو انتباہ

?️ 16 ستمبر 2022سچ خبریں:    جزیرے کے معاملات میں مداخلت کے بارے میں چین

لبنانی فوج کو جنوب میں تعینات کرنے کا منصوبہ

?️ 10 دسمبر 2024سچ خبریں: شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے اور مقبوضہ

افغانستان میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیئے طالبان نے افغان حکومت سے ملاقات کا اعلان کردیا

?️ 16 مارچ 2021قطر (سچ خبریں) افغانستان میں 2 دہائیوں سے جاری جنگ کا خاتمہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے