?️
سچ خبریں:ایک عبری ذریعے نے اعتراف کیا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں مذہبی کشیدگی ہر ہفتے نئی شدت اختیار کر رہی ہے۔
عبری ذرائع ابلاغ کے مطابق مقبوضہ علاقوں میں مذہبی کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،ہفتہ کے روز کھلے رہنے والے کیفے اور تفریحی مراکز پر حملوں نے مذہبی اور سیکولر طبقات کے درمیان تنازع کو مزید شدت دے دی ہے۔
صہیونی حکومت کے چینل 12 نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ان دنوں اسرائیل (مقبوضہ علاقوں) میں ایک داخلی مذہبی تصادم کی فضا تیزی سے جنم لے رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس کشیدگی کی نمایاں جھلک سینما گھروں، خریداری مراکز، کیفے اور دیگر تفریحی مقامات پر دیکھنے کو مل رہی ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ چند روز قبل رامات گان میں واقع نئے کیفے بانڈیٹا کو گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران تیسری مرتبہ نذر آتش کیا گیا۔ پہلی بار رات کے وقت باہر رکھی گئی میزوں کو آگ لگا دی گئی، دو ہفتے قبل حملہ آوروں نے کیفے کی بیرونی دیوار کو آگ لگا دی، اور ایک ہفتے بعد دوبارہ آ کر مرکزی دروازے کو نذر آتش کر دیا۔
ان حملوں کی وجہ یہ بتائی گئی کہ یہ کیفے اور اس جیسے دیگر مراکز ہفتہ کے دن بھی کھلے رہتے ہیں، جسے انتہا پسند صہیونی مذہبی حلقے اپنی مذہبی تعلیمات کے خلاف قرار دیتے ہیں۔
عبری روزنامہ یسرائیل ہیوم نے رپورٹ دی کہ مقبوضہ بیت المقدس کے نائب میئر نے بھی اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے ہفتہ کے روز کھلے رہنے والے ایک کیفے کے خلاف احتجاج میں شرکت کی تھی۔
اس عبری ذریعے کے مطابق اگر ربی یتسحاق باریم کی احتجاج میں شرکت کی خبر درست ہے تو یہ پہلی واضح علامت ہوگی کہ حکمران اتحاد بھی بیت المقدس اور دیگر علاقوں میں سیکولر طبقے کے خلاف جاری تنازعات میں عملی طور پر شریک ہو چکا ہے۔
باریم نے ایک ٹیلی وژن پروگرام میں کہا، بیت المقدس میں عوامی مقامات پر ہفتہ کے دن کے احترام کے مسئلے پر ہمیشہ شدید اختلافات رہے ہیں۔ خوش قسمتی سے گزشتہ برسوں میں ایک نازک توازن برقرار تھا جس کی بدولت حریدی اور سیکولر طبقے باہمی احترام کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے۔
لیکن افسوس کہ گزشتہ ہفتوں میں اس توازن کو دانستہ طور پر پامال کرتے ہوئے مقدس شہر کے قلب میں ہفتہ کے دن کی حرمت کو مجروح کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا، ہم خاموش تماشائی نہیں بن سکتے اور اس طرح کی کارروائیوں کو نظر انداز نہیں کریں گے۔ بیت المقدس ایک مقدس شہر ہے اور ہفتہ کا دن اس کی روح کی حیثیت رکھتا ہے۔
ہم اس بے حرمتی پر خاموش نہیں رہیں گے اور بیت المقدس کی یہودی شناخت اور برسوں سے قائم صورت حال کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کریں گے۔
صہیونی حکومت کے چینل 13 نے بھی اپنی ویب سائٹ پر مذہبی کشیدگی کی علامات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ مسلسل دوسرے ہفتے ہفتہ کے روز بیت المقدس میں ایک کیفے کو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
حملے کی ایک وجہ وہاں سیکولر افراد کی موجودگی تھی۔ متعدد افراد کیفے کے مالک سے اظہار یکجہتی کے لیے وہاں جمع ہوئے، تاہم حریدی مظاہرین نے ان پر شدید حملہ کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق جھڑپیں اس قدر شدید ہو گئیں کہ پولیس کو صورت حال پر قابو پانے کے لیے مداخلت کرنا پڑی۔


مشہور خبریں۔
کورونا: بیرون ملک سے پاکستان آنے والی مسافروں کے لئے پی سی آر ٹیسٹ لازمی
?️ 4 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان میں کورونا وائرس کی نئی قسم اومی
جنوری
افغانستان کیساتھ استنبول میں مذاکرات ناکام، دہشتگردوں کیخلاف کارروائی جاری رہے گی، عطا اللہ تارڑ
?️ 29 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ
اکتوبر
اٹلی نے امریکہ سے یورپ کی معاشی آزادی کا مطالبہ کیا
?️ 30 دسمبر 2022سچ خبریں: اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے امریکہ سے
دسمبر
دمشق کی اموی مسجد میں الجولانی کے عناصر کی مداخلت کی وجہ سے تنازع
?️ 30 دسمبر 2024سچ خبریں:دمشق کی تاریخی اموی مسجد میں شام کے معروف اپوزیشن رہنما
دسمبر
روسی مستشرق: ایران کے بجلی کے نظام کے بارے میں ٹرمپ کی دھمکی کا عملی ہونا ناممکن ہے
?️ 27 مارچ 2026سچ خبریں: روس کی اکیڈمی آف سائنسز کے ادارہ مشرقی مطالعات کے
مارچ
جدہ ایئرپورٹ پر ایک زوردار دھماکے کی آواز سنائی دی
?️ 1 مئی 2021سچ خبریں:سعودی ذرائع نے آج ہفتے کی صبح اس ملک کے شہر
مئی
جمعہ سے مسجد الاقصی کے صحن صہیونیوں کے لیے بند کر دیے جائیں گے
?️ 20 اپریل 2022سچ خبریں: صیہونی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ حکومت کے رہنماؤں
اپریل
2022 قطر ورلڈ کپ کی علامتوں کا کیا مطلب ہے؟
?️ 25 دسمبر 2022سچ خبریں: 2022 ورلڈ کپ کے اختتام کے ساتھ ہی قطری میڈیا
دسمبر