کیا یہی جنگ بندی ہے: فلسطینی تجزیہ کار

کیا یہی جنگ بندی ہے: فلسطینی تجزیہ کار

?️

سچ خبریں:فلسطینی عسکری تجزیہ کار رامی ابوزبیدہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں قبضے کے نئے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے، جو محدود عسکری حملوں اور مسلسل دباؤ رکھنے کی کوشش ہے۔

فلسطینی عسکری تجزیہ کار رامی ابوزبیدہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی قابض فوج غزہ میں ایک نئے منصوبے پر عمل کر رہی ہے جو محدود جنگی کارروائیوں کے ذریعے طویل المدت قبضے کو مستحکم کرنے کی کوشش ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بائیڈن کا غزہ میں تین مراحل پر مشتمل جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کی تجویز کا اعلان

ان کے مطابق، اسرائیل کا ہدف اس وقت فوجی کاروائیوں کی آزادی کو یقینی بنانا ہے تاکہ وہ جب چاہے حملہ کر سکے اور جب چاہے جنگ بندی کا دعویٰ کرے۔

ابوزبیدہ نے غزہ کی پٹی کی موجودہ عسکری صورتحال کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے بعد جو کچھ غزہ میں ہو رہا ہے، وہ ایک منصوبہ بند تبدیلی ہے ،جس کے تحت علاقے کو ظاہری سکون مگر دائمی خونریزی کی حالت میں رکھا جا رہا ہے اور اس صورتحال کو بمباری اور معاشی دباؤ کے امتزاج سے کنٹرول کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کی ضمانت لین ےوالے ممالک، جو اس معاہدے کے محافظ تصور کیے جاتے ہیں، اس وقت ایک اہم اخلاقی و سیاسی امتحان سے گزر رہے ہیں۔
انہیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف اپنے وعدوں پر عمل کرتے ہیں یا پھر خاموش تماشائی بن کر اسرائیل کے جرائم کے لیے سیاسی پردہ فراہم کرتے ہیں۔

فلسطینی میڈیا سینٹر کے مطابق، ابوزبیدہ نے کہا کہ قابض قوتوں نے دنیا کے صبر کا امتحان لے لیا ہے، جبکہ فلسطینی عوام نے اپنی استقامت کے ذریعے ایک نئی توازن کی پالیسی قائم کی ہے جو بمباری، بھوک اور خوف کے درمیان مزاحمت کا تسلسل ہے۔ اس پالیسی نے ایک بے رحم مساوات پیدا کی ہے:
ظاہری سکون، محدود بمباری، منظم بھوک اور ایک جعلی بین الاقوامی قانونی جواز اُس جارح کے لیے جو اپنے دفاع کا دعویٰ کرتا ہے۔

ابوزبیدہ نے مزید کہا کہ جبالیا اور تل الزعتر میں ہونے والے حالیہ حملے، جن میں فلسطینی مزاحمتی کمانڈروں کو نشانہ بنایا گیا، اسرائیلی پالیسی کے اُس مرحلے کا حصہ ہیں جسے وہ خود (Satisfactory Hunt) کہتے ہیں۔
اس کے تحت، اسرائیلی فوج اپنے خاموش اہداف کو کسی بھی بہانے فعال کرتی ہے تاکہ سیاسی یا عسکری دباؤ کے وقت مخصوص شخصیات کو ختم کیا جا سکے۔

عسکری تجزیہ کار نے واضح کیا کہ اسرائیل اب وسیع پیمانے کی جنگ نہیں چاہتا بلکہ وہ آتش‌بس کی جزوی اور وقتی خلاف ورزیوں کے ذریعے اپنے نشانے پورے کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں: غزہ میں جنگ بندی کی نئی امریکی صیہونی تجویز

یہ ایک محدود مگر مستقل جنگ ہے جو غزہ میں اسرائیل کی نئی فوجی و سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

مشہور خبریں۔

بائیڈن کے دورے کا مقصد اسرائیل سعودی تعلقات کو مضبوط بنانا ہے: امریکی سفیر

?️ 17 جون 2022سچ خبریں:   اسرائیلی اخبار اسرائیل ہیوم کو آج انٹرویو دیتے ہوئے تل

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس میں 486 پوائنٹس کا اضافہ

?️ 12 دسمبر 2023کراچی: (سچ خبریں) پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے ابتدائی روز

روس کے خلاف طویل جنگ کی امریکی پالیسی ناکام ؛امریکی عہدیدار کا اعتراف

?️ 17 مئی 2025 سچ خبریں:امریکی نائب خصوصی ایلچی مورگان اورٹگاس نے تسلیم کیا ہے

چار دن کی جنگ میں دشمن کو شکست فاش دی۔ اسحاق ڈار

?️ 7 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ

شمالی شام پر ترکی سے وابستہ ملیشیا کے راکٹ حملے

?️ 21 جون 2021سچ خبریں:شمالی شام کے شہر حلب کے نواح کے مقبوضہ علاقوں میں

صیہونی حکومت نے Defense Arrow ہتھیاروں کا تجربہ مکمل کیا

?️ 18 جنوری 2022سچ خبریں:  اسرائیلی وزارت جنگ نے اعلان کیا کہ Defense Arrow ہتھیاروں

14 مئی کو اسمبلی کی تحلیل کا عمران خان کا مطالبہ ’ناقابل عمل‘ قرار

?️ 1 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) حکومت سے جاری مذاکرات کے کامیاب نتائج کی راہ

صیہونیوں اور حزب اللہ کے ما بین کیا چل رہا ہے؟

?️ 14 مئی 2024سچ خبریں: لبنانی فوج کے ریٹائرڈ افسر بریگیڈیئر جنرل محمد الحسینی نے اپنے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے