?️
سچ خبریں:سی این این کے مطابق ایرانی حملوں سے مشرق وسطیٰ میں متعدد امریکی فوجی اور انٹیلی جنس تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچا، جبکہ ریاض میں سی آئی اے کا اڈہ تقریباً مکمل طور پر تباہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
سی این این نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اور انٹیلی جنس اڈوں کو ’’بھاری اور نمایاں‘‘ نقصان پہنچایا ہے۔ ایک سابق امریکی انٹیلی جنس افسر کے مطابق سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں سی آئی اے کا اڈہ ایرانی حملے میں عملاً تباہ ہوگیا۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق 6 باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکی فوج اور انٹیلی جنس اداروں میں حالیہ دنوں کے دوران اس امکان پر خاموش مشاورت ہوئی ہے کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی اہلکاروں اور تنصیبات کی تعداد کم کی جاسکتی ہے۔
11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد امریکہ نے جنگ اور فوجی کارروائیوں کے لیے عراق، افغانستان، شام، ایران، یمن اور لیبیا سمیت 6 ممالک میں اپنی مستقل فوجی اور انٹیلی جنس تنصیبات کا نیٹ ورک نمایاں طور پر وسیع کیا۔
تاہم ایران کے ساتھ حالیہ جنگ نے مشرق وسطیٰ میں امریکی بنیادی ڈھانچے کی گہری کمزوریوں کو نمایاں کردیا ہے، کیونکہ ان میں سے متعدد تنصیبات کو ایک غیر مقبول جنگ کے دوران ایران کی جانب سے بار بار حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسی وجہ سے امریکی فوج اب اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد بھی خطے میں موجود رہنے والی امریکی افواج کے دفاع کو کس طرح مضبوط بنایا جائے۔
مذاکرات سے باخبر 2 ذرائع کے مطابق اس منصوبے میں بعض تنصیبات کو زیر زمین منتقل کرنا بھی شامل ہے تاکہ انہیں ایرانی حملوں کی طرز پر میزائل اور ڈرون حملوں سے بہتر طور پر محفوظ رکھا جاسکے۔
پینٹاگون طویل عرصے سے خطے میں بعض امریکی اڈوں کو زیر زمین منتقل کرنے کے امکان پر غور کرتا رہا ہے، تاہم جنگ کے ابتدائی ہفتوں کے بعد اس تجویز کی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا، جب ایران نے ان اڈوں کو ڈرون اور میزائل حملوں کے لیے کس قدر حساس ہونے کا عملی مظاہرہ کیا۔
اگرچہ امریکی منصوبہ ساز اب خطے میں امریکی فوجیوں کی ممکنہ تعداد کم کرنے کے آپشنز کا بھی جائزہ لے رہے ہیں، تاہم بظاہر امریکہ ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ کرنے کے قریب نہیں پہنچا جس کے ذریعے یہ تنازع ختم ہوسکے۔
ایران بدستور خطے میں موجود امریکی اڈوں اور فوجیوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور گزشتہ ہفتے اردن اور متحدہ عرب امارات میں امریکی تنصیبات کے خلاف حملے بھی کیے گئے۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب تقریباً ایک ماہ کے وقفے کے بعد پہلی مرتبہ ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ براہ راست فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں سے ہونے والا نقصان بھاری رہا ہے۔
ایک امریکی عہدیدار اور ایک سابق انٹیلی جنس افسر کے مطابق سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں سی آئی اے کا اڈہ ایرانی حملے کے نتیجے میں عملاً تباہ ہوگیا۔ اگرچہ پینٹاگون کے حکام نے اس نقصان کی شدت کو کم ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن ذرائع کے مطابق بحرین، قطر، سعودی عرب اور کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات سبھی ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کی زد میں آئی ہیں اور ان میں ہونے والا نقصان نمایاں ہے۔
ایک امریکی عہدیدار اور اس معاملے سے باخبر 2 دیگر ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ بعض صورتوں میں امریکی حکومت ممکنہ طور پر اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان امریکی اثاثوں کی تعمیر نو سے گریز کرسکتی ہے جو ایرانی حملوں میں شدید طور پر نقصان زدہ یا مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔
پینٹاگون کے حکام نے اب تک عوامی طور پر یہ بتانے سے گریز کیا ہے کہ وہ کن تنصیبات کو دوبارہ تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اپریل میں پینٹاگون کے آڈیٹر نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ میں نقصان پہنچنے والے امریکی اڈوں اور تنصیبات کی مرمت پر آنے والی لاگت کا فی الحال اندازہ لگانا ممکن نہیں۔
3 باخبر ذرائع کے مطابق پینٹاگون کے اعلیٰ حکام نے نجی طور پر واضح کیا ہے کہ وہ خلیج فارس کے متعدد ممالک میں امریکی فوجی موجودگی کم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ اقدام خطے کے دفاع کی زیادہ ذمہ داری علاقائی اتحادیوں کو منتقل کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہوگا۔
امریکی فوج کے اعلیٰ کمانڈروں نے حال ہی میں ٹرمپ کو خبردار کیا تھا کہ ایران کے ساتھ تنازع کو مزید بڑھانے کے لیے جنگی آپشنز سے ان کے اعلان کردہ مقاصد حاصل ہونے کا امکان کم ہے۔ اسی وجہ سے ٹرمپ نے ایران کو مفلوج کرنے کی امید میں اقتصادی دباؤ بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنے کو ترجیح دی۔
تاہم اس حکمت عملی کے نتائج سامنے آنے میں کتنا وقت لگے گا، اس حوالے سے کوئی واضح مدت مقرر نہیں کی گئی۔ متعدد تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایران کی موجودہ قیادت کئی ماہ تک اقتصادی مشکلات برداشت کرنے کے لیے تیار ہوسکتی ہے اور قلیل مدت میں اس کے ہتھیار ڈالنے کا امکان کم ہے۔


مشہور خبریں۔
جامعہ الازہر نے عرب اور اسلامی ممالک سے فلسطین کی حمایت کا مطالبہ کیا
?️ 31 اکتوبر 2023سچ خبریں:مصر کی جامعہ الازہر جس نے غزہ کی پٹی میں غاصب
اکتوبر
شمالی غزہ میں فلسطینیوں اور جارحیت پسندوں کے درمیان شدید لڑائی
?️ 10 دسمبر 2023سچ خبریں: جبالیا کیمپ پر صیہونی فوج کے حملوں میں شدت آنے
دسمبر
حماس نے صیہونیوں کی خطرناک حرکتوں کے بارے میں خبردار کیا
?️ 21 دسمبر 2024سچ خبریں: تحریک حماس کے قدس امور کے سربراہ ہارون ناصر الدین
دسمبر
یمنی کیا کرنے والے ہیں؟یمنی وزیر دفاع کی زبانی
?️ 13 جنوری 2024سچ خبریں: یمن کے وزیر دفاع نے اعلان کیا کہ جب تک
جنوری
اردگان کلیچداراوغلو کی واپسی کے خواہش مند کیوں ہیں؟
?️ 6 ستمبر 2025سچ خبریں: ترکی کی سیاسی و میڈیا فضاء میں ان دنوں ایک
ستمبر
حکومت پوری اپوزیشن سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے۔ رانا ثناءاللہ
?️ 26 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء
دسمبر
بانی پی ٹی آئی کی صحت اتنی خراب نہیں جتنا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ محمود اچکزئی
?️ 30 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی نے کہا ہے
جنوری
سارہ نیتن یاہو کا ایک بار پھر تنازع، سابق صیہونی فوجی عہدیدار پر سنگین الزام
?️ 1 ستمبر 2026سچ خبریں:سارہ نیتن یاہو نے سابق صیہونی فوجی عہدیدار یائیر گولان پر
ستمبر