امیر قطر نے اقوام متحدہ میں کیسے فلسطین کی حمایت کی؟

امیر قطر نے اقوام متحدہ میں کیسے فلسطین کی حمایت کی؟

?️

سچ خبریں: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79ویں اجلاس میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے فلسطین کے مسئلے پر زور دیتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کو نسل کشی قرار دیا۔

الجزیرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق امیر قطر نے اپنے خطاب میں کہا کہ غزہ میں فلسطینی عوام پر حملے بربریت اور وحشیانہ ظلم کی انتہا ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ فلسطینیوں کی نسل کشی میں اسرائیل کا ساتھی

انہوں نے کہا کہ غزہ میں صرف جرائم اور بزرگ، خواتین اور بچوں کی لاشیں رہ گئی ہیں، اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے مداخلت نہ کرنا ایک بہت بڑی رسوائی ہے۔

امیر قطر نے مزید کہا کہ مسئلہ فلسطین کو نظرانداز کرنے کی سوچ ایک غلط فہمی ہے اور فلسطین کا مسئلہ دو ہی صورتوں میں ختم ہو سکتا ہے؛ یا تو قابض صیہونیوں کا خاتمہ ہو یا پھر فلسطینی قوم کا۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر جنگ بند کرائے اور مسئلے کا منصفانہ حل تلاش کرے۔

امیر قطر نے کہا کہ غزہ میں جاری وحشیانہ جنگ نے عالمی برادری کی ساکھ کو ختم کر دیا ہے اور اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر کیے جانے والے مظالم نسل کشی کے مترادف ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سلامتی اور امن و استحکام کی باتیں بے معنی ہیں جب تک جنگ کو روکنے کے لیے عملی اقدامات نہ کیے جائیں۔

امیر قطر نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ فلسطینی رہنماؤں کو نشانہ بنا کر قتل کر رہا ہے اور کہا کہ اسماعیل ہنیہ صرف حماس کے رہنما نہیں تھے بلکہ فلسطینی عوام کے منتخب وزیر اعظم بھی تھے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دی جائے تاکہ قابض اسرائیلی حکومت کو یہ پیغام جائے کہ طاقت کبھی حق کو مٹا نہیں سکتی۔

امیر قطر نے اپنی تقریر میں کہا کہ قطر غزہ کی جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششوں کو جاری رکھے گا اور ہم فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کے حصول کی حمایت کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79ویں اجلاس میں قطر کے امیر نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ غزہ اور لبنان پر جاری حملے فوری طور پر بند کرے۔

انہوں نے لبنان میں اسرائیل کے بغیر شناخت یا مقام کے تعین کے، وائرلیس کمیونیکیشن سسٹم کو نشانہ بنانے کے عمل کو ایک سنگین جرم قرار دیا۔

امیر قطر نے کہا کہ اسرائیل کو معلوم ہونا چاہیے کہ جنگ کبھی بھی امن نہیں لا سکتی اور اسے غزہ اور لبنان پر جنگ بند کرنی چاہیے اس لیے کہ خطے میں سلامتی کی کنجی منصفانہ امن ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان نے صیہونی حکومت کے فضائی حملے کو نسل کشی قرار دے دیا

اس کے ساتھ ہی امیر قطر نے روس اور یوکرین کی جنگ کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس تنازعے نے انسانی مصائب میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ اس مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنے کی کوششوں کو دوبارہ شروع کیا جائے۔

مشہور خبریں۔

سندھ حکومت کا جمعۃ الوداع پر عام تعطیل کا اعلان

?️ 11 مارچ 2026کراچی (سچ خبریں) سندھ حکومت نے جمعۃ الوداع پر عام تعطیل کا

ایرانی حملے کے بعد اسرائیلی حکام تذبذب کا شکار کیوں ہیں؟

?️ 16 اپریل 2024سچ خبریں: صیہونی میڈیا کے موقف کے برعکس، ایران کا حملہ حساب

شہید السنوار کی لاش کو اسرائیل کا یرغمال بنانے کا منصوبہ

?️ 21 اکتوبر 2024سچ خبریں: واللا  نیوز کے مطابق اسرائیلی فوج یحییٰ السنوار کی لاش کو

بھارت کیخلاف تاریخی فتح سے پاکستان کی دنیا میں عزت بڑھی۔ عطا تارڑ

?️ 22 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ

دنیا بھر میں امریکی فوج کی تخریب کاریاں

?️ 18 اگست 2023سچ خبریں: روسی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ امریکہ

ٹرمپ کا انصاراللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا مقصد

?️ 29 جنوری 2025سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور متنازع قدم اٹھاتے ہوئے

لبنان اسرائیل معاہدہ شرمناک ہے، ہم غیر مسلح نہیں ہونے والے: حزب‌الله

?️ 29 جون 2026سچ خبریں:حزب‌الله کے سینئر رکن نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکی

ترکی کا اسرائیل سے تعلقات منقطع کرنے کے بارے میں اہم بیان

?️ 19 نومبر 2023سچ خبریں: ترکی کے وزیر خارجہ نے ایک انٹرویو میں اعلان کیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے