ایران کے خلاف جنگ پر عالمی میڈیا کا ردعمل

ایران کے خلاف

?️

سچ خبریں:ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ پر عالمی میڈیا کے تجزیے، مذاکرات کی تازہ صورتحال، آبنائے ہرمز بحران، امریکی ڈرونز کی تباہی، اسرائیلی معیشت پر اثرات اور عالمی منڈیوں میں سونے اور تیل کی قیمتوں کی تفصیلات۔

امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے آغاز کے بعد نہ صرف اس آپریشن کے اعلان کردہ اہداف حاصل نہیں ہو سکے بلکہ جارح فریقوں کے لیے اسٹریٹجک تعطل، سیاسی ناکامیوں اور میدان جنگ میں شکست کے بڑھتے ہوئے شواہد بھی سامنے آنے لگے ہیں۔

یہ جنگ، جو وسیع حملوں اور معصوم شہریوں خصوصاً بے گناہ طلبہ کے قتل سے شروع ہوئی، تیزی سے انسانی، سکیورٹی اور اقتصادی بحران میں تبدیل ہو گئی اور اس نے بین الاقوامی میڈیا میں مختلف ردعمل کو جنم دیا۔ اگرچہ دو ہفتوں کی جنگ بندی حاصل ہوئی اور بعد میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس میں توسیع بھی کی گئی، تاہم اس جارحیت کے حقیقی خاتمے تک پہنچنے کے لیے اب بھی ایک پیچیدہ راستہ باقی ہے۔

دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ نے اپنے اپنے مخصوص زاویۂ نظر کے مطابق اس جنگ کی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان عالمی ردعمل کا جائزہ جنگ کی حقیقی صورتحال اور اس کے ممکنہ مستقبل کو زیادہ واضح انداز میں سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

مغربی میڈیا

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعہ کے روز ایران کے ساتھ مذاکرات میں معمولی پیش رفت کی خبر دی، تاہم انہوں نے اس حوالے سے کسی قسم کی مبالغہ آرائی سے گریز کیا۔

روبیو نے ہیلسنگبورگ میں نیٹو وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل گفتگو کرتے ہوئے کہا: کچھ پیش رفت ہوئی ہے اور یہ مثبت بات ہے، لیکن مذاکرات ابھی جاری ہیں۔

رپورٹ کے مطابق روبیو نے یہ بیانات ایسے وقت میں دیے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چند روز قبل کہہ چکے تھے کہ انہوں نے سنجیدہ مذاکرات کی وجہ سے ایران پر فوجی حملے سے گریز کیا۔

ٹرمپ گزشتہ ہفتوں کے دوران تہران کے لیے مختلف ڈیڈ لائنز مقرر کرتے ہوئے بارہا یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ اپریل کے وسط میں ہونے والی جنگ بندی ختم ہو سکتی ہے، تاہم اب تک وہ ان دھمکیوں سے پیچھے ہٹتے رہے ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے مزید لکھا کہ ٹرمپ کی جانب سے ڈیڈ لائن مقرر کرنے اور بعد ازاں اس سے پیچھے ہٹنے کا یہ عمل ایک بار بار دہرایا جانے والا طرز عمل بن چکا ہے۔ رپورٹ میں یاد دلایا گیا کہ انہوں نے پہلے مذاکرات کو موقع دینے کی بات کی، لیکن بعد میں اچانک فروری کے آخر میں حملوں کا حکم جاری کر دیا۔ حالیہ ہفتوں میں مذاکرات میں پیش رفت کے متعدد دعوے سامنے آئے، مگر حتمی معاہدہ اب بھی دور دکھائی دیتا ہے۔ نیٹو کے وزرائے خارجہ اس بات پر بھی غور کر رہے ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز کی سکیورٹی میں اس اتحاد کا ممکنہ کردار کیا ہو سکتا ہے۔

برطانوی اخبار دی گارڈین نے آبنائے ہرمز سے متعلق سفارتی پیش رفت پر اپنی رپورٹ میں لکھا کہ قطری ثالثوں کی تہران روانگی کے ساتھ ہی ایران پر ایک نئے بحری نظام کو قبول کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پانچ ممالک نے ایک خط میں خبردار کیا ہے کہ ایران کی جانب سے تجویز کردہ راستہ دراصل جہازوں کو ایرانی علاقائی پانیوں سے گزرنے اور فیس ادا کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی سویڈن میں نیٹو وزرائے خارجہ کے اجلاس کے دوران ایران پر ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں بھتہ خوری کا نظام قائم کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا اور یورپی ممالک کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے مزید اقدامات نہ کرنے پر مایوسی کا اظہار کیا۔

دوسری جانب بعض تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ امریکی حکام کے یہ بیانات دراصل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو کنٹرول اور کم رکھنے کی کوشش ہیں۔

اس کے مقابلے میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ موجودہ مرحلے میں مذاکرات کی اصل توجہ تمام محاذوں خصوصاً لبنان میں جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام اور یورینیم افزودگی سے متعلق میڈیا رپورٹس کو غیر مصدقہ قیاس آرائیاں قرار دیا۔ یہ بیان ایران کے یورینیم ذخائر کے مستقبل سے متعلق حالیہ خبروں کے ردعمل میں سامنے آیا۔

عرب اور علاقائی میڈیا

عرب نشریاتی ادارے المیادین نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ ایران نے حالیہ جنگ کے دوران امریکی فوجی سازوسامان کو بھاری نقصان پہنچایا اور ۲۴ سے زائد جدید امریکی ریپر ڈرونز تباہ کر دیے، جو پینٹاگون کے ذخیرے کا تقریباً ۲۰ فیصد بنتے ہیں۔

رپورٹ میں بلومبرگ کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایران نے حالیہ تنازعے کے آغاز سے اب تک ۲۴ سے زیادہ امریکی MQ-9 ریپر ڈرونز کو تباہ کیا، جن کی مالیت تقریباً ایک ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق تباہ کیے گئے ڈرونز امریکہ کے پاس موجود اس ماڈل کے کل ذخیرے کا تقریباً ۲۰ فیصد تھے۔ بعض ڈرون ایرانی فائرنگ سے فضائی کارروائیوں کے دوران مار گرائے گئے جبکہ کچھ دیگر میزائل حملوں یا براہ راست فوجی جھڑپوں میں زمین پر تباہ ہوئے۔

MQ-9 Reaper دنیا کے جدید ترین حملہ آور اور جاسوس ڈرونز میں شمار ہوتا ہے جسے امریکہ نگرانی اور ہدفی کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے اس کا متبادل تیار کرنا نہایت مہنگا اور پیچیدہ عمل سمجھا جاتا ہے، جبکہ واشنگٹن کو ان کے فوری متبادل تیار کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ریپر ڈرونز کا نقصان دراصل ان وسیع فضائی نقصانات کا حصہ ہے جو امریکہ نے اس جنگ کے دوران اٹھائے۔ امریکی کانگریس کی رپورٹس کے مطابق واشنگٹن مجموعی طور پر تقریباً ۴۲ طیارے یا تو کھو چکا ہے یا نقصان اٹھا چکا ہے، جن کی مجموعی مالیت تقریباً ۲.۶ ارب ڈالر بنتی ہے۔ ان میں جنگی طیارے، ایندھن بردار جہاز، جاسوسی پلیٹ فارمز اور ریپر ڈرونز شامل ہیں، جو امریکہ کے لیے ایک بڑا مالی اور عملیاتی دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔

عربی ویب سائٹ عربی 21نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ اسرائیل اب بھی ایران کی جانب سے وجودی خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔ غزہ کے خلاف جنگ شروع ہونے کے دو سال بعد اور ایران پر اسرائیلی حملوں کے تقریباً تین ماہ گزرنے کے باوجود، ایران اور غزہ کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے اقتصادی اثرات اب بھی اسرائیلی بازاروں اور کام کی جگہوں پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔

یہ موضوع عبرانی نیوز ویب سائٹ والا کے اقتصادی سیکشن میں بھی نمایاں طور پر زیر بحث آیا، جہاں تشویشناک اقتصادی اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ اسرائیلی امداد حاصل کرنے والوں میں ۶۰ فیصد سے زیادہ ایسے خاندان ہیں جو کام کرنے کی عمر رکھتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بہت سے اسرائیلی شہری آنے والے مہینوں کی صورتحال کے بارے میں پیش گوئی نہیں کر پا رہے اور شدید غیر یقینی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ وقت کے ساتھ ان پر معاشی اور نفسیاتی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ نے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مذاکراتی عمل میں پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال کے اقتصادی منڈیوں پر اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا کہ سونا مسلسل دوسری ہفتہ وار کمی کی جانب بڑھ رہا ہے جبکہ تیل اور ڈالر کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث ہوا ہے۔

سونے کی قیمت میں ۰.۴۸ فیصد کمی کے بعد یہ ۴۵۲۱ ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ اس ہفتے کے دوران مجموعی طور پر سونے کی قیمت میں تقریباً ۰.۳ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ جون میں فراہمی کے لیے امریکی گولڈ فیوچر معاہدے بھی ۰.۳۲ فیصد کمی کے بعد ۴۵۲۸ ڈالر تک پہنچ گئے۔

مارکس کے تجزیہ کار Edward Meir نے کہا کہ سونے کی قیمتوں میں کمی کی بنیادی وجہ امریکی ڈالر کی مضبوطی ہے، جبکہ ڈالر کی یہ مضبوطی دنیا بھر میں بلند شرح سود کے باعث پیدا ہو رہی ہے۔

مشہور خبریں۔

وزارت خزانہ نے کئی وفاقی سرکاری اداروں کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ ظاہر کردیا

?️ 20 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزارت خزانہ نے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے

مشہور ٹاک ٹاکر کھابے لامے کو امریکا میں گرفتار کر لیا گیا

?️ 9 جون 2025لاس ویگاس: (سچ خبریں) سوشل میڈیا کی دنیا کا جانا پہچانا چہرہ،

قیدیوں کا تبادلہ جارحیت کےمکمل طور پر بند ہونے اور صیہونیوں کے غزہ سے نکلنے پر منحصر

?️ 1 جنوری 2024سچ خبریں:فلسطین کی اسلامی جہاد تحریک کے سیکرٹری جنرل زیاد النخالہ نے

ڈالرز کی کمی کے شکار پاکستان کیلئے تشویش ناک خبر

?️ 7 دسمبر 2022لاہور: (سچ خبریں) ڈالرز کی کمی کے شکار پاکستان کیلئے تشویش ناک خبر، عالمی بینک نے

دہشت گردی پاک چین دوستی پر حملہ ہے، چینی حکام سے رابطے میں ہیں، دفتر خارجہ

?️ 7 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) دفتر خارجہ نے کراچی میں چینی شہریوں پر

قطر کا اسرائیل اور شام کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا انکار

?️ 4 فروری 2022سچ خبریں:قطری وزیر خارجہ نے ویانا جوہری مذاکرات کی ناکامی پر گہری

اسٹیٹ بینک نے کرنسی مارکیٹ سے 5.5 ارب ڈالر خرید لیے

?️ 28 مارچ 2025کراچی: (سچ خبریں) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جون سے دسمبر کے

ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کا پہلا بورڈ اجلاس، دہشتگردی کی مالی معاونت روکنے پر غور

?️ 26 اگست 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد میں پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے