?️
سچ خبریں: یمن کی انصار اللہ تحریک کے سیاسی دفتر کے رکن نے امریکہ اور برطانیہ کے یمن پر حملوں کے جواب میں دردناک ردعمل کا انتباہ دیا ہے۔
المیادین چینل کی رپورٹ کے مطابق انصاراللہ کے سیاسی دفتر کے رکن علی القحوم نے امریکہ اور برطانیہ کے وحشیانہ حملوں کے ردعمل میں کہا کہ امریکہ اور برطانیہ کچھ ممالک کو یمن پر حملہ کرنے کی ترغیب دلاے رہے ہیں، ہم یقین دہانی کرتے ہیں کہ ہم ہر حملے کا جواب دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ کی یمن میں امن مذاکرات جاری رکھنے کے لیے سعودی عرب کو گرین
انہوں نے مزید کہا کہ آج کی جنگ امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ عزت و وقار کی جنگ ہے اور یمن کے پاس مقابلے کی بھرپور صلاحیت ہے نیز اور جارحین کو ہمارے ردعمل کا سامنا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ یمن کبھی بھی تسلیم نہیں ہوگا اور امریکہ اور برطانیہ نے اپنے لیے جہنم کے دروازے کھول دیے ہیں، ہم ہمسایہ ممالک کو مشورہ دیتے ہیں کہ دوبارہ خود کو ملوث نہ کریں، یمن اپنے ہمسایوں کے ساتھ امن چاہتا ہے لیکن کسی بھی حملے اور تجاوز کا فوری طور پر جواب دیا جائے گا۔
القحوم نے زور دیا کہ ہم بارہا کہہ چکے ہیں اور دوبارہ زور دیتے ہیں کہ یمن کی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک غزہ کا محاصرہ ختم نہیں ہوتا اور اس پٹی پر حملے رک نہیں جاتے۔
انصاراللہ کے سیاسی دفتر کے رکن نے کہا کہ اگر امریکہ نہیں چاہتا کہ جنگ کا دائرہ وسیع ہو، تو اسے غزہ پر تجاوز اور محاصرہ ختم کرنے کے کوشش کرنی چاہیے بصورت دیگر یمنی حملے جاری رہیں گے اور ان کا دائرہ بھی وسیع ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یمن بلا شک و شبہ امریکہ اور برطانیہ کے تجاوز کا جواب دے گا اور امریکی اور برطانوی اتحاد ان جوابات کو روک نہیں سکے گا، یمن کا جواب انتہائی دردناک ہوگا۔
القحوم نے بیان کیا کہ امریکی اور برطانوی حکام کو سمجھ لینا چاہیے کہ یمن کی طاقت کتنی ہے ، ہمارے بیلسٹک میزائل سمندر اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں مطلوبہ اہداف کو نشانہ بنائیں گے، انہیں نتائج کا سامنا کرنا ہوگا اور یمن پوری قوت سے جواب دے گا، یہ جواب زلزلہ نما اور شدید ہوگا، انہیں ضربات اور سنگین نتائج کا سامنا کرنا ہوگا نیز خطے اور یمن میں تنازعے کے پھیلاؤ کی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔
یاد رہے کہ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب یمن کے مغرب میں امریکی اور برطانوی اتحاد کے حملے میں 2 افراد شہید اور 10 زخمی ہوئے۔
الحدیدہ میں المسیرہ کے رپورٹر نے چار امریکی اور برطانوی حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چند گھنٹے پہلے الحدیدہ کے الحوک علاقے میں ریڈیو کی عمارت پر حملے میں 2 افراد شہید اور 10 زخمی ہوئے۔
امریکی اور برطانوی جنگی طیاروں نے یمن کی بندرگاہ الصلیف میں ایک عمارت کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ علاقے میں ایک مواصلاتی نیٹ ورک کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
امریکی اور برطانوی جنگی طیاروں نے یمن کے دارالحکومت صنعا پر بھی 6 حملے کیے، صنعا ایئرپورٹ کے مضافات اور سنحان علاقے کو بھی بمباری کا نشانہ بنایا گیا جبکہ صنعا میں المسیرہ کے رپورٹر نے النہدین علاقے میں بمباری کی خبر دی۔
عین انسانی حقوق کے مرکز نے ان وحشیانہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے صہیونی حکومت کی حمایت میں شمار کیا۔
مزید پڑھیں: یمن نے امریکی آئزن ہاور طیارہ بردار جہاز کو نشانہ بنایا
اس مرکز نے اپنے بیان میں دنیا بھر کے آزاد لوگوں سے امریکہ اور برطانیہ کے صنعا اور یمن کے دیگر علاقوں پر حملوں کی مذمت کرنے کی اپیل کی۔
اس کے علاوہ، اس مرکز نے مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا مطالبہ کرتے ہوئے صہیونی حکومت کے غزہ پر حملے روکنے کی کوششوں پر زور دیا۔


مشہور خبریں۔
کیا اسرائیل غزہ میں ایٹمی ہتھیار استعمال کر رہا ہے؟
?️ 8 نومبر 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کی کابینہ کے وزیر امیخا الیاہو نے غزہ کی
نومبر
عوام کے ووٹ پر قابو پانے کے لیے امریکہ میں دو طرفہ جدوجہد
?️ 8 اگست 2025سچ خبریں: امریکہ میں پارٹی کی دوبارہ تقسیم ایک ایسا طریقہ ہے
اگست
لبنان کے پارلیمانی انتخابات میں سعودی نے کی نواف سلام کی حمایت
?️ 23 فروری 2022سچ خبریں: سعودی عرب نے لبنان کے سابق سفیر اور اقوام متحدہ
فروری
امریکی ہیلی کاپٹر کا حادثہ واشنگٹن کے لیے ایک نیا پیغام ہے: الیانوف
?️ 10 جون 2026سچ خبریں: بین الاقوامی تنظیموں میں روس کے مستقل نمائندے میخائل اولیانوف نے
جون
صیہونی پوسٹل سسٹم مکمل طور پر ہیک
?️ 1 فروری 2022سچ خبریں:صیہونی حکومت کی ای-پوسٹ کمپنی کے تمام میل باکسز، جن میں
فروری
یوکرین آخرکار امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور
?️ 1 مئی 2025 سچ خبریں:امریکہ اور یوکرین نے مشترکہ فنڈ کے قیام اور نایاب
مئی
چین اور بھارت خود فیصلہ کریں کہ روسی تیل خریدیں یا نہیں:روس
?️ 29 اکتوبر 2025چین اور بھارت خود فیصلہ کریں کہ روسی تیل خریدیں یا نہیں:روس
اکتوبر
امریکہ عراق سے جائے گا تبھی داعش کا مکمل خاتمہ ہوگا:فتح اتحاد
?️ 16 دسمبر 2021سچ خبریں:عراقی فتح پارلیمانی اتحاد کے ایک رکن نے ایک تقریر میں
دسمبر