?️
سچ خبریں:غزہ میں جنگ بندی کو ایک سال گزرنے کے باوجود لاکھوں فلسطینی سر چھپانے کی جگہ، صاف پانی اور طبی سہولیات سے محروم ہیں۔ سردیوں کی آمد کے ساتھ خیموں میں رہنے والے بے گھر خاندانوں کو شدید انسانی بحران کا سامنا ہے، جبکہ بنیادی ضروریات کی قلت بدستور برقرار ہے۔
باشگاه خبرنگاران جوان؛ مینا عظیمی
اسرائیل کی وسیع بمباری کے خاتمے کے لیے ہونے والی جنگ بندی کو ایک سال گزر چکا ہے، لیکن غزہ اب بھی ایک ایسی خاموش جنگ کی لپیٹ میں ہے جو انسانی جانیں لے رہی ہے اور معمولاتِ زندگی کو تباہ کر رہی ہے۔
اس ساحلی پٹی کی 21 لاکھ آبادی میں سے تقریباً 80 فیصد افراد ساحلی علاقے میں گنجان خیموں میں رہ رہے ہیں، جبکہ باقی لوگ متروک عوامی عمارتوں یا تباہ شدہ اسکولوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں چوتھی سردی قریب آ رہی ہے اور علاقے میں انسانی بحران شدت اختیار کر رہا ہے، لیکن طویل مدت میں حالات بہتر ہونے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔
برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے اس حوالے سے وضاحت کی ہے کہ غزہ اب بھی یلو لائن کے محاصرے میں ہے۔ اس لائن کے باعث اسرائیلی قبضے میں غزہ کے گردونواح کا تقریباً دو تہائی حصہ آتا ہے، جبکہ باقی ایک تہائی علاقے میں آبادی شدید دباؤ کا شکار ہے۔
مزید یہ کہ تقریباً 9 لاکھ 50 ہزار افراد ایسے علاقوں میں رہ رہے ہیں جہاں سیلاب کا خطرہ ہے۔ خیموں اور پلاسٹک کی چادروں کی قیمتوں میں بھی شدید اضافہ ہو چکا ہے۔ سردیوں سے پہلے غزہ کو مزید 2 لاکھ خیموں اور 3 لاکھ پلاسٹک کی چادروں کی ضرورت ہے۔
اخبار نے نشاندہی کی ہے کہ اکتوبر 2023 سے غزہ کا بجلی کا نظام بند ہے اور علاقے کے 36 اسپتالوں میں سے صرف 19 جزوی طور پر کام کر رہے ہیں۔
غزہ میں ایم آر آئی اسکین کی کوئی مشین موجود نہیں، جبکہ 20 ہزار مریضوں، جن میں 4 ہزار بچے بھی شامل ہیں، کو فوری طور پر طبی علاج کے لیے علاقے سے باہر منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔
دریں اثنا، تنظیم سیو دی چلڈرن نے اندازہ لگایا ہے کہ طبی انخلا کے منتظر مریضوں کو اپنی باری آنے تک ساڑھے چار سال انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔
اخبار نے مزید لکھا ہے کہ غزہ کی نصف سے زیادہ آبادی کو پینے اور کھانا پکانے کے لیے روزانہ 6 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو ہنگامی حالات میں تجویز کردہ کم از کم مقدار کے نصف سے بھی کم ہے۔
اسی طرح گیس کی عدم دستیابی کے باعث 80 فیصد خاندان کھانا پکانے کے لیے کچرا جلاتے ہیں، جبکہ دو تہائی آبادی غذائی امداد پر انحصار کرتی ہے۔
عالمی خوراک پروگرام کو بھی مجبوراً اپنی ماہانہ امداد سے مستفید ہونے والے افراد کی تعداد 16 لاکھ سے کم کرکے 11 لاکھ کرنا پڑی ہے۔
آکسفیم کی نمائندہ غید الحصی نے اس صورت حال پر کہا:غزہ کے لوگ اب بھی ایسی جنگ کی اذیتیں برداشت کر رہے ہیں جو خبروں اور سوشل میڈیا پر ختم ہوتی دکھائی دے سکتی ہے، لیکن حقیقت میں اور زمینی سطح پر یہ جنگ ختم نہیں ہوئی۔ یہ جنگ خاموشی سے جاری ہے۔


مشہور خبریں۔
امریکہ کے خلاف افشا کاری کرنے والوں کو طویل قید کی سزا دی جایے گی : ٹرمپ
?️ 6 اگست 2026سچ خبریں: جبکہ امریکی ذرائع نے امریکی جنگی ذخائر کی تشویش ناک
اگست
غزہ کے کینسر اور گردے کے مریض جنگ بندی کے ماسک کے پیچھے خاموشی سے مر رہے ہیں
?️ 7 جنوری 2026سچ خبریں: غزہ کے سرکاری عہدیداروں نے پٹی میں صحت کے نظام
جنوری
مقبوضہ کشمیر میں جی 20 اجلاس بلانے کی بھارتی تجویز پر پاکستان کا اظہارِ مذمت
?️ 11 اپریل 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر
اپریل
اقوام متحدہ کی رپورٹر کا سعودی حکام پر الزام
?️ 27 مارچ 2021سچ خبریں:غیر قانونی سزائے موت کے سلسلہ میں اقوام متحدہ کی خصوصی
مارچ
جنگی جہاز، بحری بیڑے اور سی آئی اے وینزویلا میں ٹرمپ کا کیا ہدف ہے؟
?️ 25 اکتوبر 2025جنگی جہاز، بحری بیڑے اور سی آئی اے وینزویلا میں ٹرمپ کا کیا
اکتوبر
ایران امریکہ مذاکرات میں عمانی وزیر خارجہ کو پیش رفت کی امید
?️ 26 فروری 2026ایران۔امریکہ مذاکرات، عمانی وزیر خارجہ کی پیش رفت کی امید سلطنتِ عمان
فروری
فلسطین کا حامی اور یورپی یونین کی پالیسیوں کا مخالف آئرلینڈ کا صدر بنا
?️ 26 اکتوبر 2025سچ خبریں: کترین کانولی نے آئرلینڈ کے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل
اکتوبر
پاکستان نے معاشی استحکام اور سفارتی کامیابیوں کی نئی مثال قائم کی ہے: وزیراعظم
?️ 18 اکتوبر 2025 جہانیاں: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے
اکتوبر