?️
سچ خبریں: سینئر فرانسیسی سفارت کار نے کہا ہے کہ 7 اکتوبر کی شکست نے اسرائیل کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کی رپورٹ کے مطابق فرانسیسی سفارتکار جیرارڈ آرو نے اعلان کیا ہے کہ اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) کی طوفان الاقصیٰ کارروائی کے جواب میں صیہونی حکومت کے ہاتھوں شروع کی جانے والی غزہ جنگ فلسطینی شہریوں کے خلاف اس حکومت کی تاریخ کی سب سے طویل اور خونریز جنگ ہے لیکن واضح رہے کہ اگرچہ یہ جنگ اپنے ساتویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے لیکن اس میں صیہونی حکومت کا کوئی بھی بنیادی اہداف حاصل نہیں ہوسکا ہے بلکہ اس کا وجود خطرے میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صہیونیوں کا غزہ پر خشکی اور سمندر سے حملہ
امریکہ، اقوام متحدہ اور مقبوضہ فلسطین میں سابق سفیر رہنے والے اس فرانسیسی سفارت کار نے، "اسرائیل کا تاریخی جال” کے نام سے ایک کتاب لکھی، جس کی نقاب کشائی لی موندے اخبار نے کی۔
آرو نے اس بات پر زور دیا کہ صیہونی فوج نے جنگ کے لیے بیان کردہ بنیادی اہداف میں سے کوئی بھی حاصل نہیں کیا ہے جن میں قیدیوں کی رہائی، حماس کی فوجی تباہی، حماس کے کمانڈروں کا قتل اور جنوبی اور شمالی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانا شامل ہیں۔
اپنے بیان کے ایک اور حصے میں، انہوں نے مزید کہا کہ 7 اکتوبر اسرائیل کی تاریخ کی سب سے بڑی اسٹریٹجک ناکامی ہے، یہ واضح نہیں ہے کہ اسرائیل اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو کیسے بحال کرنا چاہتا ہے،اسرائیل کے لیے تباہ ہو چکا ہے ،اپنی قوت مدافعت کھو بیٹھا ہے اور جن سرزمینوں میں وہ موجود ہے وہاں کی سلامتی کے بارے میں جھوٹ بول رہا ہے۔
دوسری جانب غزہ کے اردگرد کی بستیوں پر مزاحمت کاروں کے میزائل حملے نے صیہونیوں کی دہشت پھیلا دی ہے اور مجاہدین بٹالینز نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے غزہ کی پٹی کے قریب صہیونی بستیوں کو نشانہ بنایا ہے۔
عبرانی زبان میں شائع ہونے والے اخبار معاریو اور عبرانی زبان کی والہ نیوز سائٹ نے بھی اعتراف کیا کہ اسرائیلی حکام حماس کو تباہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
والہ نیوز سائٹ نے بتایا کہ نیتن یاہو نے جس مکمل فتح کا وعدہ کیا تھا وہ غزہ کے ساحل اور خالی کرائے گئے قصبے المطلہ کے درمیان بکھر گئی اور نصف سال سے زیادہ جنگ کے بعد بھی اسرائیلی حکومت ابھی تک جنگ کے بعد کے مرحلے کے لیے ایک پالیسی یا حکمت عملی نہیں بنا سکی۔
متذکرہ ذریعہ نے نشاندہی کی کہ ایسی صورت حال میں حماس مستحکم رہی ہے اور اقتدار میں واپس آگئی ہے اور نیتن یاہو نے اپنے حکومتی اتحاد کو منتشر نہ کرنے کے لیے سخت سیاسی فیصلے کرنے سے گریز کیا ہے اور سب کو غیر فیصلہ کن بنا رکھا ہے۔
مزید پڑھیں: 7 اکتوبر سے یکم اپریل تک حماس اور ایران کے خلاف صیہونیوں کی غلطیاں
اس حوالے سے عبرانی زبان کے اخبار Ma’ariv نے بھی کہا کہ نیتن یاہو، Gantz، Gallant اور Herzi Halevi صورتحال کو پیچیدہ بنانے کے ذمہ دار ہیں جبکہ ان کے پاس حماس اور حزب اللہ کو تباہ کرنے کا کوئی تزویراتی وژن نہیں ہے نیز اسے ایک اور پیچیدہ صورتحال کا سامنا ہے کیونکہ ایران مساوات میں داخل ہو چکا ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا اسرائیلی حکام فتح کے راستے پر نہیں بلکہ شرمندگی کے راستے پر چل رہے ہیں۔


مشہور خبریں۔
غزہ کے خلاف امریکہ اور صیہونی حکومت کی خطرناک حکمت عملی
?️ 14 اکتوبر 2023سچ خبریں:چند گھنٹے پہلے کچھ علاقائی میڈیا کے میڈیا کے مطابق امریکہ
اکتوبر
شوکت ترین کے کاغذات نامزدگی کو چیلنج کر دیا گیا
?️ 9 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) مشیر خزانہ شوکت ترین کے کاغذات نامزدگی کو
دسمبر
ہیگ میں صہیونی جنگی جرائم کا معاملہ زیر غور؛صیہونی حکام تشویش میں مبتلا
?️ 3 مارچ 2021سچ خبریں:اسرائیلی وزیر جنگ نے ہیگ ٹریبونل میں صہیونی جنگی جرائم کی
مارچ
کیا اردگان اور اسد ملاقات کریں گے؟
?️ 6 جولائی 2024سچ خبریں: اردگان کی ہمیشہ عادت ہے کہ وہ ہوائی جہاز میں پرواز
جولائی
اردن کے عقبہ ایئرپورٹ پر سیکڑوں صیہونی سرگرداں، فرار کی لہر میں تیزی
?️ 30 مارچ 2026سچ خبریں:ایرانی حملوں کے خوف کے باعث صیہونیوں کے انخلا میں اضافہ،
مارچ
شہدا کیلئے دعا گو ہوں، پاکستان کے دشمن کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ بیرسٹر گوہر
?️ 31 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر
جنوری
عالمی عدالت انصاف نے صیہونیوں سے کیا کہا ہے؟
?️ 31 مارچ 2024سچ خبریں: دی ہیگ میں بین الاقوامی عدالت انصاف نے اسرائیلی حکومت
مارچ
انصار اللہ کی سعودی عرب کو سخت وارننگ
?️ 6 جنوری 2025سچ خبریں:یمن کی انصار اللہ تحریک کے سیاسی کونسل کے رکن محمد
جنوری