کیا ہم یمن کو ٹوٹتے ہوئے دیکھیں گے،آنے والی گھڑیاں فیصلہ کن ہیں

یمن

?️

کیا ہم یمن کو ٹوٹتے ہوئے دیکھیں گے،آنے والی گھڑیاں فیصلہ کن ہیں

یمنی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں ایسی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں جن کا مقصد یمن کو عملی طور پر تقسیم کرنا ہے، جبکہ خفیہ اطلاعات کے مطابق امریکہ اور اسرائیل ایک ممکنہ زمینی حملے کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔ یمن پرس کے مطابق یہ تحولات نہ صرف داخلی کشمکش کا نتیجہ ہیں بلکہ ایک وسیع علاقائی منصوبے کا حصہ ہیں جو مشرقِ وسطیٰ کے نقشے میں تبدیلی کا خطرناک اشارہ دیتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی عبوری کونسل نے صنعا کا محاصرہ مکمل کرنے کی جانب اہم پیش رفت کی ہے، اور یہ اقدامات ایسی فضا پیدا کر رہے ہیں جس میں تیس ملین یمنی شہری اپنے ملک کی تقسیم کے دہانے پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق کونسل کی مشرقی علاقوں تک رسائی اس منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد صنعا کو بقیہ یمن سے مکمل طور پر جدا کرنا ہے۔ کونسل کے قریب ذرائع دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس مرحلے تک پہنچ چکے ہیں جس کے لیے وہ برسوں سے انتظار کر رہے تھے۔

صنعا کے شہری احمد المهری کا کہنا ہے کہ وہ ملک کے مکمل بکھرنے کے خدشے سے شدید پریشان ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مختلف علاقوں میں وہ پرچم لہرائے جا رہے ہیں جو ممکنہ تقسیم کی علامت ہیں۔ یہ منظر بعض یمنی شہریوں کو ۱۹۴۸ میں فلسطین پر قبضے کے واقعات کی یاد دلاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرحدی علاقوں میں کشیدگی بڑھتی محسوس ہو رہی ہے اور لوگ خوف کے باعث اپنے گھروں سے نکلنے لگے ہیں۔

یمن پرس کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ موجودہ صورت حال صرف اندرونی بحران نہیں بلکہ ایک وسیع تر علاقائی منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد اسٹریٹجک آبی راستوں اور عالمی تجارتی گزرگاہوں پر قابو پانا ہے۔ اسٹریٹجک امور کے تجزیہ کار محمد العرب کا کہنا ہے کہ یمن کے بارے میں یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ وہ خطے کا نیا شام بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق باب المندب پر کنٹرول کا مطلب عالمی تجارت کے تقریباً دس فیصد حصے پر قبضہ ہے۔

انہوں نے محاصرے کی صورتحال کو ایک ایسی افعی سے تشبیہ دی جو اپنے شکار کو آہستہ آہستہ جکڑ رہی ہو۔ ان کے بقول یمن میں موجود مختلف قوتیں براہ راست تصادم کے ایک نئے مرحلے کے لیے تیار ہو رہی ہیں۔

عوام میں بھی خوف کی لہر بڑھ رہی ہے اور سرحدی علاقوں کے رہائشی ممکنہ زمینی حملے کے اندیشے کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ صنعا کی رہائشی فاطمہ الخضرمیہ کا کہنا ہے کہ وہ خود کو ’’طوفان سے پہلے کی خاموشی‘‘ میں پاتے ہیں، جو ایک بڑے سانحے کی علامت ہو سکتی ہے۔ ادھر ایندھن کی قلت اور سفر کی دشواریوں نے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ یمن کی انسانی بحران کی صورت حال پہلے ہی اپنی دسویں سالگرہ میں داخل ہو چکی ہے اور اسی فیصد آبادی کسی نہ کسی شکل میں اس سے متاثر ہے۔

یمن پرس کے مطابق جیسے جیسے محاصرہ مکمل ہو رہا ہے اور زمینی کارروائی کی افواہیں بڑھ رہی ہیں، یمن ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہو چکا ہے۔ عالمی برادری کے پاس بھی وقت کم ہوتا جا رہا ہے کہ وہ ایک ایسے انسانی المیے کو روک سکے جو خطے کے نقشے کو تبدیل کر سکتا ہے۔ اب یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ آیا یمن تقسیم ہو کر ’’جنوبی یمن‘‘ نامی ایک نئے ملک کی پیدائش کا گواہ بنے گا یا عالمی مداخلت اس عمل کو روک سکے گی۔

دوسری جانب یمن کے صوبہ شبوہ کے گورنر عوض العولقی نے کہا ہے کہ المہرہ اور حضرموت میں حالیہ ہفتوں کے واقعات واشنگٹن اور تل ابیب کے منصوبے کا حصہ ہیں اور یہ اقدامات سعودی عرب اور امارات کے روایتی کردار سے باہر ہیں۔ ان کے مطابق امارات کے زیرِ اثر جنوبی عبوری کونسل کے دستوں نے حضرموت اور المہرہ میں جو کنٹرول حاصل کیا ہے اس کا مقصد اسرائیل کے لیے راستہ ہموار کرنا اور صنعاء کی توجہ آئندہ محاذ آرائی سے ہٹانا ہے۔ العولقی کا کہنا ہے کہ یہ فورسز جنوبی بندرگاہوں، اہم تنصیبات اور تیل کے ذخائر کو اسرائیلی اثر میں دینا چاہتی ہیں، اور ان اقدامات کو وہ ’’واضح غداری‘‘ قرار دیتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حضرموت میں سعودی کردار میں کمی بھی اسی بڑے منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد صنعاء پر دباؤ بڑھا کر اسے ایسے امن منصوبے پر مجبور کرنا ہے جو امریکہ اور اسرائیل کے مفادات سے ہم آہنگ ہو۔ العولقی نے جنوبی عبوری کونسل کے بعض عناصر پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ یہ جرائم کسی صورت معاف نہیں کیے جائیں گے۔

چند روز قبل حضرموت میں امارات نواز مسلح گروہوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد اماراتی گروہ نے اس صوبے پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ اس کے بعد جنوبی عبوری کونسل نے نامحدود ہڑتال کا اعلان کیا اور جنوبی و مشرقی صوبوں کی علیحدگی کا مطالبہ کیا۔

مشہور خبریں۔

غزہ میں جنگ بندی جاری رکھنے کے لیے قابض حکومت کی شرط

?️ 1 مارچ 2025سچ خبریں: ایک باخبر ذریعے نے بتایا کہ امریکہ غزہ جنگ بندی کے

غزہ جنگ میں بی بی سی نے ظالم کا ساتھ دیا یا مظلوم کا؟ بی بی سی نامہ نگاروں کی زبانی

?️ 25 نومبر 2023سچ خبریں: بی بی سی نیوز چینل کے متعدد صحافیوں نے ایک

میرے شوہر ہندو نہیں، مدیحہ امام کی ایک بار پھر وضاحت

?️ 4 جون 2024کراچی: (سچ خبریں) گزشتہ برس مئی میں غیر ملکی شخص سے شادی

ٹرمپ نے مذاکرات کا بہانہ بنا کر دھمکیوں سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی؛ صہیونی میڈیا کا انکشاف

?️ 24 مارچ 2026سچ خبریں:صہیونی اخبار معاریو کے مطابق ٹرمپ نے ایران کے خلاف دھمکیوں

کیا آج بھی دنیا کو خوارج کا خطرہ ہے؟ اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مندوب کی زبانی

?️ 11 اگست 2024سچ خبریں: اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے

امریکی معیشت کو ۲۰۲۶ میں درپیش سب سے بڑا خطرہ، ٹرمپ کی غیر یقینی تجارتی پالیسیاں

?️ 23 دسمبر 2025امریکی معیشت کو ۲۰۲۶ میں درپیش سب سے بڑا خطرہ، ٹرمپ کی

بھارت نے ہردس کشمیریوں پر ایک مسلح فوجی مسلط کررکھا ہے:کل جماعتی حریت کانفرنس

?️ 12 اپریل 2024سرینگر: (سچ خبریں) کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ بی

یمن کے خلاف تازہ ترین صہیونی جارحیت کی تفصیلات

?️ 11 جنوری 2025سچ خبریں:صہیونی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے