کسی بھی صورت میں ہتھیار نہین ڈالیں گے:جہاد اسلامی

جہاد اسلامی

?️

کسی بھی صورت میں ہتھیار نہین ڈالیں گے:جہاد اسلامی
 فلسطینی مزاحمتی تنظیم جہادِ اسلامی نے اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی میں مسلسل رکاوٹوں اور جارحیت کے تناظر میں واضح اعلان کیا ہے کہ وہ کسی بھی حالت میں اپنے مزاحمتی ہتھیار تسلیم نہیں کرے گی۔
 جہادِ اسلامی فلسطین کے ترجمان محمد الحاج موسیٰ نے کہا کہ گزشتہ ہفتے سے غزہ کی پٹی میں غیرنہتے شہریوں کے خلاف صہیونی رژیم کے وحشیانہ حملوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق یہ بمباری جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے نتائج پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی اسرائیلی کوششوں کا حصہ ہے۔
انہوں نے العربی الجدید سے گفتگو میں کہا کہ بنیامین نیتن یاہو کی سربراہی میں صہیونی کابینہ اپنی سیاسی بقا، بالخصوص آئندہ انتخابات کے پیش نظر، قتلِ عام اور کشیدگی کو جاری رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور تمام محاذوں کو بھڑکانے کی کوشش کر رہی ہے، کیونکہ اس کے پاس قبضے اور جارحیت کے سوا کوئی سیاسی وژن نہیں۔
محمد الحاج موسیٰ نے مزید کہا کہ نیتن یاہو کی حکومت غزہ اور لبنان میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکامی سے آگاہ ہے، اسی لیے وہ قتلِ عام اور ٹارگٹ کلنگ کو خوف پھیلانے اور دباؤ ڈالنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جنگ بندی کے حوالے سے مصر کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور قاہرہ غزہ کی زمینی صورتحال سے مکمل طور پر باخبر ہے۔ مصر، ترکیہ اور قطر نے اسرائیلی حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کی شدید مذمت کی ہے، تاہم اصل مسئلہ امریکہ کا مؤقف ہے جو صہیونی قابض قوت کو جارحیت جاری رکھنے کے لیے مکمل سیاسی تحفظ فراہم کر رہا ہے۔
ترجمان جہادِ اسلامی نے کہا کہ صہیونی رژیم کی جانب سے غزہ کی انتظامی کمیٹی کو پٹی میں داخل ہونے سے روکنا، رفح گزرگاہ پر غیر انسانی اقدامات اور مزاحمتی قوتوں کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ، سب جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں رکاوٹ ڈالنے کی منظم کوششیں ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکہ اس بات کا ذمہ دار ہے کہ وہ اسرائیل کو اس جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کا پابند بنائے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کی بنیاد پر طے پایا تھا۔
مزاحمتی ہتھیاروں کے حوالے سے محمد الحاج موسیٰ نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ جہادِ اسلامی کا مؤقف واضح اور غیر متزلزل ہے۔ مزاحمت اور اس کے ہتھیار فلسطینی عوام کے حقیقی محافظ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہتھیاروں کا معاملہ مکمل طور پر ایک داخلی فلسطینی مسئلہ ہے، یہ ہتھیار فلسطینی عوام کی ملکیت ہیں اور کسی کو انہیں ترک کرنے کا حق حاصل نہیں۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ صہیونی قابض قوت فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقِ مزاحمت اور اپنے حقوق کے دفاع سے محروم کرنا چاہتی ہے، لیکن فلسطینی قوم کسی بھی دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائے گی۔

مشہور خبریں۔

کشمیریوں کو گزشتہ 76 برس سے شدید بھارتی مظالم اور سیاسی ناانصافیوں کا سامنا ہے، حریت کانفرنس

?️ 21 مارچ 2024سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں

مقبوضہ جموں وکشمیر: پولیس کو آزادی پسندوں کے خلاف کریک ڈاﺅن میں تیزی لانے کی ہدایت

?️ 9 مارچ 2024جموں: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں

یمن نے یافا کو ہائپر سونک میزائل سے نشانہ بنایا

?️ 16 ستمبر 2024سچ خبریں: یمنی فوج کا ہائپرسونک میزائل مقبوضہ علاقوں میں اپنے ہدف

یمن کی ناکہ بندی کے باعث اسرائیل میں اشیا کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافہ 

?️ 8 جنوری 2024سچ خبریں:صیہونی حکومت کے چینل 10 ٹی وی کے اعتراف کے مطابق

صہیونیوں نے حرم ابراہیمی میں قرآن پاک کے نسخے جلائے

?️ 10 اکتوبر 2022سچ خبریں:    صیہونی آبادکاروں نے آج صبح مغربی کنارے کے الخلیل

امریکہ کا کیریبین میں ایک اور بحری جہاز پر حملہ؛ مادورو: کیا آپ ایک اور غزہ چاہتے ہیں؟

?️ 16 نومبر 2025سچ خبریں: یو ایس سدرن کمانڈ نے اعلان کیا کہ اس نے

پیٹرولیم ڈویژن کی ہدایات پر گیس کے کنویں بند کیے گئے، جس سے 1.5 ارب ڈالر کا نقصان ہوا

?️ 20 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے

انگلینڈ کشیدگی کے ایک نئے دور میں

?️ 13 ستمبر 2024سچ خبریں: لندن میں روسی سفارت خانے نے آر آئی اے نووستی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے