پوٹن سے ملاقات مکمل جنگ بندی ہے:ٹرمپ

صدر

?️

پوٹن سے ملاقات مکمل جنگ بندی ہے:ٹرمپ
ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرینی صدر  زیلنسکی اور یورپی رہنماؤں کو یقین دلایا ہے کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے جمعہ کو ہونے والی ملاقات میں جنگ بندی کے حصول اور یہ جانچنے کی کوشش کریں گے کہ آیا مکمل امن معاہدہ ممکن ہے یا نہیں۔ یہ ملاقات امریکی ریاست الاسکا کے شہر اینکوریج میں متوقع ہے۔
امریکی ویب سائٹ اکسیوس کے مطابق، یوکرینی اور یورپی حکام ٹرمپ کے اس اجلاس کے مقاصد کے بارے میں غیر یقینی کا شکار تھے، تاہم جنگ بندی کا ہدف ان کے مفاد سے مطابقت رکھتا ہے۔ اس کے باوجود، پوٹن اب تک غیر مشروط جنگ بندی کی تجویز کو کئی بار مسترد کر چکے ہیں۔
ٹرمپ نے اس ملاقات کو مزید جانچنے کا اجلاس قرار دیتے ہوئے بڑے بریک تھرو کے امکانات کم ظاہر کیے، لیکن فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون اور جرمن چانسلر فریڈرش مرتس نے تصدیق کی کہ ٹرمپ کا مقصد جنگ بندی ہے۔ بدھ کو ہونے والی ایک گھنٹے سے زائد طویل ٹیلی فونک کانفرنس کو زیلنسکی اور یورپی رہنماؤں کے لیے ٹرمپ پر اثر انداز ہونے کا آخری موقع سمجھا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق زیلنسکی نے ٹرمپ کو خبردار کیا کہ "پوٹن پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا”۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ خطے کے رہائشی نہیں، اس لیے زمینی معاملات پر حتمی فیصلہ نہیں کر سکتے، تاہم ان کا ماننا ہے کہ امن معاہدے کا حصہ زمین کا تبادلہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق علاقائی تنازعہ پر فیصلہ ولودیمیر (زیلنسکی) اور ولادیمیر (پوٹن) کو کرنا ہوگا۔
میکرون نے اس موقع پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ "یہ ملاقات پوٹن کو بڑا فائدہ دے گی” جس پر ٹرمپ ناخوش نظر آئے۔ جرمن چانسلر مرتس، نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے اور اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے بھی بحث میں سرگرم کردار ادا کیا۔ پولینڈ کے صدر کارول ناوروکی نے ٹرمپ کو 105 سال قبل ہونے والی وارسا کی جنگ یاد دلائی، جب پولینڈ اور یوکرین نے مل کر روسی بالشویکوں سے مقابلہ کیا تھا۔
زیلنسکی اور مرتس نے بعد ازاں برلن میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے زور دیا کہ اجلاس میں یوکرین اور یورپ کے مفادات کا تحفظ ہونا چاہیے۔ زیلنسکی نے روس پر مزید دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ پوٹن کا یہ کہنا کہ پابندیوں کا کوئی اثر نہیں، محض ایک bluff ہے۔
مرتس کے مطابق ٹرمپ نے اس بات سے اتفاق کیا کہ جنگ کے دوران روس کے قبضے میں جانے والے علاقے روس کے نہیں ہو سکتے۔ ٹرمپ نے تجویز دی کہ بیشتر محاذ کی لائنیں برقرار رہیں اور دیگر حصوں میں زمین کا تبادلہ کیا جائے، جو کہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ نہیں بلکہ عارضی سرحدیں ہو سکتی ہیں۔
ٹرمپ کے مشیروں کا کہنا ہے کہ وہ قلیل مدتی پیش رفت پر توجہ دے رہے ہیں تاکہ یوکرین اور روس کو امن معاہدے کے قریب لایا جا سکے۔ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ حالیہ دنوں پوٹن سے ناخوش تھے، مگر اب وہ پرامید ہیں۔ ان کے خیال میں دونوں فریقین جنگ سے تھک چکے ہیں اور امریکہ کے پاس دونوں کے درمیان جنگ بندی کروانے کے لیے کافی اثر و رسوخ ہے۔
دوسری جانب یورپی رہنماؤں کو پوٹن کی نیت پر شک ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کے بغیر کوئی سفارتی حل ممکن نہیں اور ایک سہ فریقی اجلاس (زیلنسکی، ٹرمپ، پوٹن) ضروری ہے، جس پر ٹرمپ نے رضامندی ظاہر کی لیکن پوٹن نے مخالفت کی۔
ٹرمپ نے وعدہ کیا کہ پوٹن سے ملاقات کے بعد وہ یورپی اور یوکرینی رہنماؤں کو صورتحال سے آگاہ کریں گے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ملاقات کشیدگی میں کمی کا اشارہ ہو سکتی ہے، لیکن گہرے اختلافات کے باعث کسی جامع حل کا امکان کم ہے، خاص طور پر مشرقی یوکرین کے مستقبل پر۔ تاہم یہ اجلاس سفارتکاری میں ایک نیا باب بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

تل ابیب اور ویٹیکن کے درمیان تلخ تعلقات ؛ وجہ؟

?️ 23 جولائی 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی ویٹیکن کے پوپ

کے خلاف میکرون کے موقف کی تبدیلی کے پیچھے کیا راز ہے؟

?️ 4 مئی 2025سچ خبریں: 7 اکتوبر 2023 کو العاصی طوفان کے بعد کے ابتدائی

ایپل کی نئی پرائیویسی پالیسی، جانئے اس رپورٹ میں

?️ 27 اپریل 2021لندن (سچ خبریں)امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل اپنی نئی پرائیویسی پالیسی کے مطابق

فلسطینی اتھارٹی کاتل ابیب پر بین الاقوامی دباؤ ڈالنے کا مطالبہ

?️ 12 دسمبر 2021سچ خبریں:فلسطینی اتھارٹی کے محکمہ خارجہ نے صیہونی حکومت کو آبادکاری روکنے

افغانستان پر نظر رکھنے کے لیئے پاکستانی فوجی اڈوں کو استعمال کرنے کا معاملہ، امریکا نے نیا بیان جاری کردیا

?️ 26 مئی 2021واشنگٹن (سچ خبریں) اگرچہ امریکا نے افغانستان سے اپنی افواج کو نکالنے

ترکی سے مغربی سفیروں کی بے دخلی نے اردگان کو مشکل میں ڈالا

?️ 26 اکتوبر 2021سچ خبریں: اردگان کے اقدام 10 ممالک کے سفیروں کو آنکارا سے

نیتن یاہو کے اقتدار میں رہنے تک دو ریاستی حل ناممکن

?️ 20 جنوری 2024سچ خبریں:خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس سوال کے جواب میں

کوئٹہ سیف سٹی منصوبے پر کام تیز کرنے کی ہدایت

?️ 18 ستمبر 2024کوئٹہ: (سچ خبریں) انسپکٹر جنرل بلوچستان معظم جاہ انصاری نے متعلقہ حکام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے