نیتن یاہو کو کیا کرنا چاہیے؛اسرائیلی کیا کہتے ہیں؟

نیتن یاہو

?️

سچ خبریں: صیہونی حکومت کی حزب اختلاف کی تحریک کے رہنما یائر لاپڈ نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیلی سکیورٹی سروسز اور صہیونی برادری کا نیتن یاہو پر سے اعتماد ختم ہو گیا ہے اور انہیں اپنے عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق صیہونی حکومت کے سابق وزیر اعظم اور اس حکومت کی کابینہ کے مخالف دھڑے کے سربراہ یائر لاپڈ نے غزہ جنگ کے حوالے سے بنیامین نیتن یاہو کے انتظام پر تنقید کرتے ہوئے انہیں اقتدار سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: نیتن یاہو کو تل ابیب میں بھی سکون کا سانس نصیب نہیں

اس رپورٹ کے مطابق صیہونی وزیر اعظم بنیامنین نیتن یاہو کے مستعفی ہونے کے مطالبات کا سلسلہ جاری ہے جبکہ کابینہ میں حزب اختلاف کے رہنما یائر لاپڈ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ عوام کا اعتماد سے محروم ہو چکے ہیں لہذا انہیں خود ہی اقتدار سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔

نیتن یاہو کی کابینہ کے حزب اختلاف کے رہنما نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ جو بھی اس طرح سے ناکام ہو جاتا ہے وہ کرسی پر نہیں رہ سکتا”، مزید کہا کہ 7 اکتوبر کی مصیبت نیتن یاہو کے نام پر لکھی گئی ہے اور اس نے عوام کا اعتماد کھو دیا ہے اس لیے اسے صرف صحیح کام کرنا چاہیے اور اقتدار سے دستبردار ہونا چاہیے۔‘

یائر لاپڈ نے نیتن یاہو کی دائیں بازو کی کابینہ کی کارکردگی کے خلاف اپنا تنقیدی بیان جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہمارے لیے عذاب اور وبال جان بننے والی اس کابینہ کا ہمیں چھوڑنے کا وقت آگیا ہے۔

لاپڈ نے نیتن یاہو کو اسرائیل کی تاریخ کی سب سے بڑی تباہی کا سبب سمجھا اور اس حوالے سے زور دے کر کہا کہ نیتن یاہو کو ہماری زندگیوں سے نکل جانا چاہیے۔

اس حوالے سے اسرائیل کے چینل 13‘نے ایک سروے شائع کیا جس میں بتایا گیا کہ 76 فیصد شرکاء کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کو فوری طور پر یا جنگ کے خاتمے کے بعد استعفیٰ دے دینا چاہیے۔

اس سروے میں 47 فیصد شرکاء نے اس بات کی تصدیق کی کہ غزہ جنگ کے خاتمے پر موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم کو مستعفی ہو جانا چاہیے،اس سروے میں حصہ لینے والوں میں سے 29% نیتن یاہو کے فوری استعفیٰ کے خواہاں تھے۔

اس سروے کے مطابق صرف 18 فیصد کا خیال ہے کہ نیتن یاہو کو جنگ کے بعد تک اقتدار میں رہنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ کے خاتمے کا کیا مطلب ہے؟ صیہونی وزیر کی زبانی

سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ 44 فیصد شرکاء کا خیال ہے کہ نیتن یاہو جنگ کے ذمہ دار ہیں، جب کہ ان میں سے 33 فیصد کا خیال ہے کہ اسرائیلی فوج موجودہ تنازع کی ذمہ دار ہے۔

سروے کے مطابق 64 فیصد شرکاء جنگ کے خاتمے کے بعد انتخابات چاہتے تھے جب کہ صرف 26 فیصد نے کہا کہ موجودہ کابینہ کو اقتدار میں رہنا چاہیے۔

مشہور خبریں۔

یمن پر حملے میں صیہونی حکومت کے چیلنجز

?️ 26 دسمبر 2024سچ خبریں: لبنان میں جنگ بندی اور غزہ میں کشیدگی میں نسبتاً

اسرائیلی فوجیوں کی نفرت آمیز رویے پر امریکہ کا اسرائیل سے سوال

?️ 21 ستمبر 2024سچ خبریں: وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے جمعہ

ہر ادارے کی کارکردگی جانچی جائے گی، کسی بھی کارروائی سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، وزیراعظم

?️ 16 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اب

پولی گرافک ٹیسٹ اُن لوگوں کا ہونا چاہیئے جو جھوٹے کیسز بناتے ہیں، شاہد خاقان عباسی

?️ 24 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان

تل ابیب کے خلاف جنوبی افریقہ کی شکایت

?️ 29 جون 2024سچ خبریں: غزہ میں نسل کشی کی وجہ سے صیہونی حکومت کے خلاف

بلوچستان میں جوڑے کا مبینہ جرگے کے حکم پر قتل انسانیت سوز ہے۔ اعظم نذیر تارڑ

?️ 20 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ دُگاری

ٹرمپ بائیڈن کے ایگزیکٹو آرڈرز پہلے ہی ہفتے میں منسوخ کر دیں گے

?️ 11 نومبر 2024سچ خبریں:امریکہ کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی الیکشن مہم کی ترجمان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے