مودی،اردوغان اور بن سلمان سمیت37 سربراہان صحافت کی آزادی کے دشمن افراد کی فہرست میں شامل

مودی

?️

سچ خبریں:نریندر مودی، طیب اردوغان اور محمد بن سلمان سمیت 37 سربراہان مملکت ’پریڈیٹرز آف پریس فریڈم‘ کی فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے۔

صحافیوں کے تحفظ کی بین الاقوامی تنظیم ‘رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز’ نے ایسے ملکوں کے سربراہان کی فہرست جاری کی ہے جو ان کے مطابق اپنے ملک میں سنسرشپ، صحافیوں کو قید کر کے انھیں تشدد کا نشانہ بنانے، ہراس کرنے یا انھیں نامعلوم افراد کے ہاتھوں قتل کروا کر آزادی صحافت کو مسلسل دبانے کی کوشش کر رہے ہیں ،رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے اس فہرست کو ‘پریڈیٹرز آف پریس فریڈم’ یعنی آزادی صحافت کے دشمنوں کا نام دیا ہے۔

ان 37 ممالک کے سربراہان میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سمیت ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی، سعودی عرب کے شہزادہ محمد بن سلمان، ترکی کے طیب اردوغان، چین کے صدر شی جن پنگ، روس کے ولادیمیر پوتن اور شمالی کوریا کے کم جونگ ان کے نام بھی شامل ہیں،جبکہ ایشیا کی دو خاتون سربراہان مملکت کا شمار بھی اس فہرست میں کیا گیا ہے، ان میں بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ اور ہانگ کانگ کی چیف ایگزیکٹو کیری لام شامل ہیں، جبکہ چند یورپی ممالک کے سربراہ بھی اسی فہرست میں نظر آتے ہیں۔

رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرزکی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق ان سربراہان مملکت میں سے چند گذشتہ دو دہائیوں سے اپنے ملک میں آزادی صحافت کو سلب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،رپورٹرز ود آؤٹ بارڈر نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سنہ 2016 کے پانچ برس بعد شائع کردہ ‘پریڈیٹرز آف پریس فریڈم’ کی فہرست میں 17 ممالک کے سربراہان کو پہلی بار شامل کیا گیا ہے جو اقتدار میں آنے کے بعد سے ملک کے میڈیا پر قدغنیں لگا رہے ہیں،ان میں سعودی عرب کے شہزادہ محمد بن سلمان بھی شامل ہیں۔

اس رپورٹ میں 19 ایسے ممالک کو سرخ رنگ میں دکھایا گیا ہے جہاں صحافت کے لیے حالات خراب ہے اور صحافیوں کو آزادانہ طور پر کام کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ 16 ایسے ممالک کی سیاہ رنگ سے نمائندگی کی گئی ہے جہاں آزاد صحافت کی صورتحال ‘انتہائی خراب’ ہے اور ان ممالک میں صحافیوں کو آزادنہ صحافت کرنے میں سنگین نتائج سمیت انتہائی خراب حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے،اس رپورٹ میں آزاد صحافت کے شکاریوں کے طور پر بیان کیے جانے والے 37 سربراہان میں سے 13 کا تعلق ایشیا پسیفک خطے سے ہے۔

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈز کے سکیرٹری جنرل کرسٹفی ڈیلور کا اس فہرست کے متعلق کہنا تھا کہ پریڈیٹرز آف پریس فریڈم فہرست میں دنیا بھر کے 37 سربراہان مملکت کو شامل کیا گیا ہے لیکن کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ فہرست جامع ہے،ان کا کہنا تھا کہ ہر ملک کے سربراہ کا آزادی صحافت کو ختم کرنے کا اپنا طریقہ ہے، کوئی غیر منطقی اور بے بنیاد احکامات جاری کر کے دہشت کا راج قائم کرتے ہیں تو کوئی سخت قوانین پر مبنی حکمت عملی اپناتے ہیں، چیلنج یہ ہے کہ ہم حکمرانوں کے ہتھکنڈوں کو معاشرے میں مقبول نہ ہونے دیں۔

مشہور خبریں۔

افغانستان ہمارا دشمن نہیں ہے، اسے دشمن بنانے کی کوشش نہ کریں، عمران خان

?️ 18 مارچ 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین

موساد اور شباک نے غزہ میں فوجی شکست کو تسلیم کیا

?️ 6 مئی 2024سچ خبریں: عبرانی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ وزیر جنگ نے آرمی

صہیونیوں کے ہاتھوں مغربی کنارے میں حماس کے 120 اراکین گرفتار

?️ 22 جولائی 2021سچ خبریں:صہیونی حکومت نے صرف دو ماہ کے دوران حماس کے 120

جولانی اور نیتن یاہو کی واشنگٹن میں ملاقات کا امکان

?️ 27 اگست 2025اسرائیلی اخبار معاریو نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ

امریکیوں کا کرسمس کے تحائف کم خریدنے کا اعلان

?️ 23 نومبر 2022سچ خبریں:امریکہ بھر میں متعدد گھرانے، خوردہ فروش اور خیراتی ادارے بڑھتی

روس افریقہ کے ساتھ تعلقات بڑھانے کا خواہاں

?️ 6 اگست 2023سچ خبریں:روس کی وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ

نتن یاہو پاتال کے کنارے پر

?️ 11 جولائی 2024سچ خبریں: آنے والا موسم خزاں صیہونی حکومت کے وزیراعظم بنجمن نیتن

امریکہ اور صیہونی حکومت کو دندان شکن جواب ملے گا:آیت اللہ خامنہ ای

?️ 2 نومبر 2024سچ خبریں:آیت اللہ خامنہ ای نے طلبہ اور طالبات کے اجتماع سے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے