?️
معیشت،کل ٹرمپ کی طاقت آج کمزوری
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ریاستی دوروں اور معاشی تقاریر کے ذریعے عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ملکی معیشت بہتری کی راہ پر گامزن ہے، تاہم معتبر سروے اس دعوے کی تردید کرتے ہیں۔ حالیہ رائے شماریوں کے مطابق امریکی عوام کی اکثریت ٹرمپ حکومت کی معاشی کارکردگی کو ناکام قرار دے رہی ہے، جس کے باعث معیشت جو کبھی ٹرمپ کی سب سے بڑی انتخابی طاقت سمجھی جاتی تھی، اب وائٹ ہاؤس کے لیے ایک سنجیدہ سیاسی کمزوری بنتی جا رہی ہے۔
سروے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ مہنگائی اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے عام شہریوں پر شدید دباؤ ڈال رکھا ہے اور ووٹرز کی بڑی تعداد موجودہ معاشی حالات کا ذمہ دار براہ راست ٹرمپ کو ٹھہرا رہی ہے۔ یہ صورتحال وائٹ ہاؤس کے پیغام اور عوام کے روزمرہ تجربات کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کو نمایاں کرتی ہے، جو 2026 میں ہونے والے کانگریس کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ کے لیے سیاسی خطرہ بن سکتی ہے۔
اگرچہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے امریکی معیشت کو تباہی کے دہانے سے واپس کھینچ لیا ہے اور ان کے نائب صدر جے ڈی وینس بھی مختلف ریاستوں میں معاشی مستقبل پر بات کر رہے ہیں، لیکن کوئنی پیاک یونیورسٹی کے حالیہ سروے کے مطابق تقریباً ساٹھ فیصد ووٹرز ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں سے مطمئن نہیں جبکہ پینسٹھ فیصد امریکی معیشت کو کمزور یا خراب قرار دیتے ہیں۔
اسی طرح رائٹرز اور ایپسوس کے سروے میں سامنے آیا ہے کہ صرف اکتیس فیصد امریکی زندگی کے اخراجات کے حوالے سے ٹرمپ کی کارکردگی کو سراہتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خاص طور پر نوجوان محنت کش طبقہ، جس نے مہنگائی سے نجات کی امید میں ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا، اب مایوسی کا شکار ہے کیونکہ ان کی روزمرہ زندگی میں کوئی نمایاں بہتری محسوس نہیں ہو رہی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق وائٹ ہاؤس اور عوام کے درمیان ایک واضح خلا پیدا ہو چکا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ صدر عوام کے معاشی دباؤ کو کس حد تک سمجھتے اور محسوس کرتے ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ مہنگائی کا الزام سابق صدر جو بائیڈن پر ڈال رہی ہے اور توانائی کی قیمتوں میں کمی کو اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے، لیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ سابق حکومت کو مورد الزام ٹھہرانا کم مؤثر ہوتا جائے گا۔
معاشی ماہرین یاد دلاتے ہیں کہ بائیڈن دور میں قیمتوں میں اضافے کی وجوہات عالمی وبا کے بعد سپلائی چین بحران جیسے عوامل بھی تھے اور امریکہ نے کئی صنعتی ممالک کے مقابلے میں بعد از کورونا دور میں بہتر کارکردگی دکھائی۔ اس کے باوجود موجودہ عوامی تاثر ٹرمپ کے حق میں نہیں جا رہا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ریاستی دورے اور تقاریر اگرچہ عمر رسیدہ ووٹرز پر کچھ اثر ڈال سکتے ہیں، لیکن نوجوان ووٹرز جو زیادہ تر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے خبریں حاصل کرتے ہیں، ان پر اس حکمت عملی کا اثر محدود ہے۔ ان کے نزدیک محض دعووں کے بجائے واضح اور عملی حل پیش کرنا ضروری ہے۔
مجموعی طور پر، مسلسل حکومتی تشہیر کے باوجود امریکی عوام کی اکثریت ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں کو ناکام سمجھتی ہے۔ زندگی کے بڑھتے اخراجات اور متوسط و محنت کش طبقے پر دباؤ نے ان کے انتخابی وعدوں کو ایک سیاسی کمزوری میں بدل دیا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر معاشی وعدوں کو عملی اقدامات میں نہ بدلا گیا تو یہی مسئلہ مستقبل میں ٹرمپ اور ان کی جماعت کے لیے سب سے بڑا انتخابی چیلنج بن سکتا ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کو عام کیا جانا وقت کی ضرورت ہے۔ بلاول بھٹو
?️ 6 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے
ستمبر
امریکی فوج کو کوئی اڈہ نہیں دیا اور نہ ہی دینے کا ارادہ ہے
?️ 5 نومبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) حکومت نے امریکی افواج کو ملک میں فوجی اڈہ
نومبر
یمن فوجی ٹیکنالوجی کے لحاظ سے تصور سے زیادہ ترقی یافتہ
?️ 28 دسمبر 2024سچ خبریں: امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے صیہونی حکومت کے ایک اہلکار
دسمبر
روس یوکرین تنازع میں ایٹمی جنگ کا خطرہ
?️ 16 مارچ 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ روس اور
مارچ
کیا بائیڈن دوبارہ صدر بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟
?️ 4 اگست 2023سچ خبریں:جیسا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف نئے الزامات
اگست
لندن میں جنسی زیادتی کے واقعات کی تشویشناک شرح
?️ 24 ستمبر 2024سچ خبریں: انگلینڈ کے دارالحکومت لندن میں جنسی زیادتی کے واقعات کی
ستمبر
حریر امریکی اڈے پر حملہ کس نے کیا ؟
?️ 10 نومبر 2023سچ خبریں:عراقی اسلامی مزاحمت نے امریکی قابضین کے خلاف حملوں کے تسلسل
نومبر
شریف خاندان نے سابق چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کے خلاف سازش کی ہے
?️ 24 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل سما
نومبر