مصر کی حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان مصالحت کی کوشش:صہیونی میڈیا کا دعویٰ

مصر

?️

 مصر کی حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان مصالحت کی کوشش:صہیونی میڈیا کا دعویٰ

اسرائیلی ٹی وی چینل چینل 14 نے دعویٰ کیا ہے کہ مصر نے غیر متوقع طور پر لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے معاملے میں ثالثی کا کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے، تاکہ کسی بڑے فوجی تصادم کو روکا جا سکے۔

روسیا الیوم کی رپورٹ کے مطابق، چینل 14 نے کہا کہ حزب اللہ نے اسرائیل کی نیت پر عدم اعتماد ظاہر کرتے ہوئے ثالثی کی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے اور زور دیا ہے کہ وہ لبنان کی سرکاری حکومت کے دائرہ کار سے باہر کسی بات چیت کے لیے آمادہ نہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ نئی سفارتی کوشش ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب شمالی سرحدوں پر صورتحال خطرناک حد تک کشیدگی کے دھانے پر پہنچ چکی ہے۔

صہیونی ذرائع کے مطابق، حزب اللہ نے عدم اعتماد اور ’’حکومتِ لبنان کو نظرانداز نہ کرنے‘‘ کے مؤقف کی وجہ سے ثالثی پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ کوئی بھی مذاکرات صرف سرکاری حکومتی چینلز کے ذریعے ہی ممکن ہیں۔

چینل 14 نے اس طرف بھی اشارہ کیا کہ مصر عام طور پر ایسے حساس تنازعات میں شامل نہیں ہوتا، اور اس کا کردار اس بحران کی شدت کی علامت ہے۔

اسی حوالے سے، لبنانی اخبار الاخبار نے رپورٹ کیا ہے کہ مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے اپنے حالیہ دورۂ بیروت میں خبردار کیا کہ اسرائیل کی جانب سے ممکنہ حملہ سالِ نو سے قبل ’’حتمی‘‘ ہے۔ انہوں نے حزب اللہ کے ساتھ ایک عملی حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

چینل 14 کے مطابق، اگرچہ جنوبی لیطانی کے اطراف حزب اللہ کے ہتھیاروں میں نسبتی کمی آئی ہے، لیکن لبنان کی حکومت ابھی بھی حزب اللہ کو مکمل طور پر غیرمسلح کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، جس سے بحران مزید پیچیدہ ہو رہا ہے۔

ایرنا کے مطابق، اسرائیل نے یکم اکتوبر 2024 کو لبنان کے خلاف اپنی نئی جارحیت شروع کی تھی، اور دو ماہ بعد 7 دسمبر کو امریکی ثالثی میں جنگ بندی پر دستخط کیے، لیکن اس نے مسلسل اس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

معاہدے کے مطابق اسرائیلی فوج کو 60 دن کے اندر جنوبی لبنان سے نکل جانا تھا، تاہم اس نے بین الاقوامی قوانین کے برخلاف وہاں پانچ اسٹریٹیجک مقامات پر اپنی فورسز برقرار رکھیں۔

اس سے قبل لبنان کے صدر جوزف عون نے یورپی یونین کی نمائندہ کاجسا اولنگرن سے ملاقات میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ لبنان پر اپنی مسلسل جارحیت روک دے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال مکمل ہونے کو ہے لیکن لبنان نے معاہدے کی مکمل پاسداری کی، جبکہ اسرائیل مسلسل خلاف ورزیوں میں مصروف ہے اور حملوں کا دائرہ جنوبی دیہات سے بھی آگے بڑھا دیا گیا ہے۔

مشہور خبریں۔

امریکی اسکول میں فائرنگ سے 6 افراد زخمی

?️ 29 ستمبر 2022سچ خبریں:    امریکہ میں اندھی فائرنگ کے سلسلہ میں اس بار

ڈونلڈ ٹرمپ امن ساز کیوں نہیں ہو سکتے؟

?️ 21 اگست 2025سچ خبریں: ڈونالڈ ٹرمپ کی امن اور جنگ کے بارے میں غلط

ونزوئلا پر امریکی حملہ امریکی میڈیا کی نظر میں

?️ 19 نومبر 2025سچ خبریں:سی این این نے خبردار کیا ہے کہ ونزوئلا کے خلاف

لاپتا افراد کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کو طلب کر لیا

?️ 27 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے جبری گمشدگیوں کے معاملے

اسرائیل کے وسیع حملوں کے بارے میں اہم نکات

?️ 4 مئی 2025سچ خبریں: 8 دسمبر 2024 کو بشار الاسد کی حکومت کے زوال

تحریک انصاف نے ’بلے‘ کا نشان برقرار رکھنے کیلئے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا

?️ 25 نومبر 2023کراچی: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف  نے ای سی پی کی جانب

سید حسن نصراللہ لبنان کے قومی ہیرو کیسے بنے؟  

?️ 23 فروری 2025 سچ خبریں:شہید سید حسن نصراللہ نے نہ صرف لبنان کی آزادی

صیہونیوں کا فلسطینیوں کے سامنے اپنی بے بسی کا اعتراف

?️ 10 ستمبر 2022سچ خبریں:صیہونی حکومت کے ذرائع ابلاغ نے اس حکومت کے ایک فوجی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے