محمود عباس کیا کہتے ہیں غزہ کے بارے میں؟

غزہ

?️

سچ خبریں: فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ نے بدھ کی شب اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی کا کوئی سکیورٹی یا فوجی حل نہیں ہے اور یہ خطہ فلسطینی ریاست کا ایک لازمی حصہ ہے۔

اناتولیہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ نے بدھ کے روز ہالینڈ اور آسٹریلیا کے وزرائے اعظم کے ساتھ الگ الگ فون کالز میں ایک بار پھر غزہ کی پٹی کے حوالے سے عارضی حل کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ غزہ فلسطینی ریاست کا لازمی حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی نسل کشی کے حوالے سے عالمی برادری کی ذمہ داریاں

اس رپورٹ کے مطابق، تنظیم کے سربراہ محمود عباس نے ہالینڈ اور آسٹریلیا کے وزرائے اعظم مارک روٹےاور انتھونی البانیسی کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کی پٹی میں جو کچھ ہو رہا ہے، نسل کشی ہے جسے فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ صیہونی حکومت کے ہاتھوں فلسطینی شہریوں کا قتل عام قتل ،اسپتالوں اور پناہ گاہوں کی تباہی اور اس پٹی میں مقیم فلسطینیوں کی فاقہ کشی بھی صیہونی حکومت کے محاصرے، طبی اور خوراکی سامان کے داخلے میں کمی نیز پانی، بجلی اور ایندھن کی فراہمی نہ کرنے کی وجہ سے ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ نے غزہ کی پٹی میں نسل کشی کے جرائم اور صیہونی حکومت کی جارحیت کو فوری طور پر روکنے، جنگ بندی کے قیام، اس پٹی میں امدادی اور انسانی امداد کی آمد میں تیزی لانے، دہشت گردوں کے حملوں کو روکنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی شہریوں پر صیہونی آبادکاروں اور قابض فوجوں کو روکا جائے اور اس تنظیم کا بجٹ مکمل طور پر جاری کیا جائے جو صہیونیوں نے بند کر رکھا ہے۔

عباس نے صیہونی حکومت اور اس کی افواج کے مسلسل حملوں کے خطرے کے حوالے سے ایک ناقابل قبول اقدام کے طور پر غزہ کی پٹی یا دریائے اردن کے مغربی کنارے بشمول بیت المقدس سے باہر فلسطینی شہریوں کی جبری نقل مکانی کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔

فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ نے اس ملک کو تسلیم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور بین الاقوامی قانونی جواز پر مبنی سیاسی حل کو نافذ کرنے کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کو آزادی، خودمختاری اور حق خودارادیت ملنا چاہیے جو پورے خطہ کے لیے سلامتی اور استحکام کی ضمانت ہے۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ غزہ کی پٹی کا کوئی سکیورٹی اور فوجی حل نہیں ہے، عباس نے نشاندہی کی کہ یہ پٹی فلسطینی ریاست کا ایک لازمی حصہ ہے اور اس سلسلے میں صیہونی غاصب حکام کے منصوبوں کو قبول کرنا یا ان کے ساتھ تعامل ممکن نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: اب تک غزہ کی جنگ کے نتائج اور پیغامات

فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ نے کہا کہ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کی پالیسیوں اور فیصلوں کی بنیاد پر، وہ فلسطینیوں کے واحد قانونی نمائندے کے طور پر کام کرتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

کیوبا: وینزویلا میں کسی بھی قسم کی امریکی مداخلت بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے

?️ 26 نومبر 2025سچ خبریں: کیوبا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ وینزویلا میں کسی

ایران جنگ کا فاتح؛ سابق امریکی انٹیلی جنس افسر کا اعتراف

?️ 8 اپریل 2026سچ خبریں:سابق امریکی انٹیلی جنس افسر اور مغربی تجزیہ کاروں نے ایران

صیہونی حکومت کے خلاف بالکان کے مسلمان سڑکوں پر

?️ 23 اکتوبر 2023سچ خبریں:فلسطین کے لیے پوری دنیا کے عوام کی حمایت کے تسلسل

گلا گھونٹنا، جھوٹے الزامات اور بدسلوکی: مغربی انسانی حقوق میں فلسطینی حامی قیدیوں کا حصہ

?️ 28 نومبر 2025 گلا گھونٹنا، جھوٹے الزامات اور بدسلوکی: مغربی انسانی حقوق میں فلسطینی

امریکی کمپنی کا چاند پر انسانی بستیاں تعمیر کرنے کے لئے ناسا کے ساتھ معاہدہ

?️ 12 جولائی 2021نیویارک(سچ خبریں)چاند پر انسانی بستیاں تعمیر کرنے کا ٹھیکہ ہتھیاروں کی تیاری

شعیب ملک اور ثنا جاوید کی شادی: سوشل میڈیا تبصروں پر بشریٰ انصاری برس پڑیں

?️ 21 جنوری 2024کراچی: (سچ خبریں) پاکستانی کرکٹر شعیب ملک اور اداکارہ ثنا جاوید کی

یوکرین میں روس کی فتح ناگزیر ہے: سابق امریکی فوجی

?️ 11 جون 2022سچ خبریں:  پینٹاگون کے ایک عملہ ڈیوڈ ٹی پینے نے کہا کہ واشنگٹن

حماس کا جنگ بندی کے کسی بھی معاہدے میں مزاحمت کی بنیادی پوزیشن پر زور 

?️ 17 اپریل 2025سچ خبریں: اسرائیلی حکومت کی طرف سے جنگ بندی کی تجویز کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے