فلسطینیوں کا غزہ میں رہنے کا عزم اور جبری نقل مکانی کے منصوبے کی ناکامی

غزہ

?️

رفح کراسنگ کی جزوی بحالی کے بعد سینکڑوں فلسطینیوں کی اپنے وطن واپسی نے   صہیونی منصوبے   کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔
خان یونس کے ناصر ہسپتال کے احاطے میں کل منظر انتہائی جذباتی تھا۔ مہینوں بلکہ سالوں کی جدائی کے بعد اپنے پیاروں کو لے جانے والی بسوں کا انتظار کرتے ہوئے آنکھیں بھی نم تھیں اور چہروں پر مسکراہٹیں بھی۔ انہی میں سے ایک،   فداء عمران   طویل عرصے بیرون ملک علاج کروانے کے بعد واپس لوٹیں تو اپنے والد، والدہ اور بہنوں سے گلے مل کر رونے لگیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ایک لمحے نے سفر اور جدائی کی تمام تکالیف بھلا دیں۔
فداء عمران نے پہلے بھی ایک انٹرویو میں واضح کیا تھا کہ اگرچہ بیرون ملک علاج معالجے کی سہولیات موجود ہیں، لیکن وطن واپسی اور خاندان کے ساتھ ہونے کا کوئی متبادل نہیں۔ ان کے مطابق اس لمحے کا انتظار بہت طویل تھا اور غزہ سے بہتر کوئی جگہ نہیں۔
رفح کراسنگ کی بحالی اور نئے چیلنجز
۲ فروری سے رفح کراسنگ کو محدود پیمانے پر اور سخت پابندیوں کے ساتھ دوبارہ کھولا گیا تھا۔ یہ کراسنگ مئی ۲۰۲۴ سے بند تھی جب صہیونی فوج نے رفح شہر میں فوجی کارروائی کرتے ہوئے اس کے فلسطینی حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔ اگرچہ اب آمد و رفت بحال ہو گئی ہے، لیکن مسافروں کی آمدورفت کے عمل میں وسیع پیمانے پر پابندیاں اور طویل تفتیشی مراحل شامل ہیں۔
جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً ۸۰ ہزار فلسطینی جو بیرون ملک ہیں، واپسی کے لیے رجسٹر ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس وقت سامنے آئے ہیں جب گزشتہ مہینوں میں صہونی حکام غزہ کی آبادی کو خالی کرنے (Depopulation of Gaza) کے منصوبوں پر بار بار بات کر چکے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ فلسطینیوں کا واپسی پر اصرار ان منصوبوں کی سیاسی بنیادوں کو چیلنج کر رہا ہے۔
واپس آنے والی ایک اور شہری   تہانی عمران   نے غزہ سے دوری کو مستقل عذاب قرار دیا اور کہا کہ اس علاقے میں پہنچ کر انہیں سکون ملا۔ انہوں نے زور دے کر کہا:   ہم یہاں پیدا ہوئے ہیں اور یہیں رہیں گے۔   تاہم انہوں نے کراسنگ سے گزرنے کے مشکل عمل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ واپسی کے دوران انہیں سخت پابندیوں اور طویل تفتیش کا سامنا کرنا پڑا۔
اسی ہسپتال کے احاطے میں،   حسام المنسی   نامی نوجوان، جو جنگ میں زخمی ہونے کی وجہ سے غزہ چھوڑنے پر مجبور ہوا تھا، نے اپنے بچوں کو گلے لگایا اور اس واپسی کو ناقابلِ بیان خوشی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے علاج مکمل کرنے سے پہلے ہی غزہ واپس آنے کو ترجیح دی، کیونکہ تمام مشکلات کے باوجود وطن ہی وہ واحد جگہ ہے جہاں وہ تعلق محسوس کرتے ہیں۔
ماہرین کا تجزیہ: جبری نقل مکانی کی ناکامی۔
فلسطینی سیاسی تجزیہ کار   ایاد القرا   کا ماننا ہے کہ غزہ میں ایک بھی فلسطینی کی واپسی جبری نقل مکانی کے منصوبے کے لیے ایک عملی شکست ہے۔ ان کے مطابق، واپسی کا فیصلہ انسانی اور قومی دونوں جہتیں رکھتا ہے: ایک طرف یہ خاندانوں کے درمیان تعلق کو بحال کرتا ہے اور دوسری طرف جبری نقل مکانی کے نتائج کے بارے میں اجتماعی شعور کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی کے بعد شمالی غزہ کی طرف پناہ گزینوں کی واپسی بھی یہی رجحان ظاہر کرتی ہے۔
صہیونی خلاف ورزیاں اور انسانی المیہ
ادھر، غزہ میں سرکاری ذرائع نے صہونی ریاست پر الزام لگایا ہے کہ وہ مسافروں کی آمدورفت کے لیے مقرر کردہ کوٹے پر پورا نہیں اتر رہی۔ سرکاری اطلاعاتی دفتر کے مطابق، ۲ سے ۱۵ فروری کے درمیان تقریباً ۲۸۰۰ مسافروں میں سے صرف ۸۱۱ افراد ہی آمدورفت کر سکے، جو کہ طے شدہ تعداد کا صرف ۲۹ فیصد ہے۔
فلسطینی اندازوں کے مطابق، اس وقت ۲۲ ہزار سے زائد مریض اور زخمی ایسے ہیں جنہیں علاج کے لیے غزہ سے باہر جانے کی ضرورت ہے، جبکہ علاقے کا صحت کا نظام مکمل طور پر تباہی کا شکار ہے۔
یہ بات اہم ہے کہ ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ سے شروع ہونے والی جنگ میں اب تک ۷۲ ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ۱۷۱ ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ غزہ کا بیشتر شہری انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے۔ اس کے باوجود، بہت سے فلسطینیوں کے لیے، کھنڈرات میں گھر واپس آنا، جلاوطنی میں رہنے سے کم تکلیف دہ ہے۔ اور یہ ایک واضح پیغام ہے کہ اپنی سرزمین پر قیام ان کی پہلی ترجیح ہے۔

مشہور خبریں۔

صہیونی لابی اسرائیل پر تنقید کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے:امریکی سینیٹر  

?️ 4 اپریل 2025 سچ خبریں:امریکی سینیٹر  برنی سینڈرز نے صہیونی لابی AIPAC اور امریکی انتخابات

غزہ کے عوام کی حمایت اور مزاحمت میں یمنیوں کے شاندار ریکارڈ کا خلاصہ

?️ 12 اکتوبر 2025سچ خبرین: اسی دوران غزہ میں جنگ بندی اور الاقصیٰ طوفان کی

صدر مملکت نے دستخط کردیے، انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2025 قانون بن گیا

?️ 31 اگست 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) صدر آصف علی زرداری نے اتوار کو انسدادِ

شام کی ایک اور کامیابی

?️ 17 جون 2023سچ خبریں:شام کے وزیر خزانہ نے اپنے ملک کے برکس اور شنگھائی

سہیل آفریدی نے کراچی دورے میں 9 مئی جیسی بدنظمی کی کوشش کی۔ شرجیل میمن

?️ 14 جنوری 2026کراچی (سچ خبریں) سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا

اقوام متحدہ کا عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے 100 ٹریلین ڈالر کا بجٹ خسارہ

?️ 18 ستمبر 2021سچ خبریں:اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اسے متعدد عالمی چیلنجوں سے

وزیر خارجہ کا نیوزی لینڈکی ہم منصب سے رابطہ ، مختلف امور پر تبادلۂ خیال

?️ 13 اکتوبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نیوزی لینڈ کی

نیتن یاہو اسرائیل کی قیادت کے اہل نہیں ہیں: لایپڈ

?️ 8 نومبر 2024سچ خبریں: اسرائیلی حکومت کی اپوزیشن کے سربراہ یائر لاپیڈ نے جمعرات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے