غزہ میں صیہونیوں کے لیے سب سے بڑا چینلج کیا ہے؟صیہونی رپورٹر کی زبانی

غزہ

?️

سچ خبریں: اسرائیلی رپورٹر رونن برگمین نے غزہ میں حماس کی سرنگوں کی وسعت کا ذکر کرتے ہوئے انہیں صیہونی حکومت کے فوجی اہداف کو آگے بڑھانے میں سب سے بڑا چیلنج قرار دیا اور انہیں اسرائیل کے لیے ایک طرح کی شکست قرار دیا۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی رپورٹر رونن برگمین نے نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک کالم میں صیہونی حکومت کے چار کمانڈروں کے دعوؤں کی بنیاد پر غزہ جنگ میں اسرائیلی حکومت کے فوجی اہداف کا جائزہ لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ میں کتنی سرنگیں تباہ ہوچکی ہیں؟ امریکی اخبار کی زبانی

غزہ جنگ کے دورانیے کا ذکر کرتے ہوئے برگمین لکھتے ہیں کہ غزہ کی جنگ کے 100 دنوں سے زیادہ گزرنے کے بعد، حماس کو ختم کرنے میں اسرائیل کی محدود پیش رفت نے فوج کی اعلیٰ کمان میں جنگ کے اہداف کے حصول کی مختصر مدت کے امکانات کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔

برگمین لکھتے ہیں کہ جنگ کے دوران اسرائیل کا بنیادی ہدف حماس کا قلع قمع کرنا تھا اور غزہ میں موجود اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنا تھا جو اب تک حاصل نہیں ہو سکا۔

برگمین غزہ میں اپنے اہداف کے حصول میں صہیونی فوج کی پیش قدمی اور ناکامی کو طوفان الاقصیٰ آپریشن سے قبل انٹیلی جنس کی ناکامیوں کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کا اندازہ تھا کہ حماس کے پاس تقریباً 160 کلومیٹر زیر زمین سرنگیں ہیں لیکن اب دو ماہ کی زمینی (اور زیر زمین) جنگ کے بعد اسرائیلی فوج کو اندازہ ہو گیا ہے کہ حماس کی زیر زمین سرنگیں 800 کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہیں۔

اس اسرائیلی رپورٹر کے اندازے کے مطابق حماس کی زیر زمین سرنگوں کے حجم کے ساتھ صہیونی فوج کی زمینی کارروائیوں کو اس سے کہیں زیادہ چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا ابتدائی طور پر اندازہ لگایا گیا تھا۔

برگمین لکھتے ہیں کہ غزہ میں جنگ کے پیمانے اور پیچیدگی نے کچھ کمانڈروں کو غزہ کے بارے میں اسرائیل کی حکمت عملی کے بارے میں نجی طور پر اپنی مایوسی کا اظہار کرنے پر مجبور کیا ہے، جس سے وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ غزہ میں اب بھی 100 سے زائد اسرائیلیوں کی رہائی سفارتی ذرائع سے ہی حاصل کی جا سکتی ہے، فوجی ذرائع سے نہیں ۔

مزید پڑھیں: شمالی غزہ میں صیہونی کیوں خوف و ہراس کا شکار ہیں؟

برگمین آگے لکھتے ہیں کہ چار سینئر فوجی رہنماؤں کے انٹرویوز کے مطابق جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی صیہونی قیدیوں کو آزاد کرنے اور حماس کو تباہ کرنے کے دوہرے مقاصد اب ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے کیونکہ انہیں ان پر بات کرنے کی اجازت نہیں۔

مشہور خبریں۔

اگر آئین کہتا ہے 90 روز میں الیکشن ہوں گے تو ہمیں اس پر عملدرآمد کرنا ہوگا، چیف جسٹس

?️ 8 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا

کیاصیہونی جنگ بندی کےمعاہدے پر قائم ہیں ؟

?️ 29 نومبر 2023سچ خبریں:تحریک حماس کے عسکری ونگ کتائب القسام کے ترجمان ابو عبیدہ

تل ابیب کو ریاض کے ساتھ معمول پر آنے کے لئے وقت کی ضرورت

?️ 6 جولائی 2022اسرائیل ہیوم اخبار نے امریکی صدر جو بائیڈن کے مقبوضہ علاقوں کے

اگر اپوزیشن بدتمیزی کرے گی تو اسی زبان میں جواب ملے گا۔ عظمی بخاری

?️ 21 جون 2025لاہور (سچ خبریں) پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمی بخاری نے کہا ہے

ڈنمارک پولیس کا ایرانی خاتون کے ساتھ توہین آمیز سلوک؛ایران کا احتجاج

?️ 12 اپریل 2022سچ خبریں:ڈنمارک پولیس نے ایرانی پناہ گزین خاتون کے ساتھ پر تشدد

صیہونیوں کی ایک اور درندگی

?️ 20 ستمبر 2023سچ خبریں: فلسطینی قیدیوں کے نگراں کلب نے اعلان کیا ہے کہ

فرانس میں مہنگائی عروج پر

?️ 3 جون 2022سچ خبریں:فرانس کے حکومتی عہدیداروں کے جاری کردہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق

ٹرمپ کی شام سے امریکی فوج کے انخلا کی خواہش، صیہونیوں کو سخت تشویش

?️ 29 جنوری 2025سچ خبریں:اسرائیلی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے