?️
عراقی سنی جماعتوں کا الحلبوسی کو پیغام، پارلیمنٹ کی صدارت پر واپسی کے لیے حالات سازگار نہیں
عراق کی نیشنل پولیٹیکل کونسل کے ارکان نے ایک اجلاس میں محمد الحلبوسی کو آگاہ کیا ہے کہ موجودہ حالات میں ان کا دوبارہ پارلیمنٹ کی صدارت پر واپس آنا مناسب نہیں۔
نیشنل پولیٹیکل کونسل کے قریبی ایک ذریعے نے خبر رساں ادارے المعلومہ کو بتایا کہ بغداد میں قومی اتحاد الحسم الوطنی کے سربراہ ثابت العباسی کی رہائش گاہ پر منعقدہ اجلاس میں سنی جماعتوں نے اتحاد تقدم کے سربراہ محمد الحلبوسی کو تین واضح پیغامات دیے۔
ذرائع کے مطابق، گزشتہ شب ہونے والے اجلاس میں متعدد سیاسی امور پر مشاورت کی گئی، جن میں سب سے اہم الحلبوسی کو دیے گئے تین پیغامات تھے۔ اجلاس کے شرکاء نے انہیں بتایا کہ موجودہ سیاسی فضا ان کی پارلیمنٹ کی صدارت میں واپسی کے لیے موزوں نہیں اور وہ اس آپشن کی حمایت نہیں کرتے۔
اجلاس میں یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ یا تو الحلبوسی کے سیاسی دھڑے سے کسی اور شخصیت کو نامزد کیا جائے یا پھر اتحاد العزم سے کسی ایسے متفقہ امیدوار کا انتخاب کیا جائے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
ذرائع نے بتایا کہ سنی جماعتوں نے الحلبوسی کو یہ پیغام بھی دیا کہ وہ کسی بھی سنی سیاسی جماعت کو ویٹو نہ کریں اور آئندہ حکومت میں تمام فریقوں کی شمولیت یقینی بنائی جائے، نیز میڈیا کے ذریعے جاری باہمی حملے بند کیے جائیں۔
اطلاعات کے مطابق، محمد الحلبوسی ان پیغامات پر ناخوش دکھائی دیے، کیونکہ انہیں اس بات کا اندازہ ہو گیا ہے کہ دیگر سیاسی قوتیں پارلیمنٹ کی صدارت کے لیے ان کی نامزدگی کی حمایت نہیں کر رہیں اور ان کی رضامندی حاصل کرنا مشکل ہو چکا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کی صدارت کا منصب کھونا الحلبوسی کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا ہے، تاہم یہ بھی طے پایا کہ حتمی فیصلے کو اگلے مرحلے تک مؤخر رکھا جائے گا کیونکہ سیاسی مذاکرات اور مشاورت کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔
نیشنل پولیٹیکل کونسل کا یہ اجلاس اتوار کی شب مختلف جماعتوں اور اتحادوں کے قائدین کی موجودگی میں منعقد ہوا، جس میں آئینی ذمہ داریوں اور پارلیمانی ٹائم ٹیبل کی اہمیت پر بھی غور کیا گیا۔
کونسل کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اجلاس کے شرکاء نے پارلیمنٹ کے آئینی شیڈول پر عمل درآمد کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر اس تناظر میں کہ عراقی صدر نے پارلیمنٹ کا پہلا اجلاس 29 دسمبر (8 دی 1404) کو منعقد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ عراق کے سیاسی ڈھانچے کے مطابق وزیر اعظم کا تعلق شیعہ برادری سے ہوتا ہے، پارلیمنٹ کا اسپیکر سنی طبقے سے منتخب کیا جاتا ہے جبکہ صدرِ مملکت، جن کا عہدہ زیادہ تر علامتی نوعیت کا ہوتا ہے، کرد برادری سے ہوتا ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
حریدی یہودیوں کے مظاہرے،وجہ؟
?️ 3 ستمبر 2024سچ خبریں: تل ابیب میں حریدی یہودیوں نے فوجی خدمات سے بچنے
ستمبر
الیکشن کے بعد پہلی بار عمران خان سے ملاقات ہوئی، بیرسٹرعلی ظفر
?️ 13 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما
فروری
عراق کے وزیرِاعظم کا انتخاب قومی فیصلہ ہے، بیرونی مداخلت ناقابلِ قبول:نوری المالکی
?️ 31 جنوری 2026عراق کے وزیرِاعظم کا انتخاب قومی فیصلہ ہے، بیرونی مداخلت ناقابلِ قبول:نوری
جنوری
علاقائی سلامتی کے لیے ایران سعودی مذاکرات کے نتائج
?️ 6 جنوری 2023اسلامی جمہوریہ ایران کی ایوان صدر نے اعلان کیا کہ سعودی عرب
جنوری
دنیا کی سب سے بڑی جیل
?️ 12 اگست 2022سچ خبریں:21 لاکھ آبادی پر مشتمل غزہ کی پٹی 15 سال سے
اگست
الیکشن کمیشن کا صدارتی الیکشن 9 مارچ کو کرانے کا فیصلہ
?️ 1 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صدارتی الیکشن 9
مارچ
فرانسیسی انتخابات میں ہیرا پھیری
?️ 9 جولائی 2024سچ خبریں: روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اتوار کے روز شروع
جولائی
دو صہیونی فوجیوں کی ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتاری کی تفصیلات
?️ 29 جنوری 2025سچ خبریں:اسرائیلی سیکیورٹی ایجنسی شین بیٹ (Shin Bet) نے اعلان کیا ہے
جنوری