صیہونیوں کے عرب شراکت داروں کا سفارتی تعطل

صیہونیوں

?️

سچ خبریں:متحدہ عرب امارات ، بحرین ، سوڈان اور مراکش صیہونیوں کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لانے کے معاہدوں پر دستخط کرنے کے ایک سال سے بھی کم عرصے میں یروشلم میں قابض حکومت پر تنقید کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق صیہونیوں اور فلسطینیوں کے مابین تشدد کے حالیہ اضافے نےان عرب ریاستوں میں شکوک و شبہات پیدا کردیے ہیں جنہوں نے صہیونی حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لائے ہیں ،واضح رہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات ، بحرین ، سوڈان اور مراکش کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے کے معاہدوں پر دستخط کے ایک سال سے بھی کم عرصے میں یہ عرب ممالک اپنی پالیسی کو تبدیل کرنے اور صہیونی حکومت کے تشدد پر تنقید کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

اس سلسلہ میں ایک سیاسی تجزیہ کار الہام فخرو نے اے ایف پی کو بتایاکہ یہ بیانات اور تنقیدیں بنیادی طور پر ظاہری شکل کو برقرار رکھنے اوران ریاستوں کے اندر فلسطینیوں کی حمایت کرنے والے نیز عرب خطوں کو پرسکون کرنے کے لئے کی گئی ہیں، قابل ذکر ہے کہ بحرین اور متحدہ عرب امارات میں فلسطینیوں کی حمایت میں روزانہ مظاہرے ہوئے ہیںاور سول سوسائٹی کے کارکنوں نے صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا ہے،درایں اثنا یورپی یونین کی خارجہ تعلقات کی کونسل کے تجزیہ کار ہیو لوٹ نے اس بحران کو متحدہ عرب امارات کا پہلا اصلی امتحان قرار دیا جو برسوں سے اسرائیل کے ساتھ خفیہ طور پر تعلقات کو مستحکم کررہا ہے ،انھوں نے کہا کہ کیا متحدہ عرب امارات فلسطینیوں کی خاطر صیہونی حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات کو خطرے میں ڈال سکتا ہے؟ لیکن لگتا ہے ایسا نہیں ہوگا کیونکہ یہ معاہدہ امریکہ کے ساتھ ٹیکنالوجی کی شراکت اور فوجی ہارڈویئر تک رسائی کا باعث بنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو کے خیال میں ابرہام معاہدہ عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی وجہ سے فلسطینیوں کو مکمل طور پر بے دخل کرسکتا ہے،یادرہے کہ گذشتہ ستمبر میں ابرہام معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد سے رائے عامہ سعودی عرب کی طرف مبذول ہوگئی ہےتاہم سعودی حکام کا دعوی ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کے ساتھ تعلقات کومعمول پر لانے کے کسی بھی معاہدے کو مسترد کرتے رہیں گے جب تک فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہوتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اگرچہ متحدہ عرب امارات نے صہیونی حکومت کے حالیہ جرائم پر تنقید کو نظرانداز کیاہے تاہم صہیونی حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لانے والے دوسرے عرب ممالک کی صورتحال فلسطین کی حمایت میں سول سوسائٹی کی سرگرمی کی وجہ سے زیادہ پیچیدہ ہے۔

 

مشہور خبریں۔

صیہونی فوج میں بغاوت کے آثار

?️ 5 مارچ 2023سچ خبریں:عبرانی ذرائع نے عدالتی اصلاحات کی منظوری کے لیے نیتن یاہو

صومالیہ میں الشباب کا بڑا حملہ، متعدد فوجی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوگئے

?️ 3 اپریل 2021صومالیہ (سچ خبریں)  صومالیہ میں شدت پسند تنظیم الشباب نے فوجی اڈوں

پردے کے پیچھے امریکہ اور سعودی کے درمیان کیا چل رہا ہے ؟

?️ 21 ستمبر 2023سچ خبریں:نیویارک ٹائمز نے امریکہ-سعودی دفاعی تعاون کے بارے میں دفاعی معاہدے

تاریخ کسے غزہ کا قصاب کہے گی؟

?️ 30 نومبر 2023سچ خبریں: ترکی کے صدر نے کہا کہ غاصب القدس کے وزیراعظم

اسرائیل کا حماس کے خلاف فلسطینی مسلح عناصر کا استعمال

?️ 26 جنوری 2026سچ خبریں:خبری ذرائع کے مطابق صیہونی حکومت غزہ میں جنگ بندیکے تحت

امریکی سینیٹ کی 858 ارب ڈالر کے فوجی بجٹ کی منظوری

?️ 18 دسمبر 2022سچ خبریں:امریکی سینیٹ نے اس ملک کے 858 بلین ڈالر کے فوجی

ضلع خیبر میں پاک فوج کا آپریشن، اہم دہشتگرد ہلاک، ایک جوان شہید

?️ 8 نومبر 2022ضلع خیبر: (سچ خبریں) خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر کے علاقے شکاس میں

چیئرمین سینیٹ سے تاجک صدر کی ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کوفروغ دینے پر اتفاق

?️ 3 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور تاجکستان کےصدر کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے