?️
سچ خبریں: گزشتہ روز حماس کے رہنماؤں نے جنگ بندی کے حوالے سے اپنا موقف پیش کیا جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کو مکمل کرنا ہے۔
واضح رہے کہ حماس کے سینئر رہنما محمود مرداوی نے گذشتہ شب اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے اس دعوے کی سختی سے تردید کی کہ فلسطینی مزاحمت جنگ بندی کے جامع معاہدے کو مسترد کرتی ہے۔
محمود مرداوی نے کہا کہ نیتن یاہو جب کہتا ہے کہ فلسطینی مزاحمت جامع معاہدے کو مسترد کرتی ہے، تو وہ بالکل جھوٹ بول رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حماس ایک جامع معاہدے کے لیے تیار ہے جس کے تحت تمام صہیونیستی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا، جس کے بدلے میں جنگ بندی ہوگی اور غزہ سے صہیونیستی افواج کا انخلا ہوگا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ حماس نے ہمیشہ یہ موقف اپنایا ہے کہ وہ جنگ بندی، غزہ سے صہیونیستی افواج کے انخلا، غزہ کی تعمیر نو اور امدادی عملے کی آمد کے بدلے میں تمام صہیونیستی قیدیوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ فلسطینی قیدیوں کی متعینہ تعداد بھی رہا کی جائے۔
اس سے قبل، قطر کے وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے کہا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات جاری ہیں اور حماس کی طرف سے دیے گئے جوابات پر حتمی دستاویز تیار کی جا رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے مصری اور قطری ثالثوں نے ایک نیا تجویز پیش کیا تھا جس میں غزہ میں 5 سے 7 سالہ طویل المدت جنگ بندی اور قیدیوں کے جامع تبادلے کا معاہدہ شامل تھا۔ اس کے تحت حماس تمام اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرتا جبکہ اسرائیل بھی فلسطینی قیدیوں کی ایک مقررہ تعداد کو رہا کرتا۔
عربی میڈیا کے مطابق، اس تجویز میں جنگ کے خاتمے اور غزہ سے صہیونیستی افواج کے مکمل انخلا کی شرط بھی شامل ہے۔
اسی تناظر میں، فلسطینی مزاحمت کے ایک نامعلوم رہنما نے المیادین کو انٹرویو دیتے ہوئے حماس کے پیش کردہ جامع منصوبے کی تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ایک جامع اور واحد معاہدے پر مشتمل ہے جس میں مستقل جنگ بندی، غزہ سے صہیونیستی افواج کا مکمل انخلا، علاقے کی تعمیر نو کا آغاز، اور غزہ پر عائد محاصرے کے خاتمے جیسے نکات شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے میں غزہ کے انتظام کے لیے ایک آزاد اور ٹیکنوکریٹس پر مشتمل مقامی کمیٹی کے قیام کا بھی ذکر ہے، جو قومی اتحاد کے تحت کام کرے گی اور فلسطینی گروپوں کے درمیان ہونے والے سابقہ معاہدوں کی بنیاد پر کام کرے گی۔
اس رہنما نے واضح کیا کہ حماس 5 سالہ طویل المدت جنگ بندی کے لیے تیار ہے، جس کی ضمانت بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر دی جائے گی۔ معاہدے پر عملدرآمد فوری طور پر شروع ہوگا اور صورتحال 2 مارچ (جس دن اسرائیل نے یکطرفہ طور پر جنگ بندی ختم کی تھی) سے پہلے کی حالت پر لوٹ آئے گی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ معاہدے کے فوراً بعد فوجی کارروائیاں بند ہوں گی، صہیونیستی افغاز غزہ سے مکمل طور پر نکل جائیں گی، اور انسانی امداد بین الاقوامی پروٹوکول کے تحت غزہ میں داخل ہوگی۔ غزہ کا انتظام مصر کے پیش کردہ منصوبے کے مطابق ہوگا، جس میں ایک سماجی سپورٹ کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
عالمی بینک کے تعاون سے جاری 500 کے وی تربیلا پنجم ایکسٹینشن ٹرانسمیشن لائن منصوبے پر 87 فیصد کام مکمل
?️ 23 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) عالمی بینک کے تعاون سے جاری 500 کے وی
اکتوبر
وزیر داخلہ کے بیان پر فواد چوہدری کا رد عمل سامنے آگیا
?️ 30 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ نومبر
اکتوبر
انصاراللہ کی جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی شرطیں
?️ 19 فروری 2022سچ خبریں:یمنی تحریک انصاراللہ کے سیاسی بیورو کے ایک رکن نے یہ
فروری
غزہ میں 20 صیہونی قیدی ابھی زندہ ہیں؛نیتن یاہو کا دعویٰ
?️ 8 جولائی 2025 سچ خبریں:صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ
جولائی
ہآرتض: حضرت مسیح کے مجسمے کی بے حرمتی کی مذمت کرنا منافقت ہے
?️ 22 اپریل 2026سچ خبریں: اسرائیلی اخبار "ہآرتض” نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ
اپریل
شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر
?️ 10 جون 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) عام شہریوں کے ملٹری کورٹس میں ٹرائلز کے
جون
صہیونیوں کی ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی کوششیں اور عالمی خاموشی
?️ 19 جولائی 2025 سچ خبریں:نیتن یاہو کابینہ نے اعلیٰ ایرانی حکام کے قتل کی
جولائی
شمالی وزیرستان میں جھڑپ میں 4 جوان شہید، 13 دہشت گرد ہلاک
?️ 4 مارچ 2025شمالی وزیرستان: (سچ خبریں) شمالی وزیرستان کے علاقے میرانشاہ میں دہشت گردوں
مارچ