صہیونی قیدیوں کی مکمل رہائی کے لیے جنگ کا خاتمہ شرط ہے: حماس

حماس

?️

سچ خبریں: گزشتہ روز حماس کے رہنماؤں نے جنگ بندی کے حوالے سے اپنا موقف پیش کیا جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کو مکمل کرنا ہے۔
محمود مرداوی نے کہا کہ نیتن یاہو جب کہتا ہے کہ فلسطینی مزاحمت جامع معاہدے کو مسترد کرتی ہے، تو وہ بالکل جھوٹ بول رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حماس ایک جامع معاہدے کے لیے تیار ہے جس کے تحت تمام صہیونیستی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا، جس کے بدلے میں جنگ بندی ہوگی اور غزہ سے صہیونیستی افواج کا انخلا ہوگا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ حماس نے ہمیشہ یہ موقف اپنایا ہے کہ وہ جنگ بندی، غزہ سے صہیونیستی افواج کے انخلا، غزہ کی تعمیر نو اور امدادی عملے کی آمد کے بدلے میں تمام صہیونیستی قیدیوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ فلسطینی قیدیوں کی متعینہ تعداد بھی رہا کی جائے۔
اس سے قبل، قطر کے وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے کہا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات جاری ہیں اور حماس کی طرف سے دیے گئے جوابات پر حتمی دستاویز تیار کی جا رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے مصری اور قطری ثالثوں نے ایک نیا تجویز پیش کیا تھا جس میں غزہ میں 5 سے 7 سالہ طویل المدت جنگ بندی اور قیدیوں کے جامع تبادلے کا معاہدہ شامل تھا۔ اس کے تحت حماس تمام اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرتا جبکہ اسرائیل بھی فلسطینی قیدیوں کی ایک مقررہ تعداد کو رہا کرتا۔
عربی میڈیا کے مطابق، اس تجویز میں جنگ کے خاتمے اور غزہ سے صہیونیستی افواج کے مکمل انخلا کی شرط بھی شامل ہے۔
اسی تناظر میں، فلسطینی مزاحمت کے ایک نامعلوم رہنما نے المیادین کو انٹرویو دیتے ہوئے حماس کے پیش کردہ جامع منصوبے کی تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ایک جامع اور واحد معاہدے پر مشتمل ہے جس میں مستقل جنگ بندی، غزہ سے صہیونیستی افواج کا مکمل انخلا، علاقے کی تعمیر نو کا آغاز، اور غزہ پر عائد محاصرے کے خاتمے جیسے نکات شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے میں غزہ کے انتظام کے لیے ایک آزاد اور ٹیکنوکریٹس پر مشتمل مقامی کمیٹی کے قیام کا بھی ذکر ہے، جو قومی اتحاد کے تحت کام کرے گی اور فلسطینی گروپوں کے درمیان ہونے والے سابقہ معاہدوں کی بنیاد پر کام کرے گی۔
اس رہنما نے واضح کیا کہ حماس 5 سالہ طویل المدت جنگ بندی کے لیے تیار ہے، جس کی ضمانت بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر دی جائے گی۔ معاہدے پر عملدرآمد فوری طور پر شروع ہوگا اور صورتحال 2 مارچ (جس دن اسرائیل نے یکطرفہ طور پر جنگ بندی ختم کی تھی) سے پہلے کی حالت پر لوٹ آئے گی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ معاہدے کے فوراً بعد فوجی کارروائیاں بند ہوں گی، صہیونیستی افغاز غزہ سے مکمل طور پر نکل جائیں گی، اور انسانی امداد بین الاقوامی پروٹوکول کے تحت غزہ میں داخل ہوگی۔ غزہ کا انتظام مصر کے پیش کردہ منصوبے کے مطابق ہوگا، جس میں ایک سماجی سپورٹ کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

مشہور خبریں۔

امریکہ زوال پذیر ملک ہے: ٹرمپ

?️ 12 اگست 2022سچ خبریں:    ریاستہائے متحدہ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے

سابق انٹیلیجنس چیف کے خلاف الزامات کی تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم

?️ 18 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) فوج نے مبینہ طور پر آئی ایس آئی

یمن کے خلاف جارحیت امریکہ اور اسرائیل کا نیا جنگی جرم ہے: اسلامی جہاد

?️ 25 اگست 2025سچ خبریں: فلسطینی جہادی تحریک نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے صہیونیستی

خیبرپختونخوا: سیکیورٹی فورسز کی 2 مختلف کاررائیوں میں فتنۃ الخوارج کے 9 دہشتگرد ہلاک

?️ 7 دسمبر 2025خیبرپختونخوا: (سچ خبریں) خیبرپختونخوا کے اضلاع ٹانک اور لکی مروت میں سیکیورٹی

انگلینڈ کی گولیوں میں یورینیم کا استعمال

?️ 23 مارچ 2023سچ خبریں:برطانیہ نے یوکرین کو یورینیم سے بھرے گولے بھیجنے سے متعلق

کیا اسرائیلی افسر کی لاش کی واپسی غزہ فائر بندی کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھا دے گی؟

?️ 11 نومبر 2025کیا اسرائیلی افسر کی لاش کی واپسی غزہ فائر بندی کے دوسرے

’آپریشن بنیان مرصوص‘ شوبز شخصیات کا فوج سے اظہار یکجہتی

?️ 10 مئی 2025کراچی: (سچ خبریں) بھارتی جارحیت اور حملوں کے بعد پاکستان کی جانب

برطانوی بادشاہ سے دگنی دولت کے مالک برطانوی وزیر اعظم

?️ 1 نومبر 2022سچ خبریں:حال ہی میں برطانوی وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہونے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے