صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے میں موساد کے خفیہ کردار کا انکشاف

صومالی لینڈ

?️

صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے میں موساد کے خفیہ کردار کا انکشاف

اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے سومالی لینڈ کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے اعلان کے پس منظر میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی برسوں پر محیط خفیہ سرگرمیاں کارفرما رہی ہیں۔ یہ سرگرمیاں ایک ایسے پوشیدہ نیٹ ورک کا حصہ ہیں جن کا مقصد شاخِ افریقہ میں جیوپولیٹیکل توازن کو تل ابیب کے حق میں تبدیل کرنا ہے۔

 اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ نیتن یاہو کا سومالی لینڈ کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا محض ایک سیاسی اعلان نہیں، بلکہ موساد کی طویل المدتی خفیہ منصوبہ بندی اور روابط کا نتیجہ ہے۔ سومالی لینڈ 1991 میں صومالیہ کی مرکزی حکومت کے انہدام کے بعد عملاً ایک خودمختار خطے کے طور پر کام کر رہا ہے، تاہم اب تک اقوام متحدہ کے کسی رکن ملک نے اسے تسلیم نہیں کیا تھا۔ اسرائیل اس خطے کو تسلیم کرنے والا پہلا اقوام متحدہ کا رکن بن گیا ہے۔

اس اعلان کے فوراً بعد صومالیہ نے شدید ردعمل ظاہر کیا اور واضح کیا کہ وہ سومالی لینڈ کو اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا اٹوٹ حصہ سمجھتا ہے۔ اسی تناظر میں صومالیہ، مصر، ترکیہ اور جبوتی نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے اسرائیلی اقدام کی مذمت کی اور صومالیہ کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا۔ مصری وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ بیان چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطوں کے بعد جاری کیا گیا۔

اسرائیلی نقطۂ نظر سے سومالی لینڈ شاخِ افریقہ میں اپنی اسٹریٹجک حیثیت کے باعث غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ خطہ بحیرۂ احمر کی اہم بحری گزرگاہوں کے قریب واقع ہے اور یمن میں انصاراللہ کے زیرِاثر علاقوں کے قریب ہونے کی وجہ سے اسرائیل کے لیے نگرانی اور سکیورٹی کے تناظر میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق سومالی لینڈ کو غزہ کی آبادی کے ایک حصے کی ممکنہ آبادکاری کے لیے بھی ایک آپشن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، یہاں تک کہ مقامی حکام نے ایک ملین فلسطینیوں کو قبول کرنے کی آمادگی کا اظہار کیا ہے، اگرچہ اس حوالے سے کسی باضابطہ معاہدے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

اس پورے عمل میں موساد کا کردار نمایاں بتایا جا رہا ہے۔ اسرائیلی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق موساد کئی برسوں سے سومالی لینڈ میں سرگرم رہا ہے اور مقامی حکام کے ساتھ خفیہ اور طویل المدتی تعلقات استوار کرتا رہا، جنہوں نے بالآخر اس فیصلے کی راہ ہموار کی۔

رپورٹ کے مطابق موساد کے برطرف کیے گئے سربراہ ڈیوڈ برنیع اور اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیدعون ساعر کو اس معاہدے کے اہم معماروں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اپریل سے ایک تیسرے ملک میں خفیہ مذاکرات کا آغاز ہوا، جن میں باہمی دورے اور خفیہ ملاقاتیں شامل تھیں، اور بالآخر یہ سلسلہ ایک مشترکہ بیان پر منتج ہوا۔

اسرائیلی قیادت کو امید ہے کہ یہ اقدام دیگر ممالک کو بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے، بالخصوص نام نہاد ابراہیم معاہدوں کے دائرے میں شامل ہونے کی ترغیب دے گا۔ نیتن یاہو نے اس فیصلے کو تاریخی قرار دیا اور سومالی لینڈ کے مقامی حکام کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے دورے کی دعوت دی۔ اسرائیل نے زراعت، صحت، ٹیکنالوجی اور معیشت سمیت مختلف شعبوں میں سومالی لینڈ کے ساتھ تعاون بڑھانے کا اعلان بھی کیا ہے۔

دوسری جانب امریکا نے فوری طور پر اسرائیل کے ساتھ ہم قدمی سے گریز کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز کو ایک ٹیلیفونک انٹرویو میں کہا کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں اور فی الحال اسرائیل کے نقشِ قدم پر چلنے میں جلد بازی نہیں کریں گے۔ تاہم مبصرین کے مطابق واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان پس پردہ ہم آہنگی کے شواہد موجود ہیں۔

اسرائیلی اخبار معاریو کے مطابق یہ اقدام دراصل امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد افریقہ میں ترکیہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو محدود کرنا، بحیرۂ احمر کی بحری گزرگاہوں پر کنٹرول مضبوط کرنا اور ایک نیا علاقائی نظام تشکیل دینا ہے، جس کے اثرات غزہ اور جنگ کے بعد کی صورتحال تک پھیل سکتے ہیں۔

قابلِ ذکر ہے کہ جمعے کے روز اسرائیلی وزیرِاعظم نے باضابطہ طور پر “جمہوریہ سومالی لینڈ” کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق یہ فیصلہ ابراہیم معاہدوں کے فریم ورک کے تحت کیا گیا ہے۔ سومالی لینڈ صومالیہ کے شمال میں واقع ایک خطہ ہے جو عملی طور پر خودمختار ہے، تاہم 2025 تک اسرائیل اقوام متحدہ کا واحد رکن ہے جس نے اسے باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔

مشہور خبریں۔

آئندہ انتخابات نئی مردم شماری کے تحت کرائیں گے: وفاقی کابینہ

?️ 5 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی کابینہ نے آئندہ انتخابات سے متعلق  اہم

لبنان میں صیہونی نسل کشی کی کوشش 

?️ 11 اپریل 2026سچ خبریں:جنوبی لبنان میں  صیہونی حملوں میں اضافے کے بعد شہری آبادی

 صیہونی فوج میں خودکشی کا بحران؛10 دن میں 4 واقعات 

?️ 17 جولائی 2025 سچ خبریں:صہیونی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوجی اڈوں میں صرف 10

سید رضی کے قتل پر ایران کا ردعمل

?️ 26 دسمبر 2023سچ خبریں:صہیونی اخبار یروشلم پوسٹ نے قابض حکومت کے حکام کے حوالے

صیہونی آباد کاروں کو 17 ہزار ہتھیاروں کے لائسنس دئیے گئے

?️ 4 فروری 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کی ویب سائٹ 0404 نے لکھا ہے کہ فلسطینیوں

نیتن یاہو: ہم ایک مشکل رات گزار رہے ہیں

?️ 22 مارچ 2026سچ خبریں: اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے مقبوضہ علاقوں کے جنوب

ٹک ٹاک کی مجوزہ بندش پر امریکی سپریم کورٹ سماعت کرے گا

?️ 20 دسمبر 2024 سچ خبریں: شارٹ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر امریکا

صیہونیوں کا حماس کی صلاحیت کا اعتراف

?️ 17 فروری 2026سچ خبریں:صہیونی ریاست کے ٹیلی ویژن نے زیر زمین سرنگیں بنانے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے