سعودی عرب جانتا ہے کہ ہم شراکت دار ہیں، دشمن نہیں:صیہونی وزیر خارجہ

سعودی

?️

سچ خبریں:صیہونی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ اس حکومت اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے معاہدے پر غالباً اس سال دستخط ہو جائیں گے۔

صیہونی ذرائع ابلاغ نے اس حکومت کے وزیر خارجہ الی کوہن کے حوالے سے اعلان کیا ہے کہ ان کے جائزے کی بنیاد پر اس سال کم از کم ایک ملک اور شاید دو دیگر ممالک یعنی سوڈان اور سعودی عرب ہمارے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے معاہدے پر دستخط کریں گے۔

صہیونی کان ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کوہن نے نے کہا سعودی عرب واضح طور پر سمجھتا ہے کہ اسرائیل اس کا دشمن نہیں بلکہ اس کا ساتھی ہے، انہوں نے مزید دعوی کیا کہ اس حکومت کی وزارت خارجہ نے چھ یا سات ممالک کی نشاندہی کی ہے جو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لائیں گے اور وضاحت کی کہ وہ خاص طور پر افریقہ، ایشیا اور خلیج فارس کے اسلامی اور عرب ممالک کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔

الی کوہن نے زور دے کر کہا کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ دونوں فریقوں کے مفاد میں ہے، سعودی عرب جانتا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے معاہدے کی طرف بڑھنے سے اسے سکیورٹی اور اقتصادی دونوں فائدے ہیں۔

دریں اثنا سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے دو ہفتے قبل اس بات پر زور دیا تھا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کا معاہدہ اسرائیل کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کرنے کی پیشگی شرط ہو گا جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے گزشتہ نومبر میں کہا تھا کہ مستقبل میں ان کا ایک اہم ہدف سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کرنا ہے۔

نومبر 2020 میں صہیونی میڈیا نے نیتن یاہو اور موساد کے سربراہ یوسی کوہن کے سعودی عرب کے خفیہ دورے اور امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی موجودگی میں نیوم شہر میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی خبریں دی تھیں،اسی طرح نومبر 2021 میں ان ذرائع ابلاغ نے سعودی عرب کے اعلیٰ عہدے داروں سے جڑے ایک ذریعے کے حوالے سے اعلان کیا تھا کہ نیتن یاہو اور محمد بن سلمان کے درمیان یہ پہلی ملاقات نہیں تھی، تاہم سعودی ولی عہد نے اس بار اس خبر کو منظر عام پر آنے کی اجازت صرف اس وجہ سے دی تاکہ وہ اس معاملے میں سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک سمیت دنیا کے ردعمل کا مشاہدہ کریں۔

نیتن یاہو نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے صرف وقت کی ضرورت ہے، دعویٰ کیا کہ بہت سے عرب ممالک کی جانب سے تل ابیب کے ساتھ تعلقات کا قیام بشمول متحدہ عرب امارات، بحرین، مغرب اور سوڈان، ریاض کے علم اور رضامندی کے بغیر نہیں تھا کیونکہ سعودی عرب عرب دنیا کا سب سے بااثر ملک ہے۔

صیہونی حکومت کے سابق وزیر اعظم یائرلاپڈ کا بھی کہنا ہے کہ اسرائیل مستقبل قریب میں سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لا سکتا ہے،انہوں نے نئے وزیراعظم سے کہا کہ وہ اپنی کابینہ کی طرف سے انجام دیے جانے والے اقدامات پر بھروسہ کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے عمل کو آگے بڑھائیں۔

 

مشہور خبریں۔

کیا امریکہ میں مسلح تشدد کم ہو رہا ہے؟

?️ 15 جنوری 2022سچ خبریں:   دو امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں نے حال ہی میں اپنی

لیکوڈ پارٹی کیا کرنا چاہتی ہے؟

?️ 19 اگست 2023سچ خبریں:حزب اختلاف کے اتحاد کے سربراہ یائر لاپیڈ کی موجودگی میں

امریکی جج نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی فنڈنگ کو جزوی طور پر بحال کرنے کا حکم دیا

?️ 13 اگست 2025سچ خبریں: امریکی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کو یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی

پاکستان کی سرحد سے متصل علاقے اسپن بولدک پر طالبان کا قبضہ، افغان فوج اور طالبان میں شدید جھڑپیں

?️ 18 جولائی 2021طالبان (سچ خبریں)  پاکستان کی سرحد سے متصل علاقے اسپن بولدک پر

پاکستان اپنے مقصد کے راستے پر چل نہیں سکا:وزیر اعظم

?️ 12 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں) اسلام آباد میں ’احساس کوئی بھوکا نہ سوئے‘ پروگرام

سعودی اور اماراتی عہدہ دار امریکی اور صیہونی کارندے ہیں:الحوثی

?️ 3 فروری 2022سچ خبریں:یمنی عوامی تنظیم انصار اللہ کے سربراہ عبد المالک الحوثی نے

اقوام متحدہ کے نمائندے کی انصاراللہ کے سربراہ کے ساتھ اہم ملاقات، عبدالمالک الحوثی کی اقوام متحدہ پر شدید تنقید

?️ 2 جون 2021صنعا (سچ خبریں)  اقوام متحدہ کے نمائندے مارٹن گریفٹس کی انصاراللہ کے

ایران کے ساتھ سفارتی حل بہترین نتیجہ ہے: امریکی وزیر خارجہ اور یورپی ٹرائیکا

?️ 7 اپریل 2022سچ خبریں:  امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے جمعرات کی صبح برطانوی،

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے