جب چاہیں اپنی حکومت بنائیں، دھاندلی کریں اور نیوٹرل بن جائیں، یہ فوج کا اختیار ہے؟ فضل الرحمٰن

?️

کوئٹہ: (سچ خبریں) جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے فوج کے غیر جانبدار رہنے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب اس سے پہلے آپ جانبدار تھے تو کیا یہ آپ کا اختیار تھا کہ جب چاہیں مارشل لگائیں، اپنی حکومت بنائیں اور دھاندلی کریں اور جب چاہیں نیوٹرل بن جائیں؟

مولانا فضل الرحمٰن نے کوئٹہ میں بلوچستان ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کے 4 ستون ہیں جن میں اسلام، جمہوریت، پالیمانی طرز حکومت اور وفاقی نظام شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی آئین کے دائرہ کار سے تجاوز کرتا ہے اور ایک ادارے کو طاقتور اور تمام اداروں کو کمزور سمجھتا ہے، عدلیہ اور انتظامیہ اپنی حدود سے تجاوز کرتی ہے تو ملک میں فکری اضطراب آئے گا۔

انہوں نے عالمی برادری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اداروں اور عالمی معاہدات کے تحت پاکستان جیسے ممالک کو معاشی، اقتصادی اور دفاعی حوالے سے کنٹرول کیا جاتا ہے، اقوام متحدہ، جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل، جینیوا میں انسانی حقوق کمیشن جیسے عالمی ادارے ترقی پذیر ممالک کو کنٹرول کرتے ہیں اور پاکستان بھی اسی فہرست میں شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی ادارے اپنی رائے ہم پر مسلط کرتے ہیں، دفاعی لحاظ سے فوج ہماری ہے لیکن عالمی قوتوں کا دباؤ ہمشہ رہتا ہے، عالمی اداروں کو اسرائیل اور بھارت کے پاس سیکڑون ایٹم بم ہونے پر کوئی اختلاف نہیں لیکن پاکستان پر مسلسل دباؤ ڈالاجاتا ہے، پاکستان کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے اکثر بیرونی طاقتوں کی جانب سے نشانہ بنایا جاتا ہے، یہ عالمی سطح پر غریب پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کو غلام رکھنے کا طریقہ ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ قومی سطح پر ہماری سوچ کی صلاحیت چھین لی گئی ہے، کہا جاتا ہے کہ کیا فوج مزید غیر جانبدار رہے گی؟ خود ہی اندازہ لگا لیں کہ فوج نے غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ فروری میں ہی کرلیا تھا، جب اس سے پہلے آپ جانبدار تھے اور 3 بار مار مارشل لا لگایا تو آپ کو کس نے پوچھا تھا؟ کیا یہ آپ کا اختیار ہے کہ جب آپ چاہیں مارشل لگائیں، جب چاہیں اپنی مرضی کی حکومت بنائیں اور دھاندلی کریں اور جب چاہیں نیوٹرل بن جائیں؟

جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ 70 سال پہلے ہم طاقتور تھے اور 70 سال بعد ہم کمزور ہوچکے ہیں، ملک میں معاشی استحکام کے ساتھ دفاعی استحکام بھی ضروری ہے، ایسے کبھی حالات پیدا نہیں ہونے چاہیے کہ سیاستدان فوج کو اپنے ملک میں رکاوٹ تصور کریں، فوج ایک ادارہ ہے اگر وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں تک محدود رہتے ہیں تو ہم حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب امریکا کے ساتھ تعلقات خراب ہوجاتے ہیں تو بولا جاتا ہے کہ پاکستان تنہا ہوگیا ہے، اصل میں ایسا تب ہوتا ہے جب پاکستان علاقائی سطح پر تنہا ہو، افغانستان، بھارت، اور ایران کو ہم مستقل دوست نہیں بنا سکے، اس صورتحال میں ہمیں اپنی خارجہ پالیسی کا تعین کرنا چاہیے، ہمیں اپنے مفادات تعین کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ 1973 کے آئین کے تحت صوبوں کو محدود پیمانے پر اختیارات دیے گئے اور 18 ویں ترمیم میں صوبوں کو بہت زیادہ اختیارات دیے گئے لیکن آج بھی اس پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں ہوسکا، صوبہ اپنے وسائل کا خود مالک ہو، کوئی دوسرا صوبہ اس پر کنٹرول نہ کرسکے۔

مشہور خبریں۔

غزہ میں بھاری جانی نقصان کے بعد نیتن یاہو پر تنقید میں شدت

?️ 11 جولائی 2025سچ خبریں: اسرائیلی فوج کے غزہ میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان

برطانوی جریدے کا بشریٰ بی بی سے متعلق تہلکہ خیز انکشاف، حکومتی ردعمل سامنے آگیا

?️ 15 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) برطانوی جریدے کے بشریٰ بی بی سے متعلق

’یونانی کوسٹ گارڈ کے رسی سے کشتی کھینچنے کی وجہ سے حادثہ ہوا‘

?️ 1 جولائی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) یونان کے قریب کشتی کی تباہی سے بچ جانے

منیب بٹ نے عالیہ بھٹ کے ساتھ فلم کی آفر پر خاموشی توڑ دی

?️ 23 فروری 2025کراچی: (سچ خبریں) پاکستانی شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار منیب بٹ نے

رفح کے مکینوں کی تازہ ترین صورتحال

?️ 15 فروری 2024سچ خبریں:اقوام متحدہ کے انڈر سیکریٹری جنرل برائے انسانی امور اور تنظیم

عوام کے ووٹ پر قابو پانے کے لیے امریکہ میں دو طرفہ جدوجہد

?️ 8 اگست 2025سچ خبریں: امریکہ میں پارٹی کی دوبارہ تقسیم ایک ایسا طریقہ ہے

صہیونیوں کی کوششیں عالمی حلقوں کی زد میں

?️ 10 ستمبر 2024سچ خبریں: Yedioth Aharonot اخبار کے مطابق اسرائیلی وزارت خارجہ نے دنیا

روسی جوہری حملے کے خطرے کے بارے میں امریکی افواہیں

?️ 15 اکتوبر 2022سچ خبریں:امریکی حکام اور اس ملک کا میڈیا بارہا گزشتہ دنوں میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے