?️
سچ خبریں: وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب امریکی کانگریس کی رائے کو راغب کرنے کے مقصد سے تیل کی پیداوار بڑھا رہا ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنے ایک کالم میں پیش گوئی کی ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں زیادہ رہیں تو سعودی عرب اگلے سال کے شروع میں تیل کی پیداوار بڑھانا چاہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا سعودی عرب امریکی محور سے دور ہو رہا ہے؟
اس رپورٹ کے مطابق اس کاروائی کو سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی علامت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جس نے پہلے بائیڈن حکومت کی تیل کی قیمتوں میں کمی کی درخواست کو مسترد کر کے دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ پیدا کر دیا تھا۔
وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا کہ ایسا فیصلہ سعودی عرب کی جانب سے امریکہ کے ساتھ مشترکہ فوجی معاہدے کے بدلہ میں کیا جائے گا۔
اطلاعات کے مطابق سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مشترکہ فوجی معاہدے میں امریکی جوہری امداد،ہتھیاروں کی فروخت اور اس ملک کے سویلین جوہری پروگرام کی حمایت شامل ہوں گے۔
اس معاہدے میں ریاض کی طرف سے تل ابیب کو تسلیم کرنا بھی شامل ہے، ایک ایسا مسئلہ جو مشرق وسطیٰ میں اہم جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کا باعث ہوگا۔
تاہم بائیڈن انتظامیہ کو اس معاہدے کے لیے کانگریس کی حمایت کی ضرورت ہے، اسی وجہ سے یہ انتظامیہ سعودی عرب کے ساتھ ایک مشترکہ دفاعی معاہدہ اور اس ملک کو اربوں ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت پر غور کر رہی ہے۔
دوسری طرف سعودی عرب کی طرف سے تیل کی پیداوار میں کوئی بھی اضافہ OPEC+ میں اس ملک اور روس کے درمیان اتحاد کو پیچیدہ بنا دے گا۔
مزید پڑھیں: کیا سعودی عرب کو اب امریکی اسلحہ پر بھی اعتبار نہیں رہا؟
واضح رہے کہ بائیڈن انتظامیہ موجودہ مذاکرات کو آگے بڑھاتے ہوئے اور تفصیلات پر توجہ مرکوز کرکے اگلے چھ ماہ کے اندر سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
اگرچہ سعودی عرب کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کے بارے میں خدشات برقرار ہیں،اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے حکام نے سعودی عرب سے کہا ہے کہ وہ واشنگٹن میں اپنی تصویر بہتر بنائے جہاں امریکی کانگریس ایسے سفارتی معاہدوں کی منظوری میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔


مشہور خبریں۔
عراق میں امریکہ کی غلطیوں نے یوکرین کی جنگ پر کیسے سایہ ڈالا ہے؟
?️ 20 مارچ 2023سچ خبریں:چند ماہ قبل سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی عراق
مارچ
صہیونی ریاست کی نئی کابینہ کے تشکیل پانے سے پہلے ہی سیاسی جماعتوں میں شدید اختلاف پیدا ہوگیا
?️ 13 جون 2021تل ابیب (سچ خبریں) ایک طرف جہاں صہیونی ریاست کی نئی کابینہ کی
جون
لیہہ:انتظامیہ نے لیہہ اپیکس باڈی کے شریک چیئرمین کو گھر میں نظر بند کر دیا، انٹرنیٹ سروس معطل
?️ 18 اکتوبر 2025لیہہ: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں
اکتوبر
بغداد میں امریکی سفارت خانہ ہے یا فوجی کیمپ: عراقی پارلیمنٹ ممبر
?️ 9 فروری 2021سچ خبریں:عراقی پارلیمنٹ کے ایک نمائندے نے بغداد میں امریکی سفارت خانے
فروری
غزہ کے ہسپتالوں کی حالت پر انگریز ڈاکٹر کا چونکا دینے والا بیان
?️ 31 مئی 2024سچ خبریں: جب کہ صیہونی غاصب حکومت نے غزہ کے اسپتالوں اور
مئی
ایران کا اسلامی انقلاب استکباری تسلط کو کمزور کرنے میں پیش پیش
?️ 10 فروری 2022سچ خبریں: خارجہ امور کے مصنف اور تجزیہ کار حسن ہردان نے
فروری
فیض حمید کا ساتھ دینے والے سیاستدانوں کا فوجی عدالت میں ٹرائل ہونا چاہئے۔ رانا ثناءاللہ
?️ 11 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم کے مشیر رانا ثناءاللہ نے کہا ہے
دسمبر
بیلجیم کے شہر وروے کا صیہونی حکومت سے تعلقات منقطع کرنے کا اعلان
?️ 1 جون 2023سچ خبریں:فلسطینی عوام کی حمایت میں بیلجیم کے شہر وروے نے صیہونی
جون