سابق سعودی عہدہ دار کا اس ملک کے بڑے اداروں کے بارے میں اہم انکشاف

سعودی

?️

سچ خبریں:سعودی وزیر داخلہ کے سابق مشیر نے کہا کہ وزارت داخلہ سمیت سعودی عرب کے حساس اداروں میں متعدد انتہا پسند افراد دراندازی کر چکے تھے جس کاانہوں نے اپنے دور حکومت میں مشاہدہ کیا۔
سعودی وزارت داخلہ (نائف بن عبد العزیز کے دوران) کے سابق مشیر سعود المصیبیح نےاپنے ایک انٹرویو میں کہا ہےکہ2012 سے پہلے کے سالوں میں سعودی عرب کی وزارت داخلہ سمیت متعدد حساس مراکز میں دراندازی کی گئی تھی جس کے بعد ان کے اس انٹرویو نے سوشل میڈیا پر ایک بہت بڑا تنازعہ کھڑا کردیا ہے،انہوں نے سعودی اخبار الاخباریہ کو بتایا کہ بدقسمتی سے ہم نے دیکھا کہ حساس مراکز حتی کہ وزارت داخلہ بھی انتہاپسندافراد دراندازی کر چکے ہیں جبکہ میں نے اس مسئلے کو دیکھا اور امیر نائف کو آگاہ کیا۔

المصیبیح نے کہا کہ نائف بن عبد العزیز کی وزارت کے دوران یہ دراندازی ان کے مشیروں کے درمیان بھی موجود تھی ،تاہم کچھ مشیروں کو برطرف کیا گیا اور ان کی جگہ کچھ شیخوں کو لیا گیا لیکن اس وقت تک بہت ساری رقم دہشت گردوں کے پاس پہنچ چکی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امری نائف کا السیاسہ اخبار کو دیا جانے والے انٹرویو یاد آگیا ہے کہ انٹرویو کو تین سے چار دن گزر چکے تھے لیکن وہ سرکاری سعودی خبر رساں ایجنسیوں میں شائع نہیں ہوا تھا جب میں نے اس معاملہ کی پیروی کی اور پوچھا کہ اسے شائع کیوں نہیں کیا گیا ہے تو وجواب ملا کہ اس کی کاپی اعلی حکام کو بھجوا دی گئی ہے اور جواب کا انتظار ہے۔

تاہم سابق سعودی عہدے دار نے یہ نہیں بتایا کہ یہ اثر و رسوخ کس کے ذریعہ سے ہوا اور کون سے عہدیدار بااثر ہیں ،انھوں نے صرف یہ کہا کہ کچھ شدت پسندوں نے سعودی وزیر داخلہ کے انٹرویو کی اشاعت کو روکا تھاجس کے بعدکچھ صارفین نے لکھا ہے کہ اس کا مطلب نائف بن عبد العزیز کی مدت کے دوران سعودی وزارت داخلہ کے اجلاس میں اخوان المسلمین کے حامیوں کی موجودگی کا اثرورسوخ تھا۔

واضح رہے کہ نائف بن عبد العزیز 1975 سے 2011 تک سعودی عرب کے وزیر داخلہ رہے،اس کے بعدالمصیبیح نے دعوی کیا کہ اب سعودی بادشاہ اور ولی عہد شہزادے یہ اثر رسوخ ختم کر دیا ہےجس سے سعودی عرب میں اخوان المسلیمن پر تشدد ، اس کے اراکین کو قیدکرنا اور اس گروہ کو دہشت گرد قرار دینے کی وجہ معلوم ہو سکتی ہے۔

 

مشہور خبریں۔

انصار اللہ کو دہشت گرد کہنا اہم نہیں ہے،غزہ زیادہ اہم ہے: الحوثی

?️ 6 مارچ 2025سچ خبریں: یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے رکن محمد علی الحوثی

اٹمر بن گوئیر نے مسجد اقصیٰ پر حملہ کیا

?️ 21 مئی 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے داخلی سلامتی کے وزیر Itamar Benguir نے آج

نواز شریف کی سزا کےخلاف اپیل بحالی کی درخواستیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر

?️ 23 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سابق وزیراعظم و سربراہ مسلم لیگ (ن) نواز

کیا فلسطینی قوم کو خطرے کا سامنا ہے ؟

?️ 13 دسمبر 2023سچ خبریں:سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے غزہ کی پٹی پر

دہشتگردی کیخلاف پوری قوت کے ساتھ بھرپور کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی، وزیراعظم

?️ 16 دسمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا

عراق سے امریکی فوجیوں کا خروج ہماری اولین ترجیح : الفتح

?️ 5 اکتوبر 2021سچ خبریں: عراقی پارلیمنٹ کے ایک رکن نے کہا کہ ملک سے غیر

ٹرمپ کی ایران کے خلاف دھمکیاں خطرناک وہم، ایران وینزویلا نہیں: پاکستانی سینیٹر

?️ 31 جنوری 2026سچ خبریں:پاکستانی سینیٹر ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ ایران کے

حماس نے اسرائیل پر حملہ کیوں کیا؟ وائٹ ہاؤس کی زبانی

?️ 8 اکتوبر 2023سچ خبریں: وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ ایران فلسطینی مزاحمتی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے