زہران ممدانی کی جیت سے صہیونی حکام خوفزدہ

زہران ممدانی

?️

زہران ممدانی کی جیت سے صہیونی حکام خوفزدہ
امریکی شہر نیویارک کے میئر کے انتخاب میں زہران ممدانی، مسلمان اور ڈیموکریٹ رہنما کی تاریخی فتح نے صہیونی حلقوں اور اسرائیلی حکام میں گہری تشویش اور خوف کی لہر دوڑا دی ہے۔
بدھ کے روز اسرائیلی ٹی وی چینل چینل ۷ کی رپورٹ کے مطابق، سابق اسرائیلی قونصل جنرل یاکی دایان نے ممدانی کی کامیابی کو "اسرائیل کے لیے خطرناک پیش رفت”قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف نیویارک کے لیے نہیں بلکہ مستقبل میں اسرائیل اور امریکہ کے تعلقات کے لیے بھی نگران کن اشارہ ہے۔
دایان نے کہا:اب دنیا کے سب سے بڑے یہودی شہر کی قیادت ایک مسلمان سیاستدان کے ہاتھ میں آ گئی ہے جو اسرائیل مخالف مؤقف رکھتا ہے۔ یہ ان تمام یہودیوں کے لیے باعثِ فکر ہے جو اسرائیل کی حمایت جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ممدانی کی جیت دراصل امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی اسرائیل مخالف سوچ کو ظاہر کرتی ہے، جو مستقبل میں امریکی پالیسیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
"یہ محض ایک مقامی انتخاب نہیں بلکہ ایک بڑی سیاسی علامت ہے۔ اگر سابق صدر باراک اوباما بھی ممدانی کے مشیر کے طور پر شامل ہیں، تو یہ معمولی واقعہ نہیں بلکہ ایک خطرناک رجحان کی شروعات ہے۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق، اسرائیلی برادری کو خدشہ ہے کہ ممدانی کے دور میں نیویارک میں فلسطین کے حق میں احتجاجات بڑھ سکتے ہیں اور اسرائیل نواز سرگرمیوں کو مالی و سیاسی سپورٹ میں کمی آسکتی ہے۔
زہران ممدانی، جو ڈیموکریٹک سوشلسٹ موومنٹ کے رکن ہیں، عرصہ دراز سے اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف پالیسیوں کو "غیر اخلاقی، غیر قانونی اور غیر انسانی قرار دیتے آئے ہیں۔
انہوں نے حال ہی میں ایک مضمون میں لکھا:”غزہ میں انسانی المیہ اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ قبضہ ختم ہونا چاہیے، اور نسل پرستی و امتیاز کا نظام مٹ جانا چاہیے۔
ممدانی نے اعلان کیا ہے کہ وہ نیویارک سٹی کے مالیاتی قوانین میں اسرائیل سپورٹ بانڈز پر سرمایہ کاری ختم کریں گے اور ان تنظیموں کی ٹیکس مراعات واپس لیں گے جو اسرائیلی فوج یا صہیونی آبادکاری کی مالی معاونت کرتی ہیں۔
انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں کہا تھا کہ وہ امریکی حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ جب تک غزہ میں نسل کشی ختم نہیں ہوتی، اسرائیل کو امداد بند کی جائے۔
انتخابات میں دو ملین سے زائد ووٹرز نے حصہ لیا۔ ممدانی نے ۵۰ فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے اپنے دونوں حریفوں، سابق گورنر اینڈریو کومو (۴۳٪ ووٹ) اور ریپبلکن امیدوار کیرٹس اسلیوا کو شکست دی۔کومو کو نیویارک کے بااثر سرمایہ دار طبقے کی حمایت حاصل تھی، تاہم عوامی مقبولیت ممدانی کے حق میں رہی۔
زہران ممدانی پہلے مسلمان (شیعہ) اور جنوبی ایشیائی نژاد سیاستدان ہیں جو نیویارک جیسے بڑے اور یہودی اکثریتی شہر کے میئر منتخب ہوئے ہیں۔وہ گزشتہ سو سال میں سب سے کم عمر میئر بھی ہیں جنہوں نے امریکہ کے مالیاتی مرکز کی قیادت اپنے ہاتھوں میں لی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، ممدانی کی کامیابی صرف ایک شہری انتخاب نہیں بلکہ امریکہ میں اسرائیل مخالف رائے عامہ کے بڑھتے رجحان اور فلسطینی عوام کے ساتھ ہمدردی کی عکاسی کرتی ہے۔

مشہور خبریں۔

دہشتگرد نے پہلے فائرنگ کی پھرتیسری صف میں جاکر خود کو دھماکے سے اڑایا،آئی جی خیبرپختونخوا پولیس

?️ 4 مارچ 2022پشاور (سچ خبریں) آئی جی خیبرپختونخوا پولیس  نے کہا ہے کہ دہشتگرد نے پہلے

2023 کے پہلے 3 ماہ میں سعودی عرب کے بجٹ میں کمی

?️ 9 مئی 2023سچ خبریں:سعودی میڈیا نے رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں سعودی

صیہونی کابینہ تباہی کے دہانے پر

?️ 7 اپریل 2022سچ خبریںصیہونی کنسیٹ کی رکن عیدت سیلمن کے حکمراں اتحاد کے ساتھ

ٹرمپ کی بیٹی نے کانگریس پر حملے کے دن گواہی دینے سے کیا انکار

?️ 21 جنوری 2022سچ خبریں:  ایوانکا ٹرمپ سابق امریکی صدر کی بیٹی نے جمعرات کو

مرتس نے ایران کے خلاف جارحیت پر ٹرمپ سے اپنے اختلاف پر زور دیا

?️ 29 اپریل 2026سچ خبریں: جرمن چانسلر فریدریش مرتس نے ایران کے خلاف جنگ شروع

ٹرمپ: میں نے دنیا کو ایٹمی جنگ سے بچایا

?️ 3 ستمبر 2023سچ خبریں: نیویارک کے اٹارنی جنرل سے ملاقات میں سابق امریکی صدر

اماراتی شہری کی صیہونی فٹ بال کلب کی خریداری

?️ 25 جولائی 2022سچ خبریں:صیہونی ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا ہے کہ ہاپول تل ابیب

غزہ کے لیے فضائی امداد بھیجنے کے پس پردہ حقائق

?️ 4 مارچ 2024سچ خبریں: غزہ کو فضائی امداد بھیجنے میں صیہونی حکومت کی حمایت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے