?️
سچ خبریں: حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ حماس اپنی مطلوبہ شرائط پوری کیے بغیر کسی معاہدے پر رضامند نہیں ہوگی۔
حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے المیادین کے ساتھ گفتگو میں تاکید کی ہے کہ غزہ میں قابضین کی ہلاکتیں اور جرائم ان کی اسٹریٹجک ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں، کیونکہ قابضین اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا صیہونی حماس کی شرطیں مانیں گے؟
ہنیہ نے مزید کہا کہ اسرائیلی غاصب حماس کو ختم نہیں کر سکیں گے، اپنے قیدیوں کو واپس نہیں کر سکیں گے کیوں کہ اسرائیلی قیدی ایک باعزت معاہدے کے علاوہ واپس نہیں جا سکیں گے۔
اسماعیل ھنیہ نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ میں تمام فلسطینی عوام اور امت اسلامیہ سے کہتا ہوں کہ گزشتہ چھ ماہ سے غزہ میں جاری نسل کشی مختلف موقف کی متقاضی ہے، مغرب کا بگڑا ہوا بچہ اسرائیل جو تھا وہ اب نہیں رہا اور اس کا چہرہ اور شان و شوکت ٹوٹ چکی ہے، سفارت کاری کی راہداریوں میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسرائیل کی غیر معمولی تنہائی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
میرے بچوں اور پوتوں کو مارنے سے کچھ نہیں بدلے گا۔
ہنیہ کے مطابق، قابض میڈیا کی رائے کے برعکس، جس میں کہا گیا تھا کہ میرے بچوں اور پوتوں کو قتل کرنے سے حماس پر مذاکرات میں اپنا موقفف تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوگا۔
ہنیہ نے تاکید کی کہ ہم غزہ میں مستقل اور مخصوص جنگ بندی کے اعلان کی ضرورت پر اپنی پابندی پر زور دیتے ہیں، ہم قابضین کے مکمل انخلاء اور غزہ میں پناہ گزینوں کی بغیر کسی پابندی، شرائط اور رکاوٹوں کے واپسی کی شرط پر بھی زور دیتے ہیں، اس کے علاوہ ہم تمام شرائط اور امداد اور بحالی کے مسائل پر اپنی پابندی پر زور دیتے ہیں اس کے بعد ہی قیدیوں کی واپسی کے بارے میں بات ہو گی۔
حماس کے سینئر رکن نے اپنی تقریر کے آخر میں اس بات پر زور دیا کہ حماس مطلوبہ شرائط کو پورا کیے بغیر کسی معاہدے پر راضی نہیں ہوگی۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا نے حماس کے سینئر رہنما اسماعیل ہنیہ کے اہل خانہ کی شہادت کے غزہ کی صورتحال پر اثرات کے بارے میں قیاس آرائیاں کی ہیں۔
عبرانی میڈیا کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسماعیل ہانیہ کے بیٹوں کا قتل حماس کو کمزور نہیں کرتا۔
عبرانی زبان کے ذرائع ابلاغ نے کہا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں کے چلے جانے سے حماس یا مذاکرات میں فلسطینی پوزیشن کمزور نہیں ہوگی اور یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ ہنیہ کے تینوں بچوں کی شہادت کا مذاکراتی عمل پر کوئی اثر پڑے گا۔
گزشتہ روز عبرانی اخبار Yediot Aharanot کی ویب سائٹ نے غزہ جنگ کے بارے میں اپنی ایک رپورٹ میں اعلان کیا تھا کہ حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کے بیٹوں اور پوتوں کے قتل سے بھی مجموعی تصویر نہیں بدلے گی،حقیقت یہ ہے کہ 6 ماہ سے زیادہ عرصہ سے جاری جنگ میں اسرائیل کی شکست کا سلسلہ مزید شدت کے ساتھ جاری ہے۔
جب کہ غزہ میں جنگ کو طول دینے کی قیمت صیہونی حکومت کے لیے فوجی، اقتصادی اور سفارتی سطح پر مسلسل بڑھ رہی ہے، اس حکومت کے اندرونی محاذ سے جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔
قابض حکومت کے سابق وزیر انصاف ہیم رامون نے کل عبرانی اخبار معاریو کو انٹرویو دیتے ہوئے اعلان کیا کہ جنگ اسرائیل کی تزویراتی شکست کے ساتھ ختم ہو گی اور اسرائیل نے اپنے کسی بھی اہداف کو حاصل نہیں کیا۔
اس سابق صہیونی وزیر نے اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ہرتزی ہالوی سے کہا کہ وہ مستعفی ہو جائیں اور وہاں سے چلے جائیں۔
اس سلسلے میں صیہونی حکومت کے چینل 14 کے تجزیہ نگار ڈونی نیومین” نے حزب اللہ کے حملوں کے نتیجے میں مقبوضہ فلسطین کے شمالی محاذ کی افراتفری کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ 100 ہزار اسرائیلی بے گھر ہوئے ہیں، 6 ماہ پہلے سے اپنے گھروں سے نکلنے کا مطلب ہے کہ حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ جنگ جیت چکے ہیں۔
قبل ازیں الجزیرہ نے اطلاع دی تھی کہ غزہ میں صہیونی حملے کے نتیجے میں اسماعیل ہنیہ کے تین بچے اور تین پوتے شہید ہو گئے ہیں۔
فلسطینی ذرائع نے شہداء کے ناموں کا اعلان حازم، امیر اور محمد کیا ہے جو حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ کے بیٹے تھے۔
حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ نے صہیونی حملے میں اپنے بعض بچوں اور پوتوں کی شہادت کے ردعمل میں کہا کہ میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے میرے تین بچوں اور پوتوں کی شہادت سے ہمیں عزت بخشی۔
مزید پڑھیں: حماس کی شرطیں ماننے کا کیا مطلب ہے؟ نیتن یاہو کی زبانی
ہنیہ نے مزید کہا کہ ان دردوں اور خون سے ہم مسئلہ فلسطین اور اپنی قوم کے لیے امید، مستقبل اور آزادی پیدا کر رہے ہیں۔
حماس نے بھی ایک بیان میں حملہ آوروں کے جرائم اور ان کے وحشیانہ حملوں پر ردعمل ظاہر کیا،تحریک حماس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ دشمن یہ سمجھتا ہے کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی شہریوں پر وحشیانہ بمباری سے وہ اپنے اہداف کے حصول میں ذلت آمیز ناکامی کے بعد مذاکرات کے دوران ایک سودے بازی کی چپ ثابت ہو سکتا ہے،یہ نہیں چلے گا۔


مشہور خبریں۔
غزہ میں صیہونی فوج پر کیا بیت رہی ہے؛صیہونی اسپتال کے سربراہ کی زبانی
?️ 31 دسمبر 2023سچ خبریں: مقبوضہ علاقوں کے ہسپتالوں میں سے ایک کے ڈائریکٹر نے
دسمبر
سی پیک کے حوالے سے چین کا مطالبہ اور حکومت کا ردعمل
?️ 23 جون 2024سچ خبریں: پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک میں دہشتگردی
جون
اقوام متحدہ کی یورپ سے افغان پناہ گزینوں کی ملک بدری روکنے کی اپیل
?️ 23 مئی 2026سچ خبریں:اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے یورپی ممالک
مئی
حکومت اور پی ٹی آئی کا مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق، اگلے دور میں مطالبات پیش کیے جائیں گے
?️ 23 دسمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف اور حکومتی کمیٹیوں کے درمیان
دسمبر
این اے 185 میں پیپلز پارٹی اُمیدوار کو کل کے الیکشن پر تحفظات ہیں۔ شازیہ مری
?️ 25 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) مرکزی رہنما پیپلز پارٹی شازیہ مری نے کہا
نومبر
عراق نے تیل کی برآمدات کی بحالی کو آبنائے ہرمز کی صورتحال سے مشروط کر دیا
?️ 19 جون 2026سچ خبریں: بغداد سے موصولہ اطلاعات کے مطابق عراق کے وزیرِ تیل
جون
استنبول میں اسرائیلی قونصل خانے کے سامنے عوام کا جمع ہونا، ناوگان صمود پر حملے کے خلاف احتجاج
?️ 20 مئی 2026سچ خبریں: ترکی کے عوام نے استنبول میں اسرائیلی قونصل خانے کے
مئی
سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی ثالثی عدالت نے پاکستان کے موقف کی تائید کردی
?️ 28 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سندھ طاس معاہدے پر ثالثی عدالت نے اپنے
جون