برطانیہ 2025 میں مسلسل دباؤ کا شکار کمزور معیشت، متنازع ہجرت اور مہنگی خارجہ پالیسی

برطانیہ

?️

برطانیہ 2025 میں مسلسل دباؤ کا شکار کمزور معیشت، متنازع ہجرت اور مہنگی خارجہ پالیسی
برطانیہ میں سال 2025 وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی حکومت کا پہلا مکمل سال ثابت ہوا جو بیک وقت معاشی جمود، مہنگائی کے بعد بھی برقرار مہنگے اخراجات، ہجرت کے شدید سیاسی تنازع، عوامی خدمات کے بحران اور پرہزینه خارجہ پالیسی کے باعث دباؤ اور بے چینی کا سال بن گیا۔
معاشی طور پر برطانیہ کی ترقی تقریباً صفر کے قریب رہی جبکہ افراط زر اگرچہ کم ہوا لیکن مرکزی بینک کے مقررہ ہدف سے اب بھی زیادہ رہا۔ شرح سود میں محدود کمی کے باوجود گھریلو قرضے، کرائے اور توانائی کے بل عام شہریوں کے لیے بوجھ بنے رہے۔ حکومت کی جانب سے ٹیکسوں میں اضافہ مالی نظم و ضبط کے نام پر کیا گیا مگر اس سے متوسط طبقے پر دباؤ مزید بڑھ گیا اور زندگی کے اخراجات میں حقیقی کمی محسوس نہ ہو سکی۔
ہجرت کا مسئلہ 2025 میں اندرونی سیاست کا سب سے حساس موضوع رہا۔ چینل مانش میں تارکین وطن کی کشتیوں کی تصاویر سیاسی علامت بن گئیں اور دائیں بازو کی جماعتوں کو تقویت ملی۔ اگرچہ سرکاری اعداد و شمار میں خالص ہجرت میں کمی دیکھی گئی مگر عوامی تاثر اس کے برعکس رہا اور حکومت کو سرحدی کنٹرول اور انسانی حقوق کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا رہا۔
عوامی خدمات بالخصوص نیشنل ہیلتھ سروس شدید دباؤ میں رہی جہاں علاج کے لیے انتظار کی فہرستیں تاریخی سطح تک پہنچ گئیں۔ جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدیوں کا مسئلہ بھی ایک سنگین بحران بن کر سامنے آیا۔ ماحولیاتی شعبے میں حکومتی دعوؤں کے باوجود آلودہ دریا، پانی کے بحران اور کمزور بنیادی ڈھانچے نے پالیسی اور حقیقت کے درمیان فاصلے کو نمایاں کیا۔
سیاسی منظرنامے میں دائیں بازو کی جماعتوں کے عروج اور مقامی انتخابات میں ان کی کامیابی نے روایتی جماعتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ اسی دوران فلسطین کے حق میں مظاہروں پر سخت پولیس کارروائی نے آزادی اظہار اور سلامتی کے درمیان بحث کو تیز کر دیا۔
خارجہ پالیسی میں حکومت نے یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کو عملی بنیادوں پر بحال کرنے کی کوشش کی جبکہ یوکرین کی حمایت اور دفاعی اخراجات میں اضافے کا سلسلہ جاری رکھا۔ تاہم ان پالیسیوں کی مالی لاگت پر اندرون ملک تنقید بڑھتی گئی۔
مجموعی طور پر 2025 برطانیہ کے لیے ایک ایسا سال رہا جس میں مسائل الگ الگ نہیں بلکہ ایک دوسرے کو تقویت دیتے نظر آئے۔ حکومت کے لیے پیغام واضح ہے کہ محض پارلیمانی اکثریت کافی نہیں بلکہ عوامی زندگی میں محسوس ہونے والی بہتری ہی سیاسی اعتماد کو بحال کر سکتی ہے۔ سال 2026 اس بات کا امتحان ہوگا کہ آیا حکومت اس دباؤ سے نکلنے میں کامیاب ہوتی ہے یا سیاسی اور سماجی بے چینی مزید گہری ہو جاتی ہے۔

مشہور خبریں۔

اسرائیل کے حملے اب بند ہونے چاہئیں: امریکی سینیٹر

?️ 5 نومبر 2023سچ خبریں:امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر برنی سینڈرز نے اتوار کی صبح کہا کہ

امریکی نائب صدر کملا ہیرس کی رہائش گاہ پر بم حملے کی کوشش، حملہ آور کو گرفتار کرلیا گیا

?️ 19 مارچ 2021واشنگٹن (سچ خبریں) امریکی نائب صدر کملا ہیرس کی رہائش گاہ پر

جوہر ٹاؤن دھماکے میں ملوث تمام افراد کو گرفتار کر لیا گیا: بزدار

?️ 28 جون 2021لاہور(سچ خبریں) وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے کہا کہ جوہر ٹاؤن دھماکے

فلسطین سے صیہونیوں کی طرف بڑھنے والا طوفان

?️ 7 اکتوبر 2023سچ خبریں: صہیونی میڈیا نے اعلان کیا کہ مقبوضہ علاقوں پر بڑے

صیہونیوں اور حماس کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ کون نہیں ہونے دے رہا؟ سی این این کی رپورٹ

?️ 5 ستمبر 2024سچ خبریں: امریکی خبری چینل سی این این نے اسرائیلی وزیراعظم کو

ہم شرمندہ ہیں، غزہ کے بچوں کا ہولو کاسٹ دیکھ رہے ہیں: وزیراعظم

?️ 20 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے

امریکی ٹینکوں کی پہلی کھیپ تائیوان پہنچی

?️ 16 دسمبر 2024سچ خبریں: تائیوان کی فوج نے امریکہ سے کل 108 M1A2T ٹینک

تل ابیب یونیورسٹی مڈل ایسٹ اسٹڈیز کے پروفیسر: اسرائیل شام کی دلدل میں پھنس جائے گا

?️ 11 مئی 2025سچ خبریں: تل ابیب یونیورسٹی میں مڈل ایسٹ اسٹڈیز کے پروفیسر ایال

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے