ایران کے خلاف ٹرمپ کی مہم جوئی اسے مہنگی پڑ سکتی ہے،ایران کا دوٹوک مؤقف جنگ روکنے کا ذریعہ بنے گا

ٹرمپ

?️

ایران کے خلاف ٹرمپ کی مہم جوئی اسے مہنگی پڑ سکتی ہے، ایران کا دوٹوک مؤقف جنگ روکنے کا ذریعہ بنے گا
ایک معروف عرب تجزیہ نگار نے امریکہ کو ایران کے خلاف کسی بھی فوجی مہم جوئی سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی کسی جنگ کی صورت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور واشنگٹن کو بھاری فوجی، سیاسی اور معاشی قیمت چکانا پڑے گی، جبکہ ایران کا مضبوط اور فیصلہ کن ردعمل جنگ کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
عرب مصنف و تجزیہ نگار محمد یاغی نے فلسطینی اخبار الایام میں شائع اپنے تجزیے میں لکھا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کی تنصیبات کو نشانہ بنایا تو ایران سخت جوابی کارروائی کرے گا، جس میں اسرائیل پر میزائل حملے، مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر کی بندش اور خلیج فارس میں امریکی مفادات پر حملے شامل ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی صورت میں ٹرمپ کو نہ صرف بڑے فوجی نقصانات کا سامنا ہوگا بلکہ داخلی سطح پر بھی سیاسی اور اقتصادی دباؤ میں اضافہ ہوگا۔ ہزاروں امریکی فوجیوں کی تعیناتی ٹرمپ کی عوامی مقبولیت کو شدید نقصان پہنچائے گی کیونکہ امریکی عوام نے انہیں ’’بیرونی جنگوں کے خاتمے‘‘ کے نعرے پر منتخب کیا تھا، جس کے نتیجے میں ری پبلکن پارٹی کو کانگریس کے انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
محمد یاغی کے مطابق، اگر امریکہ ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ میں الجھ گیا تو وہ چین کا مقابلہ کرنے، یورپ پر دباؤ ڈالنے یا لاطینی امریکہ میں اپنی پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے قابل نہیں رہے گا۔ عراق اور افغانستان کی طرح یہ جنگ بھی امریکہ کو دہائیوں تک ایک نئے دلدل میں پھنسا سکتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جنگ کے معاشی اثرات نہایت سنگین ہوں گے۔ اگر ایران آبنائے ہرمز بند کرنے میں کامیاب ہوا تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں دو سے چار گنا تک بڑھ سکتی ہیں جبکہ پیٹرول کی قیمتیں کم از کم دو گنا ہو جائیں گی، جس سے مہنگائی اور بے روزگاری میں شدید اضافہ ہوگا اور روزمرہ اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی۔
تجزیہ نگار نے کہا کہ یہی بھاری قیمتیں فی الحال جنگ کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ اگر ایران واضح اور سنجیدہ انداز میں امریکہ کو جنگ کے نتائج سے آگاہ کرے تو یہ مؤثر بازدار عنصر ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ خود ٹرمپ کے بقول عراق اور افغانستان کی جنگوں پر امریکہ کو سات کھرب ڈالر سے زیادہ خرچ کرنا پڑا، اور امریکی عوام کسی نئی ’’مہنگی مہم جوئی‘‘ کو برداشت نہیں کریں گے۔
مضمون کے اختتام پر محمد یاغی نے لکھا کہ اگر ایران دباؤ کے آگے نہ جھکے اور مضبوط مؤقف اختیار کرے تو امریکہ جنگ کی بھاری قیمت کے خوف سے پیچھے ہٹ سکتا ہے، اور ایسی صورت میں سفارت کاری ہی وہ راستہ بنے گی جو ٹرمپ کو اس خطرناک راستے سے واپس لے آئے گی۔

مشہور خبریں۔

نیتن یاہو نے ان 4 وجوہات کی بنا پر جنگ بندی کو قبول کیا

?️ 29 نومبر 2024سچ خبریں: عطوان نے رائی الیوم نیوز سائٹ پر لکھا کہ نیتن یاہو،

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما کامران ٹیسوری گورنر سندھ مقرر

?️ 9 اکتوبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے متحدہ قومی موومنٹ

پنجاب کے چیف سیکریٹری اور آئی جی کو تبدیل کرنے کا امکان

?️ 6 ستمبر 2021لاہور (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق حکومت نے پنجاب میں ایک بار

جرمنی کا یمن جنگ میں شریک ممالک کو ہتھیار بھیجنے کا سلسلہ جاری

?️ 27 ستمبر 2022سچ خبریں:اولاف شلٹز کی قیادت میں جرمن اتحادی حکومت یمن جنگ میں

نیویارک کے پراسیکیوٹر کی ٹرمپ اور ان کے بچوں کی طلبی

?️ 4 جنوری 2022سچ خبریں:نیویارک کے اٹارنی آفس نے تصدیق کی ہے کہ سابق امریکی

صہیونیوں میں ہمارا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں: انصار اللہ 

?️ 27 دسمبر 2024سچ خبریں: یمن کی انصار اللہ کے سربراہ عبدالملک الحوثی نے اعلان

شامی قبائل کا امریکہ کے خلاف اہم اعلان

?️ 23 مارچ 2021سچ خبریں:شام کے صوبہ دیر الزور کے قبائل سے تعلق رکھنے والے

ترکی کی سیاست میں کرپشن 

?️ 21 اپریل 2025سچ خبریں: ترکی کی سڑکوں اور ٹرانسپورٹیشن کی وزارت کے منیجر کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے