?️
سچ خبریں: ایک عراقی قلمکار اور تجزیہ نگار نے کہا کہ ایرانی حملے،لبنان، یمن اور عراق کی مزاحمتی تحریک سے پیدا ہونے والی ڈیٹرنس طاقت نے ثابت کر دیا کہ مزاحمتی محاذ کی دفاعی طاقت صیہونی حکومت سے زیادہ ہے۔
25 اپریل کی شام اسلامی جمہوریہ ایران نے صیہونی حکومت کے خلاف ڈرون حملہ کیا جسے 26 اپریل کی صبح ڈرون اور میزائل فائر کی دوسری لہر سے تقویت ملی۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی حملے نے صیہونیوں کو کتنا نقصان پہنچایا؟
ایران کی جانب سے صیہونی حکومت کے ٹھکانو کے خلاف آپریشن اس وقت کیا گیا جب اس ملک کے حکام نے اس سے قبل دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر قابض حکومت کے دہشت گردانہ حملے کا جواب دینے کے حق کے تحفظ پر زور دیا تھا۔
اس سلسلے میں عراقی قلمکار اور تجزیہ کار سید محمد صادق الہاشمی کا کہنا ہے کہ اس آپریشن سے ایران نے ثابت کیا کہ وہ ایک ایسا ملک ہے جو خطے میں صیہونی خطرے کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، ایران خطے میں عسکری طاقت اور قطعی منصوبہ بندی کے نظریے کے ذریعے مزاحمت کے محور کی پوزیشن کو مستحکم کر سکتا ہے، دوسری جانب اسلامی جمہوریہ ایران نے ثابت کیا ہے کہ وہ واحد اسلامی ملک ہے جو اسلامی جغرافیہ، مسلمانوں اور فلسطینی قوم کے مفادات کا دفاع کرسکتا ہے اور اسرائیل کا مقابلہ کرنے میں سنجیدہ اور دیانتدار ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کا طویل فاصلہ طے کرنا اور اس اڈے پر ہدف تک پہنچنا جہاں سے جنگی طیاروں نے ایرانی قونصل خانے پر حملہ کیا تھا، صیہونی حکومت کا مقابلہ کرنے میں ایک اہم فوجی، سیکیورٹی اور تزویراتی کامیابی تھی۔
ایرانی میزائلوں کے مقبوضہ علاقوں کے قلب میں گرنے ، جس سے صیہونیوں میں بڑی دہشت پھیل گئی، نے بلاشبہ صہیونی برادری اور آباد کاروں کے لیے ثابت کر دیا کہ یہ حکومت اب ان کی سلامتی فراہم کرنے کے قابل نہیں ہے اور ایران کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے۔ مستقبل میں مقبوضہ القدس کو تباہ کرسکتا ہے۔
اس کارروائی کے نتائج میں سے اس حکومت پر اعتماد اور بھروسہ کا اٹھ جانا اور صیہونی حکومت کی داخلی سلامتی اور استحکام میں خلل ڈالنا تھا، اس لیے ہم خطے اور صیہونی ریاست کے اندر اس کی حیثیت اور کردار کے متعلق ایک بنیادی تبدیلی کا مشاہدہ کریں گے۔
اسرائیل کا خیال تھا کہ تمام ہمسایہ عرب اور اسلامی ممالک کے پاس اسرائیل پر حملہ کرنے کے لیے ضروری فوجی ہتھیار اور جرات نہیں ہے لیکن ایران کے اس جواب ، لبنان، یمن اور عراق کی مزاحمت سے پیدا ہونے والی ڈیٹرنٹ طاقت سے یہ ثابت ہو گیا کہ مزاحمت کا محور اسرائیل پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور وہ صیہونی حکومت سے برتر ہے، اسلامی جمہوریہ ایران نے یہ کارروائی اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کی بنیاد پر کی ہے لہذا کوئی بھی ملک حتیٰ امریکہ اور یورپ بھی ایران کی مذمت نہیں کر سکتا۔
دوسری جانب ایران کا مسئلہ فلسطین کا دفاع اور غاصب صیہونی حکومت کے قبضے کا مقابلہ کرنا بھی ایک جائز اور قانونی معاملہ ہے کیونکہ غاصب حکومت نے اسلامی اور عرب سرزمین پر قبضہ کر رکھا ہے۔
اس آپریشن کے نتیجے میں صیہونی حکومت کو ہونے والے اخراجات اور نقصانات کے بارے میں جاننے کے لیے حالیہ دنوں میں ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی معلومات پر نظر ڈالنا کافی ہے اور جن کا صیہونی حکومت نے بھی اعتراف کیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایرانی حملے نے صیہونیوں کے لیے کیا ثابت کیا؟حماس کی زبانی
پہلے ہی دن سے دشمن کے میڈیا نے اعلان کیا کہ صحرائے النقب میں نواتیم ایئربیس کو کم از کم 7 ایرانی بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، اسرائیلی میڈیا نے اعتراف کیا کہ نواتیم فوجی ہوائی اڈہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور صیہونی حکومت کے 24 چینل نے مقبوضہ علاقوں پر ایران کے میزائل اور ڈرون حملے کی تصاویر جاری کرنے کی اجازت نہ دینے کا اعتراف کیا نیز اعلان کردہ اعدادوشمار کے مطابق صیہونی حکومت کو 1.3 بلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔


مشہور خبریں۔
سائفر کیس: عمران خان نے بعد از گرفتاری ضمانت کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا
?️ 4 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سائفر کیس میں گرفتار سابق وزیراعظم و چیئرمین
نومبر
5 جی کے حوالے سے ماہرین نے اہم تحقیق پیش کر دی
?️ 24 مارچ 2021کینبرا(سچ خبریں)ماہرین نے 5جی کے حوالے سے اہم تحقیق پیش کر کے
مارچ
امریکا اور یورپی ممالک کے دباؤ سے پاک چین تعلقات تبدیل نہیں ہوں گے: وزیراعظم
?️ 30 جون 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ امریکا اور
جون
کیا فلسطینی عوام طوفان الاقصی آپریشن سے خوش ہیں؟
?️ 23 مارچ 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے خلاف فلسطینی مزاحمتی تحریک کے عظیم الشان
مارچ
عام انتخابات: 3 ہزار 200 سے زائد امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد
?️ 2 جنوری 2024اسلام آباد:(سچ خبریں) آئندہ ماہ 8 فروری کو عام انتخابات کے انعقاد
جنوری
تل ابیب اور دمشق سیکورٹی معاہدہ؛ اسرائیل کے دروازے سے طاقت کی تلاش
?️ 23 ستمبر 2025سچ خبریں: جیسے جیسے تل ابیب اور دمشق کے سیکورٹی معاہدے پر
ستمبر
ٹرمپ کی جانب سے اسلحے کی کمی کے انکشافات کی تحقیقات کا حکم
?️ 7 اگست 2026سچ خبریں: وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے
اگست
اسرائیل کے مستقبل کی کوئی امید نہیں ہے: صہیونی تجزیہ نگار
?️ 31 دسمبر 2024سچ خبریں: اسرائیلی تجزیہ نگار عودیہ بشارت نے آج پیر کے روز
دسمبر