?️
سچ خبریں: علاقے کے اسٹریٹجک مسائل کے تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے شہید جنرل سید رضی موسوی کے قتل پر مبنی صیہونی کاروائی پر گفتگو کی ہے اور اس دہشت گردانہ جرم کے خلاف ایران کے ردعمل کا جائزہ لیا ہے۔
سینئر علاقائی تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے الیکٹرانک اخبار رائے الیوم میں اپنے حالیہ تجزیے میں لکھا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی پاسداران انقلاب سے وابستہ قدس فورس کے ممتاز کمانڈروں میں سے ایک سید رضی موسوی کو قتل کرنے کی صیہونی غاصبوں کی کارروائیی صیہونی حکومت کی طرف سے ایران کے چیلنج اور اشتعال میں اضافہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سید رضی کے قتل پر ایران کا ردعمل
اس تجزیے میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ سچ ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ایران کی کسی اہم فوجی شخصیت کو قتل کیا گیا ہو لیکن یہ قتل بالکل مختلف اور خاص وقت میں کیا گیا ہے اس لیے کہ اس وقت جب صیہونی حکومت غزہ کی پٹی اور دیگر فلسطینی علاقوں پر حملے کر رہی ہے۔
عطوان نے مزید کہا کہ اس جرم کے خلاف حکومت ایران کا واحد بہتریں آپشن یہ ہے کہ شہید سید رضی موسوی کی حد تک انتقامی کارروائی کی جائے، جس کے دو پیغام ہو سکتے ہیں۔
اول: اس سے مزاحمتی محور کے عناصر کو تسلی ملے گی اور ان کے حوصلے بلند ہوں گے۔
دوم: اور دوسرا یہ کہ صیہونی غاصبوں کے لیے یہ پیغام ہوگا کہ حکومت ایران کو مقبوضہ علاقوں کے اندر یا باہر مختلف علاقوں میں اپنے شہداء کا بدلہ لینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے۔
یہ انتقامی ردعمل 3 جنوری جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کی برسی کے موقع پر یا اس سے پہلے ہو سکتا ہے۔
خطے کے اسٹرٹیجک مسائل کے اس تجزیہ کار نے اس بات کو خارج از امکان نہیں سمجھا کہ جنرل موسوی کا قتل صیہونی حکومت کی طرف سے امریکہ کو ایران کے ساتھ جنگ میں گھسیٹنے اور پورے خطے کو بھڑکانے کی سازش تھی کیونکہ تل ابیب کو احساس تھا کہ وہ ناکام ہو چکا ہے۔
غزہ کی جنگ میں اور اس ناکامی کے نتیجے میں اس نے اپنا خوف، سلامتی اور استحکام کھو دیا ہے اور اسی وجہ سے وہ جنگ کا دائرہ وسیع کرنے اور ذمہ داری کا بوجھ امریکہ کے کندھوں پر ڈالنا چاہتا ہے۔
یہ اس تعطل سے چھٹکارا پانے اور چند سالوں تک اپنی بقا کو طول دینے کے قابل ہو سکتا ہے۔ لیکن ایسی جنگ کا نتیجہ امریکہ اور صیہونی حکومت کے لئے بھی تباہ کن ہو گا، خاص طور پر جب امریکہ یوکرین اور تل ابیب غزہ کی پٹی میں ناکام ہو چکا ہے۔
آخر میں عطوان نے تاکید کی کہ ہم اس بات کا امکان دور نہیں سمجھتے کہ جنرل موسوی کے قتل پر ایران کا ردعمل تباہ کن ہو کیونکہ یہ ایک کمانڈر کی شہادت کا بدلہ نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے دشمنوں بالخصوص امریکہ اور صیہونی حکومت کو خوفزدہ کرنے کے لیے نیز ایران کی عزت اور ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے ہے۔
مزید پڑھیں: عرب حکمرانوں کو فلسطینی عوام کے دفاع میں ایران سے سبق لینا چاہیے
یاد رہے کہ انتقام کی دھمکی اس ملک کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے دی ہے اور جیسا کہ ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے زور دے کر کہا ہے کہ اس انتقام کی الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے،شاید آنے والے دنوں میں جب ہم بیدار ہوں گے تو ہم ایرانیوں کے عظیم انتقام کا مشاہدہ کریں گے۔


مشہور خبریں۔
ایک تہائی صہیونی جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے نفسیاتی بحران کا شکار
?️ 24 دسمبر 2025سچ خبریں: 7 اکتوبر 2023 کو طوفان الاقصیٰ کارروائی کے جھٹکے اسرائیلی معاشرے
دسمبر
عمران خان کو جیل ٹرائل کے خلاف خصوصی عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
?️ 16 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے
اکتوبر
سعودی خلائی ادارے کا خلانوردی سے متعلق تربیت دینے کا فیصلہ
?️ 18 اگست 2021ریاض(سچ خبریں) سعودی خلائی ادارے نے خلانوردی سے متعلق تربیت نیا پروگرام
اگست
امریکی ایوان نمائندگان نے ٹرمپ کو وینزویلا پر حملہ کرنے کا اختیار دے دیا
?️ 18 دسمبر 2025سچ خبریں: امریکی ایوان نمائندگان میں دو بلوں کی منظوری کے لیے
دسمبر
وزیراعظم آزادکشمیر چودھری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع نہ ہوسکی
?️ 3 نومبر 2025مظفرآباد (سچ خبریں) وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر چودھری انوارالحق کے خلاف
نومبر
صیہونی حکومت مغربی زمین پر اپنی ملکیت کو مضبوط کرنے کی کوشش میں
?️ 21 فروری 2022سچ خبریں: عبرانی زبان کے ہفت روزہ کالکالسٹ نے انکشاف کیا ہے
فروری
ٹرمپ کو شکست دینے کے لیے میں بہترین آپشن ہوں: بائیڈن
?️ 10 جولائی 2024سچ خبریں: امریکی صدر نے ایک بار پھر اعلان کیا کہ ان
جولائی
عراق میں بدامنی پر بیرونی ممالک کو تشویش کا اظہار
?️ 30 اگست 2022سچ خبریں: عراق میں صدر تحریک کی حمایت کرنے والے اور ملکی
اگست