?️
انقرہ سے واشنگٹن تک، احمد الشرع کی خارجہ پالیسی کا تجزیہ
شام کے نو منتخب حکمران احمد الشرع المعروف "ابو محمد الجولانی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد خارجہ پالیسی کے میدان میں جو راہ اختیار کی ہے، وہ ابتدا میں ترکی اور عرب دنیا پر انحصار سے شروع ہو کر امریکہ کے گرد مرکوز ہو چکی ہے۔ یہ پالیسی تین نمایاں مراحل پر مشتمل ہے، جن میں ہر ایک کا تعلق مخصوص داخلی اور علاقائی تقاضوں سے ہے۔
ابتدائی ایام میں الشرع نے ترکی کے ساتھ اپنے پرانے تعلقات کی بنیاد پر انقرہ کو اولین شراکت دار چنا، جبکہ خلیجی ممالک کے ساتھ روابط کو مالی معاونت اور عرب دنیا میں پذیرائی حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا۔ ان کا خیال تھا کہ ترکی کے تعاون سے شمالی شام میں استحکام پیدا کیا جا سکتا ہے اور عرب ریاستوں کی مدد سے معاشی مشکلات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
خلیجی سرمایہ کار امریکی اجازت کے بغیر شام میں سرمایہ کاری سے انکار کرتے رہے، جس سے ظاہر ہوا کہ واشنگٹن کی منظوری کے بغیر کوئی معاشی امداد ممکن نہیں۔
ترکی نے نہ تو اپوزیشن ملیشیا جیش الوطنی کو تحلیل کیا، نہ ہی دمشق کی توقعات کے مطابق اقدامات کیے۔
امارات کی جانب سے نئی حکومت پر سیکولرزم کا دباؤ اور اسرائیلی حملوں نے پالیسی کو عدم توازن کا شکار کر دیا۔
دوسرا مرحلہ: توازن کی تلاش اور امریکہ کی طرف جھکاؤ (فروری تا مارچ 2025)
اس دور میں احمد الشرع نے ترکی پر انحصار کم کرتے ہوئے دیگر علاقائی قوتوں جیسے سعودی عرب، قطر اور امارات کے ساتھ توازن قائم کرنے کی کوشش کی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے داخلی اور خارجی اقدامات اٹھائے، جیسے امریکی حمایت یافتہ گروپوں کو شام میں گنجائش دینا یہ پالیسی اس بات کی عکاس تھی کہ الشرع اپنی حکومت کو صرف علاقائی حمایت سے نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی تسلیم کروانا چاہتے ہیں۔
تیسرا مرحلہ: امریکہ کی مرکزیت اور اسرائیل کے ساتھ قربت (اپریل 2025 سے جاری)
جون 2025 سے ایک نیا موڑ آیا، جب واشنگٹن نے "ٹام باراک” کو شام کے امور پر اپنا نمائندہ مقرر کیا۔ اس کے بعد دمشق اور واشنگٹن کے تعلقات میں گرمجوشی آ گئی۔ اہم اقدامات میں شامل ہیں:امریکی پابندیوں کا جزوی خاتمہ, گروہوں کو دہشتگرد فہرست سے نکالنا,ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی خواہش,اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی مذاکرات
یہ تبدیلی ظاہر کرتی ہے کہ الشرع اب عالمی برادری خصوصاً مغربی طاقتوں کے ساتھ ہم آہنگی کی راہ پر گامزن ہیں، تاکہ اپنی حکومت کی قانونی حیثیت اور بقا کو یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم، اس پالیسی کے نتیجے میں ایران اور روس جیسے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں تناؤ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
حتمی تجزیہ: ایک باغی سے حقیقت پسند حکمران تک
احمد الشرع کی خارجہ پالیسی میں آنے والی تبدیلیاں ان کے عملی مزاج اور سیاسی بقا کی ترجیحات کو واضح کرتی ہیں۔ ایک زمانے میں جو شخص سخت گیر نظریات کا حامل باغی رہنما تھا، آج وہ امریکہ کی سرپرستی میں علاقائی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ پالیسی اگرچہ کچھ وقتی فوائد دے رہی ہے، لیکن طویل المدت میں اندرونی ہم آہنگی، خودمختاری، اور خطے میں پرانے اتحادیوں کے ردِعمل جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔


مشہور خبریں۔
امریکہ روسی گیس کے متبادل کو بڑھانے کی کوشش میں
?️ 10 ستمبر 2022سچ خبریں: وائٹ ہاؤس نے جمعہ کو دیر گئے کہا کہ واشنگٹن توانائی
ستمبر
سعودی عرب اور امارات کو یمن پر اجلاس منعقد کرنے کا کوئی حق نہیں: صنعا
?️ 16 مارچ 2022سچ خبریں: خلیج تعاون کونسل کے بعض عرب حکام نے منگل کو
مارچ
حاج قاسم سلیمانی کی تصویر سوشل نیٹ ورکس سے کیوں ہٹا دی گئی؟
?️ 5 جنوری 2022سچ خبریں: فیس بک کی بلیک لسٹ کی تشکیل کے حوالے سے
جنوری
سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کا آغاز
?️ 11 اپریل 2023سچ خبریں:سعودی عرب اور ترکی نے سیاسی مذاکرات کا نیا دور شروع
اپریل
عمران خان کی پیشکش مسترد، حکومت کا اکتوبر 2023 سے قبل انتخابات کرانے سے انکار
?️ 3 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران
دسمبر
اسرائیل میں تازہ ترین رائے شماری کا تجزیہ نیتن یاہو اقتدار میں آنے سے مایوس
?️ 9 اکتوبر 2021سچ خبریں:صہیونی حکومت کے پارلیمانی نظام کے مطابق ہر پارٹی جتنی نشستیں
اکتوبر
نوازشریف سے ہونیوالے ظلم کی قیمت پاکستانی قوم مدتوں ادا کریگی۔ خواجہ آصف
?️ 31 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ نواز
دسمبر
لبنان کی حزب اللہ کا نیا شاہکار
?️ 10 جون 2024سچ خبریں: 7 اکتوبر 2023 کےالاقصیٰ طوفان آپریشن کو روکنے میں اسرائیل کی
جون