افغانستان میں داعش کے 50 ارکان کی خود سپردگی

داعش

?️

سچ خبریں:طالبان کے انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں داعش تکفیری گروہ کے 50 ارکان نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔
مغربی افغانستان نیوز ایجنسی نے پیر کے روز طالبان کے انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی کہ افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں داعش تکفیری گروہ کے 50 ارکان نے ہتھیار ڈال دیے ہیں،تاہم ہتھیار ڈالنے والے افراد جنہوں نے اپنے ماضی پر پشیمانی کا اظہار کیا ہے طالبان رہنما ملاہیبت اللہ اخوندزادہ نے انہیں معاف کر دیا ہے۔

طالبان نے کہا ہے کہ اگر یہ لوگ مستقبل میں جرائم کرتے ہیں تو ان سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا، واضح رہے کہ افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کو تکفیری گروہ داعش کے مرکز اور ابھرنے کا مرکز کہا جاتا ہے، تاہم یہاں بہت سارے داعشی پہلےبھی طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال چکے ہیں۔

یادرہے کہ طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد داعش نے اس ملک میں متعدد مساجد اور مسافر گاڑیوں پر مہلک حملے کیے ہیں جس میں سینکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ داعش دہشت گرد گروہ نے اگست میں افغانستان سے امریکی انخلاء کے آخری دنوں میں کابل کے ہوائی اڈے پر دہشت گردانہ حملہ بھی کیا تھا، جس میں 12 امریکی فوجیوں سمیت 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

 

مشہور خبریں۔

ہندوستان کا امریکی حملوں پر اعتراض

?️ 13 جون 2026سچ خبریں: الجزیرہ نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان نے گزشتہ روز

وزیر اعظم نے ٹیلیفوں پر مصر کے صدر سے فلسطین کے مسئلے پر تبادلہ خیال کیا

?️ 27 مئی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق

ٹرمپ کا ہیرس پر پھر حملہ 

?️ 13 اگست 2024سچ خبریں: امریکہ کے 2024 کے صدارتی انتخابات میں سابق صدر اور

مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی گرفتاری پر پاکستان کا شدید ردعمل

?️ 11 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں)مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی گرفتاری پر پاکستان نے

سڈنی حملے میں موساد کے ملوث ہونے کا خدشہ

?️ 16 دسمبر 2025 سڈنی حملے میں موساد کے ملوث ہونے کا خدشہ عرب دنیا

کیا سابق عراقی وزیراعظم کو بھی جیل کی ہوا کھانا پڑے گی؟

?️ 18 اگست 2023سچ خبریں: عراق کی شفافیت کمیٹی نے تین اعلیٰ اداروں کو الگ

پاکستان بار کونسل کی عدالت عظمیٰ کے جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت دائر

?️ 11 مارچ 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان بار کونسل  نے سپریم جوڈیشل کونسل میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے