اسرائیل کا ریڈ کراس کو فلسطینی قیدیوں سے ملنے سے روکنا جنگی جرم ہے

 اسرائیل کا صلیبِ سرخ کو فلسطینی قیدیوں سے ملنے سے روکنا جنگی جرم ہے

?️

 اسرائیل کا ریڈ کراس کو فلسطینی قیدیوں سے ملنے سے روکنا جنگی جرم ہے
اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی قانون کے ماہر ڈاکٹر محمد محمود مہران نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے عالمی ادارۂ صلیبِ سرخ کے نمائندوں کو فلسطینی قیدیوں سے ملاقات سے روکنا جنگی جرم اور جنیوا کنونشنز کی واضح خلاف ورزی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیرِ جنگ یسرائیل کاتس کا یہ فیصلہ بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے، کیونکہ جنیوا کنونشنز کے تحت صلیبِ سرخ کو تمام جنگی قیدیوں اور زیرِ حراست افراد سے ملاقات کا حق حاصل ہے۔
مہران نے وضاحت کی کہ جنیوا کنونشن کی دفعہ 126 جنگی قیدیوں سے ملاقات کا حق دیتی ہے، جبکہ دفعہ 143 عام شہری قیدیوں کے لیے یہی حق تسلیم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا، "یہ ملاقاتیں کوئی رعایت نہیں بلکہ ایک قانونی حق ہیں جنہیں کسی بھی وجہ سے ختم یا محدود نہیں کیا جا سکتا۔”
اسرائیل کا یہ دعویٰ کہ یہ ملاقاتیں اس کی سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں، ان کے مطابق "بے بنیاد اور قانونی طور پر ناقابلِ قبول” ہے، کیونکہ جنیوا کنونشنز میں ایسی کوئی رعایت موجود نہیں۔
ڈاکٹر مہران نے کہا کہ صلیبِ سرخ کے نمائندے مکمل غیر جانب داری اور رازداری کے اصولوں پر کام کرتے ہیں اور ان کا 150 سال سے زیادہ کا ریکارڈ ان کی پیشہ ورانہ ساکھ ثابت کرتا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اسرائیل کا اصل مقصد قیدیوں پر ہونے والی تشدد، ظلم اور غیر انسانی سلوک کو چھپانا ہے۔ ان کے مطابق یہ پابندی جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی ہے اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے آرٹیکل 8 کے مطابق یہ ایک جنگی جرم ہے۔
ڈاکٹر مہران نے بین الاقوامی برادری اور خود صلیبِ سرخ کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف سخت موقف اختیار کریں اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف اور انسانی حقوق کونسل میں فوری شکایت درج کرائیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل جان بوجھ کر بین الاقوامی قوانین کو پامال کر رہا ہے، تاکہ فلسطینی قیدیوں کے ساتھ کیے جانے والے ظالمانہ رویوں، طبی سہولتوں کی کمی، اور اذیت ناک حراستی حالات کو چھپایا جا سکے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیرِ جنگ یسرائیل کاتس نے بدھ کے روز ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس کے تحت صلیبِ سرخ کے نمائندوں کو فلسطینی قیدیوں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس فیصلے میں ان قیدیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جو اسرائیل کی "سده تیمان” نامی جیل میں قید ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام اسرائیل کے خلاف عالمی سطح پر شدید ردِعمل اور ممکنہ پابندیوں کا باعث بن سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

امریکی ایوان نمائندگان نے شام کے خلاف سیزر ایکٹ کی پابندیاں منسوخ کیں

?️ 11 دسمبر 2025 سچ خبریں: امریکی ایوانِ نمائندگان نے مالی سال 2026 کے لیے قریب

شمالی غزہ میں مہاجرین کی واپسی فلسطینی قوم کی فتح ہے:حماس

?️ 27 جنوری 2025سچ خبریں:اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے شمالی غزہ میں فلسطینی مہاجرین کی

یومِ تکبیر پاکستان کی عظمت، خودداری اور دفاعی خودمختاری کا دن ہے۔ مشعال ملک

?️ 28 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک

جزیرہ نما کوریا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی؛ سیول اور واشنگٹن نے 20 جنگجوؤں کو اڑایا

?️ 7 جون 2022سچ خبریں:   جبکہ نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین نے دھمکی آمیز پیغام

صعدہ جیل اور سعودی اتحاد کا دن دہاڑے جھوٹ

?️ 24 جنوری 2022سچ خبریں:  سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے اتحاد نے جمعہ

اسرائیل ایران کے ردعمل کے ڈراؤنے خواب میں جی رہا ہے

?️ 19 اگست 2025سچ خبریں: عبرانی زبان کے ذرائع ابلاغ کی رپورٹس پر نظر ڈالیں

جعفر ایکسپریس حملہ: سیکیورٹی فورسز نے 190 مسافر بازیاب کرالیے، 30 دہشت گرد ہلاک

?️ 12 مارچ 2025کوئٹہ: (سچ خبریں) بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد سیکیورٹی

رام اللہ میں صہیونی چوکی پر فائرنگ

?️ 6 نومبر 2021سچ خبریں: خبر رساں ذرائع نے بتایا ہے کہ مغربی کنارے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے