اسرائیلی فوج میں بڑھتا ہوا بحران؛ سینکڑوں افسران مستعفی 

اسرائیلی فوج

?️

اسرائیلی فوج میں بڑھتا ہوا بحران، سینکڑوں افسران مستعفی
 اسرائیلی فوج کو پیشہ ور افرادی قوت کے سنگین بحران کا سامنا ہے جہاں سینکڑوں سینئر افسران جنگ کے دوران زخمی ہو کر فعال خدمت سے باہر ہو چکے ہیں، جبکہ میجر اور لیفٹیننٹ کرنل کے عہدوں پر استعفوں کی لہر میں تیزی آ گئی ہے۔ اس صورتحال کو قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی اخبار اسرائیل هیوم کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ پیشہ ور فوجی عملے کا بحران اب محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹینک اور جنگی طیارے اکیلے جنگ نہیں جیت سکتے، بلکہ فیصلہ کن کردار تربیت یافتہ افسران اور اہلکار ادا کرتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے اختتام تک 543 میجرز نے رضاکارانہ طور پر فوج چھوڑ دی، جب کہ 2024 میں یہ تعداد 550 اور 2023 میں 428 تھی۔ اس سے قبل 2022 میں 609 میجرز مستعفی ہوئے تھے۔ اسی طرح 2024 اور 2025 میں ہر سال تقریباً 4100 کیپٹن عہدے کے افسران نے بھی ملازمت ترک کی۔
لیفٹیننٹ کرنل کے درجے میں بھی استعفوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جہاں 2023 سے 2024 کے درمیان 30 فیصد اور اس کے بعد مزید 50 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق بڑی تعداد میں کمانڈر محاذ پر زخمی ہوئے اور کئی دوبارہ خدمات انجام دینے کے قابل نہیں رہے۔ جبکہ جو افسران جسمانی طور پر محفوظ رہے، وہ دو سال کی شدید لڑائی کے بعد شدید ذہنی و جسمانی تھکن کا شکار ہیں۔ فوج نے بعض کو آرام دینے کے لیے تعلیمی کورسز یا کم دباؤ والی ذمہ داریوں پر منتقل کیا ہے۔
سات اکتوبر کے بعد کی صورتحال نے فوج کو نئی یونٹس قائم کرنے اور پرانی بند کی گئی یونٹس کو بحال کرنے پر مجبور کیا۔ جنگ سے پہلے پیشہ ور فوجیوں کی تعداد 40 ہزار سے کچھ زیادہ تھی جو اب بڑھ کر تقریباً 50 ہزار ہو گئی ہے۔ اس توسیع میں تقریباً 600 نئے سینئر افسران کے عہدے اور 500 نئے نان کمیشنڈ آفیسرز کی اسامیاں شامل ہیں۔
افسران کی بڑی تعداد میں رخصتی اور فوجی ڈھانچے کی توسیع کے باعث ہر عہدے کے لیے امیدواروں کی شرح کم ہوتی جا رہی ہے۔ بعض مناصب کے لیے صرف ایک امیدوار دستیاب ہوتا ہے۔ چار سال قبل 400 لیفٹیننٹ کرنل کی اسامیوں کے لیے تقریباً 800 امیدوار ہوتے تھے، جبکہ اب اتنی ہی اسامیوں کے لیے صرف 500 امیدوار دستیاب ہیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ قبل از وقت ترقیوں کے باعث افسران مکمل تیاری کے بغیر اعلیٰ ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں، جس سے طویل المدتی پیشہ ورانہ معیار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

مشہور خبریں۔

امریکی سفارت کار کی ایران سعودی معاہدے کو بگاڑنے کرنے کی کوشش

?️ 13 مئی 2023سچ خبریں:یمن میں امریکی نمائندے نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران سعودی

روس اور امریکہ کے درمیان مذاکرات؛ موضوع کیا ہے؟ ٹرمپ کیا کہتے ہیں؟

?️ 19 اکتوبر 2025سچ خبریں:روس اور امریکہ کے درمیان آبنائے بیرنگ کے نیچے 100  کلومیٹر

امریکہ اور اسرائیل کے خلاف روس کا تازہ ترین موقف

?️ 6 اکتوبر 2024سچ خبریں: روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے امریکہ پر اسرائیل کو

ٹرمپ نے ماسک کی تعرفات ختم کرنے کی اپیل پر کان نہیں دھرے:واشنگٹن پوسٹ

?️ 8 اپریل 2025سچ خبریں:امریکی ارب پتی اور پروڈکٹیویٹی وزیر ایلون ماسک نے حالیہ دنوں

کیا جرمنی میں جبری بھرتی کا قانونی واپس آرہا ہے

?️ 9 دسمبر 2025کیا جرمنی میں جبری بھرتی کا قانونی واپس آرہا ہے جرمنی کے

جب تک پارٹی قیادت چاہے گی عہدے پر رہوں گا: وزیر اعلیٰ سندھ

?️ 30 جون 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سندھ میں تبدیلی

شمالی کوریا کے یورینیم کے بڑھتے ذخیرے پر سیول کی رپورٹ 

?️ 5 اکتوبر 2025سچ خبریں: شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اون نے زور دے

شہید امام خامنہ ای نے امت اسلامی کی فتح کا روڈ میپ تیار کیا

?️ 10 جولائی 2026سچ خبریں: لبنانی اخبار البناء نے خداحافظ اے شہید امت اور جاوداں چراغِ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے