اسرائیل،مصر گیس معاہدے کی تاخیر سے قطر نے موقع سے فائدہ اٹھایا

گیس معاہدہ

?️

 اسرائیل،مصر گیس معاہدے کی تاخیر سے قطر نے موقع سے فائدہ اٹھایا

قاہرہ اور تل‌آویو کے بگڑتے ہوئے تعلقات کے بیچ ایک صیہونی میڈیا ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ قطر اسرائیل کی جانب سے تین ماہ کی تاخیر کے بعد مصر کے ساتھ ہونے والے بڑے گیس معاہدے کو فائدے کے لیے استعمال کر رہا ہے اور قاہرہ کو اسرائیل کی جگہ گیس فراہم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسرائیلی ویب سائٹ گلوبس نے اعلیٰ اسرائیلی اور مصری ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ قطر اس تاخیر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مصر کو پیشکش کر رہا ہے کہ وہ مطلوبہ مقدار میں مائع قدرتی گیس فراہم کر سکتا ہے۔ اسرائیل نے اگست 2025 میں لیویاتان گیس فیلڈ سے مصر کو 130 ارب مکعب میٹر گیس کی فراہمی کا 35 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا تھا، مگر وزارتِ توانائی نے آخری مرحلے میں اجازت نامہ روک دیا۔ وجوہات میں 2040 کے بعد بھی لازمی طور پر برآمدات جاری رکھنے اور اسرائیلی منڈی کے لیے کم قیمت گیس کی فراہمی جیسے مطالبات شامل تھے، جس پر مصر نے سخت اعتراض کیا اور اسے سیاسی یرغمالی قرار دیا۔

اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہن اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ لیویاتان کے شریک ادارےامریکی کمپنی شیورون، نیومِڈ اور رتزیواس امر کی یقین دہانی کرائیں کہ اضافی گیس بیرونِ ملک مہنگے داموں فروخت کرنے کے بجائے پہلے اسرائیل کو کم قیمت پر فراہم کی جائے۔ یہی شرط معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن گئی ہے۔

ایک اسرائیلی عہدے دار نے گلوبس کو بتایا کہ قطر مصر کو پیشکش کر رہا ہے کہ جتنی گیس چاہیے ہم دیں گے جبکہ بنیامین نتانیاہو بارہا واشنگٹن اور قاہرہ کو یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ مسئلہ جلد حل ہوجائے گا، مگر تاخیر برقرار ہے۔ مصری حکام نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسرائیل اندرونی مسائل کی وجہ سے معاہدے کو روک رہا ہے تو قاہرہ قطر یا دیگر سپلائرز کی طرف جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہاکبی اور امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ اس بحران کو حل کرنے کے لیے مداخلت کر رہے ہیں، مگر امریکی وزیر توانائی کا طے شدہ دورہ بھی اسرائیل کی جانب سے آخری لمحے منظوری نہ دینے پر منسوخ ہوگیا۔

اس صورتحال نے لیویاتان فیلڈ کے سب سے بڑے شراکت دار شیورون کو بھی ناراض کر دیا ہے۔ کمپنی کے بعض اعلیٰ عہدے داروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر تاخیر جاری رہی تو اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری امریکہ، قزاقستان یا آسٹریلیا منتقل کی جا سکتی ہے۔

گلوبس نے لکھا کہ اگر یہ معاہدہ ناکام ہوا تو اسرائیل نہ صرف بھاری برآمدی آمدنی کھو بیٹھے گا بلکہ مصر جو شدید توانائی بحران سے نمٹ رہا ہےکے لیے مرکزی سپلائر کے طور پر اپنی اسٹریٹجک پوزیشن بھی قطر کے ہاتھوں کھو سکتا ہے۔

ابھی تک اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ وزارتِ توانائی کا کہنا ہے کہ فریقین کے درمیان مذاکرات جاری ہیں تاکہ ایسا حل تلاش کیا جا سکے جو اسرائیلی منڈی کی ضروریات کے ساتھ خطے کے دیگر ممالک کو برآمدات کا سلسلہ بھی برقرار رکھ سکے۔

ایرنا کے مطابق، نتانیاہو نے ستمبر 2025 سے مصر پر کیمپ ڈیوڈ معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں اور غزہ جنگ پر قاہرہ کے موقف کو جواز بنا کر اس معاہدے کی منظوری روک رکھی ہے، جس نے مصر کو توانائی کے متبادل ذرائع خصوصاً قطرکی طرف مزید جھکا دیا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان توانائی پر قائم باہمی انحصار کے ماڈل کو شدید چیلنج کیا ہے۔

مشہور خبریں۔

سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان تاریخی تعلقات کے اتار چڑھاؤ پر ایک نظر

?️ 21 نومبر 2025سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان تاریخی تعلقات کے اتار چڑھاؤ پر

بائیڈن جسمانی لحاظ سے دوبارہ صدر بننے کے قابل نہیں:وائٹ ہاؤس کے سابق ڈاکٹر

?️ 5 جون 2023سچ خبریں:وائٹ ہاؤس کے سابق ڈاکٹر نے کہا کہ موجودہ امریکی صدر

سعودی عرب پر حملے جاری رہیں گے:انصاراللہ

?️ 13 فروری 2021سچ خبریں:یمن کی انصاراللہ تحریک کے ترجمان نے کہا کہ یمنی فوج

حکومتی اتحاد میں اختلافات‘ پیپلزپارٹی کا اظہار ناراضگی

?️ 4 مئی 2022اسلام آباد(سچ خبریں) حکمران اتحاد کی دو سب سے بڑی شراکت دار مسلم

الجولانی حکومت اور شامی جمہوری کرد فورسز افواج کے درمیان شدید اختلافات  

?️ 7 اپریل 2025 سچ خبریں:مطلع ذرائع نے شام میں دہشت گرد حکومت الجولانی اور

امریکہ کی شام کو ایران سے الگ ہونے کی پیشکش اور دمشق کی مخالفت؛روئٹرز کا انکشاف

?️ 3 دسمبر 2024سچ خبریں:روئٹرز خبر رساں ایجنسی نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور

پی ڈی ایم والے 26 مارچ کو بے نقاب ہوجائیں گے:شیخ رشید 

?️ 24 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ

شام میں جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی: اقوام متحدہ میں سعودی ایلچی

?️ 18 دسمبر 2021سچ خبریں:اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب عبداللہ المعلمی نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے