آلاسکا اجلاس سے یوکرین تنازع کے فوری خاتمے کی توقع نہیں کی جا سکتی:روسی ماہرین

آلاسکا

?️

آلاسکا اجلاس سے یوکرین تنازع کے فوری خاتمے کی توقع نہیں کی جا سکتی:روسی ماہرین

روسی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے آلاسکا میں ہونے والی ولادیمیر پوتین اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کو مجموعی طور پر مثبت قرار دیا ہے لیکن اس پر زور دیا ہے کہ یوکرین تنازع کے فوری خاتمے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
یہ ملاقات، جو جمعے کی شب آلاسکا میں ہوئی، دونوں ممالک کے صدور کے درمیان ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد پہلی براہِ راست نشست تھی۔ اجلاس کا مقصد یوکرین جنگ کے حل اور ماسکو-واشنگٹن تعلقات کی بحالی تھا۔
کاخِ سفید اور کریملن دونوں نے اس مذاکرات کو "سفارتی پیش رفت” کہا، جبکہ یورپی رہنماؤں نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نشست سے سب سے زیادہ فائدہ روس کے صدر کو ہوا۔
روسی ماہر یوری بوروفسکی کے مطابق، ٹرمپ نے ملاقات کے دوران ماسکو کے سکیورٹی خدشات کو سننے اور بحران کے بنیادی اسباب پر بات کرنے کی آمادگی دکھائی، جو کہ بقول ان کے، سابق صدر جو بائیڈن سے مختلف رویہ ہے۔ بوروفسکی نے کہا کہ اگر یہ نشست مستقبل قریب میں پوتین اور یوکرینی صدر ولادیمیر زلنسکی کی براہِ راست ملاقات کی راہ ہموار کرے تو اسے بڑی کامیابی تصور کیا جا سکتا ہے۔
تجزیہ کار ماکسیم سوچکوف نے کہا کہ ٹرمپ کا یوکرینی صدر زلنسکی سے رابطہ اور انہیں روس کے ساتھ سمجھوتے پر آمادہ کرنے کی کوشش اس ملاقات کا سب سے اہم پہلو ہے۔ ان کے مطابق اب گیند زلنسکی اور یورپی ممالک کے کورٹ میں ہے کہ وہ کس حد تک جنگ کے خاتمے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
اکیڈمی آف سائنسز روس کے ماہر ولادیمیر باتیوک نے کہا کہ آلاسکا ملاقات نے دونوں ممالک کو قریب لایا ہے لیکن تنازعہ کے خاتمے کے لیے کئی مزید دور کے مذاکرات اور فوجی و سیاسی مسائل کا حل درکار ہے۔
والدائی کلب سے وابستہ دیمیتری سوسلوف نے کہا کہ بات چیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماسکو سنجیدگی سے بحران ختم کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ جنگ بدستور جاری ہے، لیکن آتش بس کے کئی نکات پر روس اور امریکہ کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہو گئی ہے۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب ٹرمپ نے اقتدار میں واپسی کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ وہ یوکرین جنگ کو 24 گھنٹے میں ختم کر سکتے ہیں۔ تاہم، یوکرینی صدر زلنسکی اس اجلاس میں موجود نہیں تھے۔ ملاقات کے بعد ٹرمپ نے زلنسکی اور متعدد یورپی رہنماؤں سے ٹیلی فون پر بات چیت کی، جس کے بعد زلنسکی نے اعلان کیا کہ وہ پیر کو واشنگٹن جا کر براہِ راست ٹرمپ سے تفصیلی بات کریں گے۔

مشہور خبریں۔

گوٹیرس نے جنگ بندی اور یمنی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کو دوبارہ کھولنے کا کیا مطالبہ

?️ 22 جنوری 2022سچ خبریں:  یمن پر سعودی اتحاد کے حملوں کے انتھونی گوٹیرس نے

صیہونی نئی پناہ گاہ کی تلاش میں

?️ 18 مارچ 2022سچ خبریں:ایک اسرائیلی عہدہ دار یونانی جزائر خریدنے کی کوشش کر رہا

فلسطینیوں کے لیے پناہ گاہوں میں داخلہ ممنوع!

?️ 23 جون 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت کی نسل پرستانہ پالیسیوں نے مقامی فلسطینی باشندوں

کیا امریکی فوج عراق سے نکلیں گی؟

?️ 30 جنوری 2024سچ خبریں:عراق میں امریکی فوجی دستوں کی صورتحال اور اس ملک سے

نیٹو نے چین کو یورپی سلامتی کے لیے منظم چیلنج قرار دیا

?️ 30 جون 2022سچ خبریں:  نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن نیٹو نے چین کو یورپی سلامتی

آسٹریلیا میں طلبہ کا اسرائیل کے خلاف بائیکاٹ پر ریفرنڈم کا اعلان

?️ 21 اگست 2025آسٹریلیا میں طلبہ کا اسرائیل کے خلاف بائیکاٹ پر ریفرنڈم کا اعلان

صیہونی حملے کے بعد تہران کی صورتحال؛روسی تجزیہ کار کی زبانی

?️ 15 جون 2025 سچ خبریں:ماسکو کے روزنامہ کامرسانت نے تہران میں موجود روسی محقق

مصطفٰی نواز کھوکھر سینیٹ کی رکنیت سے مستعفی ہو گئے

?️ 10 نومبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) پیپلز پارٹی کے مصطفٰی نواز کھوکھر سینیٹ کی رکنیت سے مستعفی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے