اگر امریکہ اسرائیل کی فوجی امداد بند کر دے تو کیا ہوگا؟

فوجی امداد

?️

سچ خبریں:امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو ملنے والی سالانہ اربوں ڈالر کی فوجی امداد کی معطلی مشرق وسطیٰ کے سکیورٹی منظرنامے کو بدل سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے اسرائیل کی جنگی صلاحیت، لبنان میں کارروائیاں اور خطے میں طاقت کا توازن متاثر ہو سکتا ہے۔

ایران کے ساتھ امن معاہدے میں اسرائیل کو شامل کرنے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس کوئی یقینی حل موجود نہیں، تاہم وہ فوجی امداد کی معطلی کے دباؤ کو بطور مؤثر ذریعہ استعمال کر سکتے ہیں۔

ایسے وقت میں جب صیہونی حکام ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے ابتدائی معاہدے پر سخت تنقید کر رہے ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ان پر اعتراضات اٹھا رہے ہیں۔ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا: میں لبنان کے معاملے میں اسرائیل کے رویے سے مطمئن نہیں ہوں۔ اگر میں مداخلت نہ کرتا تو اسرائیل کافی پہلے ہی مشکلات کا شکار ہو چکا ہوتا۔

یہ بیانات ٹرمپ کے دور میں امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں موجود ایک اہم کمزوری کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اختلاف کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں، جبکہ ایران واضح کر چکا ہے کہ امن معاہدہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی کارروائیاں بند کرے۔

اس ہفتے منظر عام پر آنے والی امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت میں بھی مبینہ طور پر واضح کیا گیا ہے کہ لبنان کی جنگ کا خاتمہ ایک وسیع تر معاہدے کا حصہ ہونا چاہیے۔

دوسری جانب صہیونی حکومت کا مؤقف ہے کہ اس کے مفادات حزب اللہ اور ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے میں پوشیدہ ہیں اور وہ ایسے کسی معاہدے کی پابند نہیں ہوگی جو صرف تہران اور واشنگٹن کے درمیان طے پایا ہو۔

ان متضاد مؤقفوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ تینوں فریقوں میں سے کوئی ایک ناخوشگوار سمجھوتہ قبول کرے۔ دوسرے الفاظ میں اگر امریکہ اپنی خواہش پوری کرنا چاہتا ہے تو اسے وہ کام کرنا ہوگا جس سے وہ طویل عرصے سے گریز کرتا آیا ہے، یعنی اسرائیل کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنا اور اس مقصد کے لیے اپنے وسیع اثر و رسوخ کا استعمال کرنا، جس میں اسرائیل کو سالانہ تقریباً چار ارب ڈالر کی فوجی امداد بھی شامل ہے۔

فی الحال اس بات کے بہت کم آثار ہیں کہ ٹرمپ ایسا قدم اٹھانے پر آمادہ ہیں، لیکن اسرائیل کو اسلحہ فروخت بند کرنے کے حق میں بڑھتی ہوئی عوامی حمایت کے پیش نظر یہ سوال اہم ہو گیا ہے کہ اگر امریکہ اپنی تمام فوجی امداد روک دے تو کیا نتائج سامنے آئیں گے؟

لبنان میں ممکنہ اثرات

فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی امداد کی معطلی اسرائیل کی لبنان میں کارروائیوں کی رفتار کو کم کر سکتی ہے، تاہم یہ جنگ فوری طور پر ختم نہیں ہوگی۔

اس کا سب سے فوری اثر اسرائیل کے جنگی طیاروں کے بیڑے پر پڑے گا، کیونکہ ان کی دیکھ بھال اور پرزہ جات بڑی حد تک امریکی دفاعی کمپنیوں پر منحصر ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ میں اسلحہ منتقلی کے شعبے سے وابستہ رہنے والے جوش پاول کے مطابق اسرائیل کے ایف۔35 طیارے ممکنہ طور پر اضافی پرزہ جات کے بغیر ایک یا دو ماہ سے زیادہ مؤثر انداز میں کام نہیں کر سکیں گے۔

اسرائیل کے پاس فضاء سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام کے لیے کچھ ذخائر موجود ہیں، جس کے باعث وہ مختصر اور درمیانی مدت تک اپنی جنگی سرگرمیاں جاری رکھ سکتا ہے، تاہم چونکہ ان ہتھیاروں کا بڑا حصہ امریکہ میں تیار ہوتا ہے، اس لیے اسرائیل کو جلد ہی یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ وہ اپنی فوجی صلاحیتوں کو کس محاذ پر مرکوز رکھے۔

اسرائیل کے حامی تجزیہ کار بھی اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔ ان کے مطابق اگر اسرائیل طویل المدت اور بیک وقت متعدد محاذوں پر جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے تو اسے اپنی دفاعی صنعت کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔

سات اکتوبر کے بعد امریکی امداد

سات اکتوبر کے واقعات کے بعد امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو فراہم کی جانے والی امداد اس انحصار کو واضح کرتی ہے۔

گزشتہ تین برسوں کے دوران امریکہ نے اسرائیل کو سالانہ 3.8 ارب ڈالر کی مستقل امداد کے علاوہ تقریباً 12.5 ارب ڈالر کی اضافی فوجی امداد بھی فراہم کی ہے۔

اس امداد میں تقریباً 90 ہزار ٹن فوجی سازوسامان اور گولہ بارود شامل ہے، جسے صیہونی وزارت جنگ نے اپنی عملی تیاریوں کا ایک اہم جزو قرار دیا ہے۔

اسی تیز رفتار فوجی سپورٹ اور امریکی فوج کی براہ راست معاونت نے اسرائیل کو غزہ، لبنان اور ایران کے خلاف بیک وقت وسیع فوجی مہمات چلانے کے قابل بنایا۔

امریکی دباؤ کی طاقت

کیٹو انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ جان ہوفمین کا کہنا ہے کہ صرف امداد بند کرنے کی دھمکی بھی اسرائیل کو واضح پیغام دے سکتی ہے کہ اب اسے سابقہ امریکی تحفظ حاصل نہیں رہے گا، اور یہی بات اس کے تزویراتی حساب کتاب کو بنیادی طور پر تبدیل کر سکتی ہے۔

ان کے مطابق صیہونی افواج امریکی امداد کے بغیر بھی اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھ سکتی ہیں، لیکن خطے میں اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے لیے وہ امریکی تعاون پر انحصار کرتی ہیں۔

اسرائیل کی ترجیحات اس بات پر منحصر ہوں گی کہ امریکہ امداد میں کمی کے معاملے میں کتنی دور تک جانے کے لیے تیار ہے۔

اگر واشنگٹن یہ اعلان کر دے کہ وہ ایران کے ممکنہ حملوں کے خلاف اسرائیل کا دفاع نہیں کرے گا تو صیہونی پالیسی سازوں کو ایران اور حزب اللہ کے خلاف تنہا جنگ لڑنے کے امکانات پر سنجیدگی سے غور کرنا پڑے گا، خصوصاً ایسے وقت میں جب اس کے میزائل شکن ذخائر میں کمی کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

ایسی صورت حال میں وہ یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ لبنان میں جنگ جاری رکھنا خطرے کے قابل نہیں۔

سفارتی حمایت کی اہمیت

امریکی سفارتی حمایت بھی اسرائیل کے لیے ایک اہم حفاظتی ڈھال ہے۔

اس حمایت کے بغیر تل ابیب کو اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں میں شدید تنقید اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ اسے اپنے اقدامات کے دفاع کے لیے محدود سفارتی سہارا حاصل ہوگا۔

امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کا مستقبل

اس تجزیے کے مطابق امریکی امداد کی معطلی اسرائیل کو اپنی توجہ بیرونی جنگوں کے بجائے داخلی دفاع اور غزہ و مغربی کنارے پر کنٹرول برقرار رکھنے پر مرکوز کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔

اسی خطرے کو محسوس کرتے ہوئے صیہونی حکام اور ان کے حامی حلقے واشنگٹن میں اپنے اثر و رسوخ کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ دونوں ممالک کے دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون کو مزید گہرا کیا جا سکے۔

اس کے باوجود ٹرمپ کے پاس اب بھی یہ موقع موجود ہے کہ وہ ایران کے ساتھ امن معاہدے اور لبنان میں جنگ کے خاتمے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالیں۔ وہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان متوقع نئے مفاہمتی معاہدے پر سخت مؤقف اختیار کر سکتے ہیں، جو ممکنہ طور پر آئندہ ایک دہائی تک صیہونی فوج کے لیے مالی معاونت کی ضمانت فراہم کرے گا۔

اگرچہ ٹرمپ کے پاس اسرائیل کو ایران کے ساتھ امن عمل میں شامل کرنے کا کوئی یقینی نسخہ موجود نہیں، لیکن ان کے پاس ایک انتہائی طاقتور دباؤ کا ذریعہ ضرور موجود ہے، بشرطیکہ وہ اسے استعمال کرنے کا فیصلہ کریں۔

مشہور خبریں۔

برطانیہ کا طالبان حکومت کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان

?️ 4 ستمبر 2021سچ خبریں:برطانیہ کے وزیرخارجہ نے اعلان کیا ہے ان کا ملک طالبان

یمن سب سے بڑی انسانی تباہی تک پہنچ چکاہے:الحوثی

?️ 30 جنوری 2021سچ خبریں:یمنی سپریم پولیٹیکل کونسل کے ممبر  نے اس ملک میں انسانی

25 مئی کے پرتشدد واقعات میں رانا ثنا اللہ اور عطا تارڑ کو تفتیش میں شامل کیا جا رہا ہے .فواد چوہدری

?️ 13 اگست 2022لاہور: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر

سعودی عرب کی ترقی کے لیے بن سلمان کے منصوبوں کی کامیابی

?️ 16 نومبر 2021سچ خبریں:امریکہ ایک بار پھر سعودی عرب کو لوٹنے کی راہ پر

شہباز گل ضمانت پر رہا

?️ 15 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)اسلام آباد ہائی کورٹ نے بغاوت کے مقدمے میں

یمن کے متعد علاقوں پر سعودی اتحاد کی وحشیانہ بمباری

?️ 21 فروری 2022سچ خبریں:سعودی اتحاد نے یمن کے صوبوں الذمار اور حضرموت کے شہری

مصری خفیہ ایجنسی کے سربراہ وزارت خارجہ سے بھی اوپر

?️ 25 جون 2021سچ خبریں:مصر کے انٹلی جنس چیف نے حال ہی میں مصر کی

امریکی فوج کے سربراہ نے افغانستان پر طالبان کے قبضے کے حوالے سے اہم دعویٰ کردیا

?️ 22 جولائی 2021واشنگٹن (سچ خبریں) امریکی فوج کے سربراہ جنرل مارک ملی نے افغانستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے