صیہونی فوج کے ویترین کے پیچھے کیا ہو رہا ہے؟

صیہونی

?️

سچ خبریں:صیہونی فوج، جو کبھی صہیونی ریاست کی سب سے مضبوط اور متحد ستون سمجھی جاتی تھی، آج ایسے حالات سے دوچار ہے جنہیں بعض ماہرین وجودی بحران (Existential Crisis) قرار دے رہے ہیں۔

میڈیا پروپیگنڈے کے ذریعے صیہونی فوج خود کو خطے کی سب سے طاقتور عسکری قوت کے طور پر پیش کرتی ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں اور یہ فوج واضح طور پر سنگین اور ہمہ جہت چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ کے خلاف اسرائیلی دہشت گردی کے اثرات، صہیونی فوج میں شدید اختلافات پیدا ہوگئے

ایران کے مقابلے میں عدم آمادگی اور دفاعی کمزوریاں

حال ہی میں صہیونی حکومت کے سابق وزیرِ جنگ آویگدور لیبرمن نے انکشاف کیا کہ وہ متعدد مرتبہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو ایران کے ممکنہ حملے کے مقابل صیہونی فوج کی عدم آمادگی سے آگاہ کر چکے ہیں، جس کی نیتن یاہو نے بھی تصدیق کی ہے۔
لیبرمن کے مطابق، ایران کے کسی بھی ممکنہ حملے کے سامنے لاکھوں صہیونی شہری بے یار و مددگار ہیں اور بارہ روزہ جنگ کے بعد سے اب تک دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے کوئی مؤثر اور قابلِ ذکر اقدام نہیں کیا گیا۔

ٹرمپ کی وارننگ اور تل ابیب کو لاحق خطرات

ان حالات کے تناظر میں، کئی تجزیہ نگار موجودہ صیہونی صورتحال کو ایران کے خلاف کسی بھی فوجی مہم کا کمزور ترین پہلو قرار دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی واضح طور پر کہا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کوئی عسکری کارروائی کی گئی تو اس کی قیمت نیتن یاہو کو چکانا پڑے گی۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق، ٹرمپ نے نیتن یاہو کو متنبہ کیا ہے کہ ایران پر کسی بھی حملے کی صورت میں تل ابیب شدید ایرانی میزائل حملوں کا ہدف بنے گا۔

غزہ، یمن اور لبنان میں ناکامیاں

ایران کے مقابل کمزوری کے علاوہ، صیہونی فوج گزشتہ دو برسوں میں نہ تو محصور غزہ کے عوام کو شکست دے سکی اور نہ ہی انصار اللہ یمن اور حزب اللہ لبنان کے خلاف اپنے اہداف حاصل کر پائی۔ ان ناکامیوں نے صیہونی فوج کی عسکری ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

تاریخ کا بدترین افرادی بحران

اس وقت صیہونی فوج ایک ایسے داخلی بحران سے دوچار ہے جو اس کی تاریخ میں سب سے گہرا افرادی بحران قرار دیا جا رہا ہے۔
مختلف اعداد و شمار، سکیورٹی رپورٹس اور خود صیہونی اعلیٰ حکام کے اعترافات کے مطابق، یہ بحران درج ذیل عوامل کا مجموعہ ہے:

  • کمانڈرز اور افسران کی شدید کمی
  • تجربہ کار افسران کا فوج چھوڑنا
  • فوجیوں میں حوصلے اور جذبے کی کمی
  • شدید ذہنی اور نفسیاتی تھکن
  • ریزرو فورسز کا بحران
  • فوجی خدمت پر گہرا سماجی اختلاف

یہ صورتحال محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ اس ساختی نظام کے تدریجی انہدام کی علامت ہے جس پر صیہونی فوج کی بنیاد رکھی گئی تھی۔

افسران کی کمی اور کمانڈ سسٹم کا بحران

عبرانی میڈیا میں شائع ہونے والی خفیہ رپورٹس کے مطابق، صیہونی فوج کو اس وقت:

  • تقریباً 1300 درمیانے درجے کے افسران
  • اور 300 سے زائد اعلیٰ کمانڈرز

کی کمی کا سامنا ہے۔ یہی افسران زمینی جنگی کارروائیوں کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں، اور ان کے فیصلے لمحوں میں کسی بھی آپریشن کا رخ بدل سکتے ہیں۔

ان افسران کی کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صیہونی فوج بیک وقت کئی محاذوں پر دباؤ میں ہے، جس سے فیصلہ سازی سست، انسانی غلطیوں کا امکان زیادہ اور جنگی خطرات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔

فوج کے پست حوصلے

اعدادی کمی سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو، فوج کے اندر خدمت جاری رکھنے کی شدید عدم رغبت ہے۔
مسلسل جنگوں، غیر واضح اہداف، سیاسی قیادت پر عدم اعتماد، معاشی مسائل اور ذہنی دباؤ نے فوجیوں کو اس نتیجے پر پہنچا دیا ہے کہ فوج میں رہنا بے فائدہ یا ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے۔

کبھی جسے مقدس خدمت اور قومی فریضہ کہا جاتا تھا، وہ تصور اب مایوسی، بددلی اور ذہنی تھکن میں بدل چکا ہے۔

ریزرو فورسز کا بحران

صیہونی فوج کا ایک اہم ستون ریزرو فورسز ہیں، مگر اب یہی شعبہ شدید بحران کا شکار ہے۔
بہت سے ریزرو فوجیوں نے دوبارہ خدمات انجام دینے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ ان کے اہلِ خانہ معاشی، نفسیاتی اور سماجی دباؤ کے خلاف کھل کر احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ احتجاج اب ایک بڑے سماجی چیلنج میں تبدیل ہو چکا ہے۔

حریدیوں کی فوجی معافی اور سماجی تقسیم

مذہبی یہودیوں (حریدیوں) کو فوجی خدمت سے مستثنیٰ رکھنے کا معاملہ صیہونی معاشرے میں گہرے عدم اعتماد اور غصے کا سبب بن چکا ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یہ اختلاف مزید بڑھ گیا ہے اور فوج، جو کبھی قومی وحدت کی علامت تھی، اب اختلاف کا مرکز بن چکی ہے۔

غزہ جنگ اور ناقابلِ شکست فوج کے بیانیے کا خاتمہ

غزہ کی جنگ نے اس بحران کو تیز کر دیا ہے۔ بھاری جانی نقصان، طویل جنگ، انٹیلی جنس ناکامیاں اور اہداف کے حصول میں ناکامی نے صیہونی فوج کے بارے میں قائم ناقابلِ شکست تصور کو مکمل طور پر منہدم کر دیا ہے۔

اسٹریٹجک اثرات اور مستقبل کا منظرنامہ

ماہرین کے مطابق، اگر یہ بحران جاری رہا تو:

  • اسرائیل کی دفاعی صلاحیت کمزور ہو جائے گی
  • علاقائی طاقتوں کے حساب کتاب بدل جائیں گے
  • امریکہ پر عسکری و انٹیلی جنس انحصار بڑھے گا
  • معاشرتی تقسیم اور ہجرت کے رجحانات میں اضافہ ہوگا

نتیجہ

مزید پڑھیں: فوج کی کمی پوری کرنے کے لیے صیہونیوں کا احمقانہ منصوبہ

آج صیہونی فوج میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض ایک وقتی یا انتظامی بحران نہیں بلکہ گہرے سماجی، سیاسی اور عسکری انہدام کی علامت ہے۔
وہ فوج جو کبھی اسرائیل کی سب سے مضبوط بنیاد تھی، اب خود ایک سنگین وجودی بحران کا شکار ہے، اور اس کی بحالی میں برسوں لگ سکتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

امریکی کانگریس میں ٹرمپ کا پہلا خطاب کیسا رہا؟

?️ 6 مارچ 2025سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کانگریس میں پہلا خطاب شدید تنازعات

 کیا مشیل اوباما 2024 کے انتخابات میں ٹرمپ کو شکست دے سکتی ہے؟

?️ 4 جولائی 2024سچ خبریں: سروے کے نتائج سے معلوم ہوا کہ زیادہ تر امریکی

صہیونیوں کی نظر میں عالمی برادری کی حیثیت

?️ 23 فروری 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت نے جو ان دنوں غزہ میں اپنے جرائم

فوج نے ایس او پیز پر عملدرآمد کروانے میں اہم کردار ادا کیا: اسد عمر

?️ 4 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) سربراہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنز سینٹر (این سی او

وزیر اعظم کا ایرانی صدر، دیگر حکومتی شخصیات کے المناک انتقال پرمنگل کے دن ملک بھر میں سوگ کا اعلان

?️ 21 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر

سعودی عرب کا مسئلہ فلسطین نہیں بلکہ امریکہ سے حفاظتی ضمانتیں لینا ہے:سابق امریکی عہدیدار

?️ 25 فروری 2023سچ خبریں:ایک سابق امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ سعودی عرب

 کیا امریکہ یوکرین کی جنگ کو ایک بڑے دلدل میں دھکیل رہا ہے؟ 

?️ 15 جون 2023سچ خبریں:واشنگٹن میں روس کے سفیر اناتولی انتونوف نے کہا کہ امریکہ

ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت ہیں : سعودی وزیر خارجہ

?️ 16 جولائی 2022سچ خبریں:   سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے کہا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے